ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہمارے بزرگوں کی عجیب شان تھی کوئی ان کی نظیر پیش نہیں کر سکتا ۔ مولوی محمود صاحب رام پوری نے مجھ سے حضرت مولانا محمود صاحب کی ایک حکایت بیان کی مجھ کو تو حیرت ہو گئی اور لوگ تو اپنا احترام اپنی خدمت اپنی پرستش چاہتے ہیں اور ان حضرات کی یہ حالت تھی کیا ٹھکانا ہے اس بے نفسی کا انہوں نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ میں اور میرے ساتھ ایک ہندو ایک مقدمہ کے سلسلہ میں دیوبند آئے ، دیوبند پہنچ کر اس ہندو نے مجھ سے پوچھا کہ تم کہاں ٹھرو گے ، میں نے کہا کہ میں مولانا کے یہاں قیام کروں گا ، وہ ہندو بولا کہ جی میں روٹی تو اپنے اقارب میں کھا لوں گا ، باقی سونے کے واسطے اگر کوئی چھوٹی سی چارپائی مجھ کو بھی مل جائے تو وہاں ہی ٹھر جاؤں گا ، میں نے کہا کہ مل جائے گی تو روٹی کھا کر آ جانا ایسا ہی ہوا میں نے حضرت مولانا کی بیٹھک میں ایک چارپائی اس کے لیے الگ بچھا دی ، ایک چارپائی پر لیٹ گیا وہ ہندو تو پڑتے ہی سو گیا اور میں جاگ رہا تھا کہ حضرت مولانا دبے پاؤں زنانہ مکان سے تشریف لائے اور اس ہندو کی چارپائی کی پٹی پر بیٹھ کر اس کے پیر دبانے لگے ، میں ایک دم چارپائی سے کھڑا ہو گیا اور جا کر عرض کیا کہ حضرت چھوڑ دیں میں دبا دوں گا ، فرمایا کہ یہ تمہارا حق نہیں میرا مہمان ہے ، یہ خدمت میرے ذمہ ہے
میں نے اصرار کیا اس پر فرمایا کہ جاؤ تم کون ہوتے ہو گڑبڑ مت کرو ، بیچارے کی آنکھ کھل جائے گی ، تکلیف ہو گی ، بس وہ ہندو تو پڑا ہوا خرخر کر رہا تھا اور مزاحا فرمایا کہ ان کا مقدر تھا اور مولانا پاؤں دبا رہے تھے اب مدعی تو بے نفسی کے بہت ہیں مگر ذرا عمل کر کے تو دکھائیں تب حقیقت معلوم ہو ۔ ایک مرتبہ سٹیشن مراد آباد پر حضرت مولانا محمود الحسن صاحب کا اور میرا اجتماع ہو گیا ۔ سیوہارہ کے بھی کچھ حضرات تھے ، انہوں نے مجھے اور حضرت مولانا کو سیوہارہ اتارنا چاہا ، میں نے اضمحلال طبع کا عذر کیا اور حضرت مولانا نے قبول فرما لیا ، لوگوں نے میرے عذر پر کہا ہم وعظ کی درخواست نہ کریں گے جس سے اضمحلال میں تکلیف ہو ، میں نے کہا کہ بدون وعظ کہے تو مجھ کو کسی کی روٹی کھاتے ہوئے بھی شرم معلوم ہوتی ہے ۔ مولانا بے ساختہ کیا فرماتے ہیں کہ ہاں بھائی ایسے بے شرم تو ہم ہی ہیں کہ بلا کام کیے کھا لیتے ہیں میں اس وقت بہت شرمندہ ہوا اور کسی معذرت پیش کرنے کی بھی ہمت نہ ہوئی مگر مولانا بشاش تھے ۔
