آجکل کے لیڈر اور سیاسی تحریکات کے بارے میں حضرتؒ کا تفصیلی نقطہ نظر ایک مولوی صاحب نے کشمیر کے متعلق چند سوالات کئے اس پر حضرت والا نے جو جوابات ارشاد فرمائے وہ بہ عنوان سوال و جواب ذیل میں درج کرتا ہوں ـ سوال : میں ایک خاص واقعہ کے متعلق اپنی تسلی کے لئے چند سوالات کرنا چاہتا ہوں اگر حضرت والا بطیب خاطر اجازت فرمائیں ـ جواب : فرمایا نہایت خوشی سے اجازت ہے اس وقت اور بھی اہل علم موجود ہیں ضرور ان سے سوالات کو ظاہر فرمایئے ـ سوال : کشمیر پر جو مسلمانوں کے جتھے جا رہے ہیں ان کا وہاں پر جا کر لڑنا مقصود نہیں صرف حکومت پر اثر ڈالنا ہے یہ صورت شرعا کیسی ہے ؟ جواب: فرمایا یہ شرعی لڑائی تو ہے نہیں ـ اب دو ہی صورتیں ہیں یا قتال پر قدرت ہے یا عجز اگر قدرت ہے تو قتال اور اگر قدرت نہیں تو صبر درمیان میں اور کوئی چیز نہیں ہے نہ یہ درمیانی صورتیں سمجھ میں آتی ہیں ـ اور نہ آجکل کی درمیانی صورتیں اسلامی صورتیں ہیں سب دوسری قوموں کی تقلید ہے ـ سوال: اس وقت کے زمانہ کے لحاظ سے یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ کمزور کو قومی کے مقابلہ میں اسی صورت سے کامیابی ہو سکتی ہے یعنی پبلک حکومت کا مقابلہ اسی صورت سے کر سکتی ہے ـ جواب : فرمایا یہ نصوص کے مقابلہ میں اجتہاد ہے اور اجتہاد کا ہم کو حق نہیں ـ میں نے جو دو صورتیں بیان کیں یہ تو منصوص ہیں اور آپ جو تدابیر اور طریق کار بیان کر رہے ہیں یہ اس مضمون کا معارض ہے اسی لئے یہ طریق سلف سے منقول نہیں ـ سوال : حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے عرض کرنے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھدوائی تھی یہ شاہان عجم کی تدابیر میں سے تھی جو غیر قوم تھے ـ جواب : فرمایا کہ یہاں کوئی نص نہ تھی اس لئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے عمل فرما لیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل فرما لینا منصوص نہ ہونے کی وجہ سے تھا اور یہاں تومنصوص ہے یہاں پر یہ صورت اختیار نہیں کر سکتے ـ سوال: یہ صورت جو اختیار کی گئی ہے اس سے بھی کامیابی ہو جاتی ہے سکھ اس سے کامیاب ہو ہی گئے ـ
جواب ـ فرمایا کہ سوال کامیابی عدم کامیابی کا نہیں ہے سوال یہ ہے کہ یہ صورت جو اختیار کی گئی ہے اس کا حکم شرعی کیا ہے اس کا میں جواب عرض کر رہا ہوں ـ سوال : اگر بغیر لڑے ہوئے اس صورت کو اختیار کر کے کامیابی ہو جائے تو اس صورت کے اختیار کرنے میں شرعا کیا حرج ہے ـ جواب : فرمایا یہی کیا تھوڑا حرج ہے کہ نص کے خلاف ہوا ـ سوال : کچھ نہ کریں مارے جائیں برباد ہو جائیں خاموش رہیں ؟