ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض حرکات سے نفرت تو نہیں ہوتی ہاں انقباض ہوتا ہے ایک صاحب کے جواب میں فرمایا کہ انقباض اور چیز ہے نفرت اور چیز ہے ایسے ہی امراء سے انقباض ہوتا ہے نفرت نہیں ہوتی میں جب کسی امیر کے پاس بیٹھتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کسی کو پنجرے میں بند کر دیا اور آج کل کے امراء تو اکثر متکبر ہوتے ہیں اور اہل دین کو نظر حقارت سے دیکھتے ہیں میں تو ہمیشہ علماء کو خصوص اہل مدارس کو مشورہ دیتا ہوں کہ ان سے چندہ نہ مانگو مگر یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ مدرسہ کا کام بدون چندہ چل نہیں سکتا میں کہتا ہوں کہ کوئی خاص حد مدرسہ کی واجب یا فرض ہے اس مقدار تک تو مدرسہ ہے ورنہ نہیں جب یہ نہیں تو قلیل آمدنی میں مدرسہ مختصر رکھو دوسرے جیسے مدرسہ آپ کے نزدیک ضروری چیز ہے ایسے ہی دین کی وقعت اور عظمت کی حفاظت بھی تو اس سے زیادہ ضروری ہونا چاہیے پھر مدرسہ کا کام تو غرباء سے بھی چل سکتا ہے چندہ غریبوں سے کر لو امیروں سے ہر گز نہ کرو مگر مصیبت تو یہ ہے کہ امیرانہ پیمانہ غریبوں کے چندہ سے کیسے کام چلے مگر اس کی بھی ایک صورت ہے وہ یہ کہ غرباء کی زیادہ تعداد وصول کرے مثلا ایک امیر سو روپیہ تنہا دیتا ہے وہ سو روپیہ سو غرباء سے لے لو نہ ہو سکے دو سو سے وصول کر لو باقی یہ خیال کہ کام نہ چلے گا محض خیال ہی خیال ہے خلوص کا کام نہیں رکا کرتا مگر ہر حال میں متکبر امراء کو تو منہ ہی نہ لگانا چاہئے مجھ کو تو علماء کے اس متعارف طرز سے دلی نفرت ہے مگر آج کل مدارس میں منجملہ اور کمالات کے ایک یہ بات بھی کمال میں داخل ہے کہ کسی مالدار دنیادار کو مسخر کر کے لایا جائے اس کا بھی نتیجہ سن لیجئے آنولہ کے ایک تاجر رئیس کو ایک مولوی صاحب مدرسہ دیوبند میں پھانس کر لائے اتفاق سے ان کے زمانہ قیام میں میں بھی دیوبند گیا ہوا تھا انہوں نے مہتمم صاحب کے واسطہ سے میرا بیان سننے کی خواہش کی مہتمم صاحب کے اصرار پر میں نے وعظ کہنا منظور کر لیا ہم لوگوں کا بیان ایک ہی ہوتا ہے ایک ہی سبق یاد ہے کہ اللہ سے تعلق پیدا کرو دنیا سے تعلق گھٹاؤ یہ وعظ ان رئیس صاحب نے سن کر کہا کہ میں ایسے مدرسہ کی خدمت نہیں کرنا چاہتا جس میں دنیا کے چھوڑ دینے کی تعلیم دی جاتی ہو باوجود اس کے کہ میں نے یہ بھی بیان کر دیا تھا کہ کسب دنیا مذموم نہیں ہے ، حب دنیا مذموم ہے کیونکہ کسب دنیا اور چیز ہے حب دنیا اور چیز ہے مگر اس تفصیل پر بھی خوش نہ ہوئے اور یہ کہا کہ مال دنیا کی مذمت کی جاتی ہے حالانکہ مال وہ چیز ہے کہ ہم داڑھی منڈے ہیں فاسق فاجر ہیں مگر اس کی بدولت بڑے بڑے علماء ہمارا احترام کرتے ہیں تعظیم کو کھڑے ہو جاتے ہیں اس قدر خر دماغ آدمی تھے میں تو اسی وجہ سے متکبرین کو منہ نہیں لگاتا کہ یہ دین اور اہل دین کو حقیر اور ذلیل سمجھتے ہیں ان کو یہ دکھلاتا ہوں کہ تم اگر خر دماغ ہو تو ملانوں میں بھی اسپ دماغ ہیں اور اکثر یہ مالدار ہوتے بھی ہیں بے عقل اور ان کا بے عقل ہونا خود ان کا اقراری ہے چنانچہ کہتے ہیں کہ سو روپیہ میں ایک بوتل کا نشہ ہوتا ہے اگر کسی کے پاس ہزار روپیہ ہے تو اس کو دس بوتلوں کا