علماء کے احترام کی حفاظت
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ مجھ کو اس کا تحمل نہیں کہ ایک بے جاہل کسی عالم پر اعتراض کرے یا اس کی اہانت کرے ـ بگھر ایک قصبہ ہے وہاں پر ایک جلسہ ہوا تھا علماء کے احترام کیلئے جلسہ گاہ کو سجایا گیا بلیونپر کپٹا مندھا گیا پنڈال بنایا گیا ـ بعض علماء دیوبند یہ حالت دیکھ کر وہاں کر وہاں سے واپس ہو گئے اتفاق سے اسی زمانہ میں مدرسہ دیوبند میں لا ٹوس صاحب لفٹنٹ گورنر آئے تھے وہاں ان کیلئے اسی قسم کا تکلف کیا گیا تھا ـ اس پر ایک صاحب نے میرے سامنے اعتراض کیا کہ اپنے لئے مولوی سب کچھ جائز کر لیتے ہیں اور دوسروں کیلئے نا جائز ـ میں نے کہا کہ اکرام ضیف کا اس کے مذاق کے موافق کیا جاتا ہے ـ سو وہاں ضیف تھا ایک دنیا دار اس کا احترام یہی تھا اور یہاں ضیف تھے علماء ، یہاں ان کا یہ احترام نہ تھا ـ تم کو بالکل فہم نہیں تم دونوں کو ایک ہی بات سمجھتے ہو دونوں میں بڑا فرق ہے ـ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ مجھ کو اس کا تحمل نہیں کہ ایک بے جاہل کسی عالم پر اعتراض کرے یا اس کی اہانت کرے ـ بگھر ایک قصبہ ہے وہاں پر ایک جلسہ ہوا تھا علماء کے احترام کیلئے جلسہ گاہ کو سجایا گیا بلیونپر کپٹا مندھا گیا پنڈال بنایا گیا ـ بعض علماء دیوبند یہ حالت دیکھ کر وہاں کر وہاں سے واپس ہو گئے اتفاق سے اسی زمانہ میں مدرسہ دیوبند میں لا ٹوس صاحب لفٹنٹ گورنر آئے تھے وہاں ان کیلئے اسی قسم کا تکلف کیا گیا تھا ـ اس پر ایک صاحب نے میرے سامنے اعتراض کیا کہ اپنے لئے مولوی سب کچھ جائز کر لیتے ہیں اور دوسروں کیلئے نا جائز ـ میں نے کہا کہ اکرام ضیف کا اس کے مذاق کے موافق کیا جاتا ہے ـ سو وہاں ضیف تھا ایک دنیا دار اس کا احترام یہی تھا اور یہاں ضیف تھے علماء ، یہاں ان کا یہ احترام نہ تھا ـ تم کو بالکل فہم نہیں تم دونوں کو ایک ہی بات سمجھتے ہو دونوں میں بڑا فرق ہے ـ
اس جواب کا منشاء زیادہ تر یہ تھا کہ عوام کو علماء پر اعتراض کرنے کی جرات نہ ہو ـ جن صاحب نے اعتراض کیا تھا ان سے یہ میری گفتگو تھی ـ میں نے یہ بھی کہا کہ میں اس کا اقرار کرتا ہوں کہ یہ میں نے اس نیت سے جواب نہیں دیا ہے کہ یہ اہتمام اچھا ہے متفق میں بھی ہوں تمہارے ساتھ ـ مگر نیت سے قطع نظر دیکھنا یہ ہے کہ جو وجہ میں نے بیان کی وہ صحیح ہے یہ یا نہیں ـ کہنے لگے کہ جی ہاں بے شک وجہ تو بالکل ٹھیک ہے ـ میں نے کہا کہ اصل منشاء اس جواب کا یہ ہے کہ علماء کا اعتقاد عوام کے قلب سے نہ نکلے کیونکہ اس اعتقاد کا کم ہو جانا بڑی خطرناک بات ہے اگر عوام کا عقیدہ علماء سے خراب ہو گیا تو پھر عوام کیلئے کوئی راہ ہی نہیں گمراہ ہو جائیں گے میں تو کہا کرتا ہوں کہ چاہے عالم بد عمل ہی کیوں نہ ہو مگر فتوی تو جب دیگا صحیح ہی دے گا ـ