جواب : فرمایا کہ یہ میں نے کب کہا ہے یہ بھی آپ کا اجتہاد ہے منجملہ اور اجتہادات کے میں نہ واقعات کی نفی کرتا ہوں اور نہ منفعت کی ـ میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ صورت جو اختیار کی گئی ہے ـ یہ منصوص کے خلاف ہے آپ کے ذمہ ہے کہ آپ اس کا نصوص کلیہ میں داخل ہونا ثابت کریں ـ اگر داخل ہے تو مجھ کو بھی بتلا دیا جائے میں بھی مان لوں گا ـ خدانخواستہ ضد یا ہٹ تھوڑا ہی ہے جس طرف میں صاف طور پر عرض کر رہا ہوں کہ یہ منصوص کے خلاف اور نصوص کلیہ میں داخل نہیں ہو سکتا اور نصوص کے مقابلہ میں اجتہاد اور قیاس کوئی چیز نہیں اور نہ ہم کو اس قسم کے تصرف کا حق ہے آپ بھی صاف بیان کریں جس وقت آپ سمجھا دیں گے میں بھی انشاء اللہ تسلیم کر لوں گا ـ سوال : موجودہ صورت نصوص کے کلیہ میں تو داخل نہیں ہو سکتی لیکن یہاں پر قیاس سے کام لیا جا سکتا ہے ـ جواب : فرمایا نص کے ہوتے ہوئے قیاس اور اجتہاد کیجئے میں کب منع کرتا ہوں مجھے تو بحمد اللہ کھی آنکھوں نظر آتا ہے کہ یہ حق ہے اور یہ باطل ـ سوال: اسی لیے تو دریافت کیا جا رہا ہے ـ جواب : فرمایا اگر آپ کو شرح صدر ہو تو آپ عمل کیجئے یہی سمجھ لیجئے کہ مجھ کو شرح صدر نہیں مجھ کو اپنے فتوی میں شریک نہ کیجئے اور نہ مجھ سے امید رکھئے کہ میں منصوصات کے خلاف کروں یا اجتہاد کروں میں تو کٹر مقلد ہوں ـ
صاحبین کا قول بھی کہیں اضطرار میں لے لیتا ہوں ورنہ میں تو امام صاحبؒ کے مذہب پر عمل کرتا ہوں آپ کی تو بھلا کیا تقلید کر سکتا ہوں آپ تو بچے ہیں اور میں بڈھوں کا مقلد ہوں پھرمزاھا فرمایا کہ نہیں بڈھوں کا نہیں بلکہ ایک بڈھے کا ـ سوال : لڑ تو سکتے نہیں پھر کیا صورت ہو ؟ جواب : جو میں عرض کر رہا ہوں وہ منصوص ہے اسی پر عمل کریں یعنی قدرت کو دیکھ لیں اگر قدرت اور قوت ہے تو بجائے جتھے بھیجنے کے قتال کریں جہاد کریں تلوار ہاتھ میں لیں لڑیں اور اگر قدرت نہیٰں جیسا کہ ظاہر ہے صبر کریں نیز عجز کی صورت میں یہ بھی ہوگا کہ آئندہ اگر کوئی ضرر پیش آیا تو اس کے برداشت کی بھی قوت نہ ہوگی اور جس ضرر سے بچنے کی قدرت نہ ہو یا مشکل ہو اس میں نہ پڑنا چاہئے ـ سوال : ( آیت جہاد میں ) من قوۃ نکرہ ہے اس وقت جیل جانے کی قدرت ہے ـ جواب : قدرت سے یہ قدرت مراد نہیں بلکہ وہ قدرت جس میں خصم کو کوئی ضرر ہو اور اس کے ساتھ اپنا کوئی ضرر یقینی نہ ہو ـ سوال : جیل کے جانے میں تو کوئی ضرر نہیں معلوم ہوتا اور خصم کا ضرر ہے یعنی اغاظت پھر کیا حرج ہے ـ جواب : اگر قدرت علی الاضرار یہی ہے تو آج اس کی بھی قدرت ہے کہ د شمن کے منہ پر تھوک دیں اس میں بھی اغاظہ ہے لیکن چونکہ سمجھتے ہیں کہ اس میں ضرر اپنا ہے ایسا نہیں کرتے یا ایک د شمن کے ڈھیلا مار دیں اس کی قدرت بھی ہے مگر ایسا نہیں کر سکتے حاصل وہی ہے کہ قدرت سے مراد وہ قدرت ہے جس میں اس کا معتد بہ نہیں ـ خوب سمجھ لیجئے کہ قدرت کی دو قسمیں ہیں کہ ایک یہ کہ جو کام ہم کرنا چاہتے ہیں اس پر تو ہم کو قدرت ہے لیکن اس کے کر لینے کے بعد جن خطرات کا سامنا ہوگا ان کے دفع کرنے پر قدرت نہیں دوسرے یہ کہ فعل پر بھی قدرت ہے اور اس کے کر لینے کے بعد جو خطرات پیش آئیں گے ان کی مدافعت پر بھی قدرت ہو ـ پہلی صورت استطاعت لغویہ ہے اور دوسری صورت استطاعت شرعیہ خوب سمجھ لیجئے گا اور مدافعت کی فرضیت کیلئے پہلی استطاعت کافی نہیں بلکہ دوسری صورت یعنی استطاعت شرعیہ شرط ہے جس کو اس حدیث نے صاف