نشہ ہوا اتنے نشہ میں پھر عقل کا کیا کام اس اقراری لقب پر ایک اور قصہ یاد آیا ایک طالب علم کو کسی دنیادار نے مسجد کا مینڈھا کہا تھا اس نے کہا کہ دنیا کے کتوں سے تو پھر اچھے ہیں اس جواب میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ مسجد کا مینڈھا تو ان کا دعوی ہے جس میں دلیل کی ضرورت ہے اور دنیا کا کتا ہونا اقرار ہے جو خود دلیل ہے اب تو ان دنیا پرستوں کی بدتمیزی یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ایک شخص نے مجھ سے ایک ایسے امام کی نسبت جن کے اعضا قدرتی طور پر ناقص اور ضعیف تھے پوچھا تھا کہ کیا صحت امامت کے لئے امام کے ہاتھ پاؤں کا صحیح اور قوی ہونا بھی شرط ہے میں نے کہا کہ یہ شبہ کاہے سے ہوا کہنے لگے میں یہ سمجھا کہ جیسے قربانی میں شرط ہے شاید اس میں بھی شرط ہو یہ سوال محض تمسخر سے تھا میں نے تو ایک دنیا دار سے اس کا گھمنڈ توڑنے کے لئے کہا تھا کہ تم جو ہم مسکین طالب علموں کو اپنا محتاج سمجھتے ہو یہ محض ناحقیقت شناسی ہے حقیقت سنو کہ ایک چیز ہمارے احتیاج کی تمہارے پاس یعنی مال اور ایک چیز تمہارے احتیاج کی ہمارے پاس ہے یعنی دین مگر اتنا فرق ہے کہ جو چیز تمہارے پاس ہے وہ تو بقدر ضرورت بحمد اللہ ہمارے پاس بھی ہے اور جو چیز ہمارے پاس ہے وہ تمہارے پاس بقدر ضرورت بھی نہیں تو ہم تو عمر بھر بھی تم سے مستغنی رہ سکتے ہیں اور تم ایک منٹ بھی ہم سے مستغنی نہیں رہ سکتے سو آپ کے پاس تو آپ کے اس دعوی کی کہ اپنے کو محتاج الیہ کہتے ہو کوئی دلیل نہیں اور ہمارے پاس پمارے اس دعوی کی کہ تم کو اپنا محتاج کہیں دلیل ہے حاصل یہ کہ ہر مسلمان کو دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے بقدر ضرورت دنیا کی بھی اور آخرت کی بھی تو اس احتیاج باہمدگر دنیا میں تو ہم اور آپ دونوں شریک ہیں مگر اوپر کے تفاوت سے ہم تو تمہارے دروازہ سے ہمیشہ مستغنی رہ سکتے ہیں اور آپ ہمارے دروازہ سے ایک منٹ کے لئے بھی مستغنی نہیں ہو سکتے غرض مالداروں سے اس طرح رہنا چاہیے اور میں تو ایک اور بات کہا کرتا ہوں کہ خواہ کسی کے دل میں چاہے طمع ہی ہو مگر دین کی عزت سنبھالنے کے لئے علماء کو یہی طرز استغناء کا اختیار کرنا چاہیے گو ریاء ہی سے ہو ایک شخص بمبئی کے علاقہ کے یہاں پر آئے تھے چمڑے کی تجارت کرتے تھے انہوں نے مجھ کو کچھ ہدیہ دیا اس کے بعد مجھ سے ایک مسئلہ پوچھا میں نے بتلا دیا کہنے لگے کہ القاسم میں اس طرح لکھا ہے میں نے کہا کہ کیا میں دنیا بھر کا ذمہ دار ہوں اور میں نے کہا کہ اگر اس پر عقیدہ ہے تو پھر مجھ سے کیوں پوچھا اور اگر عقیدہ نہیں تو میرے بتلانے پر اسے کیوں پیش کیا اور میں نے ان کا وہ ہدیہ واپس کر دیا پس ہوش بجا ہو گئے ان کے دماغ اس طرح درست ہوتے ہیں مجذوبین کو دیکھ لیجئے کہ وہ امراء کو گولیاں دیتے ہیں پھتر مارتے ہیں اور یہ ہیں کہ ہاتھ جوڑے سامنے کھڑے ہیں اور مزید برآں کوئی روپیہ پیش کر رہا ہے کوئی مٹھائی پیش کر رہا ہے وہاں یہ گت بنتی ہے اور پھر معتقد اور جو تہذیب کے سبب ان کی رعایت کرتا ہے یہ لوگ اس کے سر پر سوار ہو جاتے ہیں بس فرق یہی ہے کہ مجذوبین کو مستغنی سمجھتے ہیں اور رعایت کرنے والوں کو اپنامحتاج ۔
