عین ہونے کے معنی عین اصطلاح صوفیاء میں وہ چیز ہے کہ کسی شے کے تابع اس طرح ہو کہ بدوں اس شے کے نہ پایا جائے پس تابع کواس معنی کر عین متبوع کہیں گے اس لئےیوں تو کہیں گے کہ خلق عین حق ہے یوں نہ کہیں گے کہ حق عین خلق ہے الاتجوزا ـ شیخ اکبر نے فرمایا کہ ھوانت کہنا جائز ہے انت ھو کہنا جائز نہیں کیونکہ ھو شکل اول میں موضوع ہے اور محمول تابع ہوتا ہے اور صورت ثانیہ میں بالعکس عام لوگوں کے قلوب میں اصطلاحات منطق کی ہوتی ہیں اور تصوف میں بھی وہی معنی لے کر قائل کی تکفیر کرنے لگتے ہیں حالانکہ عوام الناس خود عین اس معنی میں بولتے ہیں مثلا کہتے ہیں کہ تم تو اپنے ہی ہو کوئی غیر نہیں ہو تو غیریت کی نفی میں عینیت کا اثبات ظاہر ہے بس اسی طرح صوفیاء کہتے ہیں پھر ان سے کیوں وحشت ہے ـ
