ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ذکر قلبی افضل ہے یا ذکر لسانی ؟ فرمایا ! ذکر کے متعلق مختلف احکام ہیں ـ بعض احکام تو لفظ کے ساتھ متعلق ہیں ان میں ذکر لسانی افضل ہے اور باقی جو ذکر زبان سے نہ کیا جائے اجر اس پر بھی ملتا ہے یہ ذکر قلبی ہے جس سے ہر وقت قلب میں یاد رہے مگر اس طریق میں قوی اندیشہ رہتا ہے قلب سے ذہول ہو جانے کا ـ اور ذکر لسانی میں یہ اندیشہ نہیں اس اعتبار سے ذکر قلبی سے ذکر لسانی افضل ہے ـ دوسری یہ بات ہے کہ اگرصرف قلب سے ذکر کریگا تو زبان خالی رہیگی اور اگر زبان سے ذکر کریگا تو اس کے ساتھ قلب بھی ادنی توجہ سے متوجہ رہے گا ـ ہاں جس وقت نیند کا غلبہ ہو اس وقت زبان سے ذکر نہ کرے کیونکہ احتمال ہے کچھ کا کچھ نکلنے لگے ـ حدیث شریف میں اس کو استعجام لسانی سے تعبیر فرمایا ہے ـ
