ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ دین میں تبلیغ اصل ہے اور درس و تدریس اس کے مقدمات مگر یہ شرط ہے کہ بلا ضرورت کسی مفسدہ میں ابتلاء نہ ہو جائے ورنہ سکوت ہی بہتر ہے ۔ چناچہ میں ایک مرتبہ ریل میں سفر کر رہا تھا ہر موقع پر
خیال رہتا تھا کہ لوگوں کو تبلیغ کرنا چاہیے ایک شخص ریل میں تھا اس کا پاجامہ ٹخنوں سے نیچا تھا میں نے اس سے کہا کہ بھائی یہ شریعت کے خلاف ہے اس کو درست کر لینا اس نے چھوٹتے ہی شریعت کو ماں کی گالی دی اس روز سے میں نے بلا ضرورت لوگوں کو کہنا چھوڑ دیا کہ ابھی تک تو گناہ ہی تھا اور اس صورت میں کفر تک کی نوبت آ گئی ۔
