ملفوظ 95:اصلاح ، اصلاح کے طریقہ سے ہوتی ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ جس طریق سے میں اصلاح کرنا چاہتا ہوں وہی نافع ہے شرعا بھی عقلا بھی ـ لوگ اس سے گھبراتے ہیں اس کی بالکل ایسی مثال ہے کہ ناسور ہو اور اوپر سے ٹانکے لگا کر مرہم لگا دیا جائے تو کیا مادہ رک جائے گا ہر گز نہیں کسی اور طرف کو نکلنا شروع ہو جائے گا اصلاح تو اصلاح ہی کے طریق سے ہوتی ہے ـ مگر اب چاہتے یہ ہیں کہ جو ہم چاہیں وہ ہو دوسرے کا چاہا نہ ہو ـ اور یہ ناشی ہے خود رائی اور خود نینی ہے ـ اب بتلائے اصلاح ایسے لوگوں کی کس طرح ہو ہر کام اصول سے ہو سکتا ہے بے اصول طریق سے کچھ نہیں ہو سکتا ـ