ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک شخص نے مجھ سے شکایت کی کہ ذکر میں جو پہلے مزہ آتا تھا اب نہیں آتا ، میں نے کہا میاں مزا تو مذی میں ہوتا ہے یہاں کہاں مزا ڈھونڈتے پھرتے ہو جیسے مولانا فضل الرحمن صاحب نے ایسی شکایت کے جواب میں فرمایا تھا کہ تم کو خبر نہیں پرانی جورو اماں ہو جاتی ہے ۔ مطلب یہ کہ اول میں شوق کا غلبہ ہوتا ہے اور پھر انس کا اور مزہ شوق میں زیادہ ہوتا ہے ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت سنا ہے کہ حضرت مولانا گنگوہی نے ایک مثال فرمائی ہے کورے بدھنے کی کہ اول جس وقت اس میں پانی بھرا جاتا تو بڑا شور سا ہوتا ہے اور بعد میں پرانا پڑنے پر وہ شور نہیں ہوتا بلکہ سکون کا غلبہ ہوتا ہے اس لیے کہ اس کے رگ و ریشے میں پانی سرایت کر چکا ہے ۔ حضرت والا نے فرمایا واقعی عجیب مثال ہے عارفین کو حسن تمثیل کی میراث حضرات انبیاء علیہم السلام سے عطا ہوئی ہے ۔ قاضی بیضاوی نے بھی لکھا ہے کہ انبیاء اور حکماء کی باتوں میں مثالیں بہت ہوتی ہیں وہ حقائق کے تطابق پر اور محسوسات سے معانی کی توضیح پر قادر ہوتے ہیں ۔ ان کو ایک نور عطا ہوتا ہے جس سے ان کو حقائق کا انکشاف ہوتا ہے اسی سلسلہ میں فرمایا کہ مسئلہ قدر کی تحقیق کے لیے ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ وہ کھڑا تھا آپ نے فرمایا کہ اپنا پیر اٹھاؤ ، اس نے اٹھا لیا ، فرمایا کہ اب دوسرا اٹھاؤ ، نہیں اٹھا سکا ، فرمایا کہ بس اتنا اختیار ہے اور اتنا جبر دیکھئے حسی مثال سے ایک دقیق معنی کو کیسا واضح فرما دیا ۔ سبحان اللہ یہ ہیں علوم ۔
