قیمتی اشیاء کے استعمال سے احتراز فرمایا ! کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ میں جوتا بھیجنا چاہتا ہوں جس کی قیمت دس روپیہ ہے اس پر فرمایا کہ دس روپیہ کی قیمت کا جوتا پہن کر ہمیشہ کے واسطے دماغ سڑ جائے گا اور اس میں ایک راز اور بھی ہے وہ یہ ہے کہ ہم جیسے طلبہ کو زیادہ فاخرہ لباس نہیں پہننا چاہئے ـ اور نہ شان وشوکت سے رہنا چاہیے ـ غریبوں کی طرح رہنا مناسب ہے اس لئے کہ ان کو سابقہ زیادہ تر غرباء ہی سے پڑتا ہے اور ایسی صورت میں رہنے سے ان پر ایک قسم کا رعب اور ہیبت ہوگی وہ استفادہ نہ کر سکیں گے اس لئے میں اس کا بھی خیال رکھتا ہوں ہاں یہ بھی نہ ہونا چاہئے کہ بالکل زدہ حالت میں رہیں جس سے کوئی صورت سوال خیال کرے اگر خدا دے تو اوسط درجہ میں اہل علم کو رہنا چاہئے خیر الامور اوسطہا کا عامل بن کر رہنا چاہئے ـ