کر دیا ہے ـ قال من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ ( جب کوئی شخص کسی گناہ کو ہوتا ہوا دیکھئے تو اس کو ہاتھ سے مٹادے اگر اس کی قدرت نہ ہو تو زبان سے اس کی برائی ظاہر کر دے اگر اس کی بھی قدرت نہ ہو تو دل سے ( ضرور) اس کو برا سمجھے ) ـ ظاہر ہے کہ استطاعت باللسان ہر وقت حاصل ہے پھر اس کے انتفاء کی تقدیر کب محقق ہو گی ـ یعنی اگر فعل کسی کی فرضیت کیلئے محض اس فعل پر قادر ہونا کافی ہو اور اس سے جو خطرات پیش آنے والے ہوں ان کی مدافعت پر قادر ہونا شرط نہ ہو تو زبان سے انکار کرنا ہر حالت میں فرض ہونا چاہئے کیونکہ زبان کا چلانا ہر وقت ہماری قدرت میں ہے پھر وہ کون سی صورت ہوگی جس کی نسبت حضورؐ ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر زبان سے بھی مٹانے کی قدرت نہ ہو تو دل سے مٹا دے اس سے ثابت ہوا کہ استطاعت سے مراد یہ ہے کہ اس فعل پر قدرت ہونے کے ساتھ اس میں ایسا خطرہ بھی نہ ہو جس کی مقاومت اور مدافعت و مقابلہ بہ ظن غالب عادۃ نا ممکن ہو ایک شرط یہ بھی ہے کہ اس دفاع کے بعد اس سے زیادہ شر میں مبتلا نہ ہو جائیں ـ سوال : پھر کیا صورت ہے کشمیر کے مسلمانوں کی امداد کی ؟ جواب : یہ صورت ہے کہ وہاں جا کر ان کو تبلیغ کی جائے اور آپس میں اتحاد کی ترغیب دی جائے اور جب قوت ہو جائے لڑیں جہاد کریں ـ سوال : دروازہ ہی پر روک لیا جاتا ہے گرفتار کر لیا جاتا ہے اندر جانے ہی نہیں دیا جاتا ـ جواب : آپ ہی دیکھ لیجئے کہ ایسی حالت میں آپ سے کشمیر کے مسلمانوں کو کیا امداد پہنچ سکتی ہے جب کہ وہاں تک پہنچنے پر بھی قدرت نہیں جتھوں کا جیل میں جانا پٹنا ، بھوک پڑتال وغیرہ کرنا خود کشی کے مرادف ہے اور اگر خود کشی سے کسی کو فائدہ پہنچے تب بھی تو باوجود موجب فوائد ہونے کے جائز نہیں ہے ـ چہ جائیکہ کوئی فائدہ بھی نہ پہنچے تو اس کا درجہ ظاہر ہے یعنی اگر یہ معلوم ہو جائے کہ خود کشی کرنے سے کفار پر اثر ہوگا تو کیا خود کشی کرنا جائز ہو جائے گا اور یہ جیلوں میں جانا اور بھوک ہڑتال کرنا کیا خود کشی کا مرادف نہیں ہے اگر کوئی نفع بھی خود کشی پر مرتب ہو تو یہ خود ہی اتنا زبردست نقصان ہے کہ جس کا پھر کوئی بدل ہی نہیں حضرت ہر منفعت کا اعتبار نہیں اس کی تو بالکل ایسی مثال ہے کہ کوئی شخص یوں کہے کہ فلاں شخص کی جان بچ سکتی ہے اگر تم کنوئیں میں گر جاؤ تو اس کی جان بچانے کی غرض سے کیا کنوئیں میں گر جانا جائز ہو گا ـ سوال : تو کیا پھر قتال ہی کیا جائے ـ جواب : ضرور ، مگر قدرت عادی شرط ہے اور محض کامیابی کی خیالی توقع قدرت نہیں ہے ـ سوال : ضرر تو قتال میں بھی ہے اشد ضرر کہ جان جاتی ہے ـ جواب : چونکہ قتال مقصود اور منصوص ہے اس لئے اس کا ضرر معتبر نہیں اور یہ تدابیر اور طریق کار غیر منصوص ہیں اس لئے اس کے ضرر کو دیکھا جائے گا ـ اور وجہ فرق دونوں میں یہ ہے کہ اصل مقصد یہ ہے کہ فتنہ نہ ہو قتال فتنہ نہیں ہے کیونکہ قتال میں طبیعت یکسو ہو جاتی ہے اور سکون ہوتا ہے ـ اور ان امور میں تشتت اور پراگندگی اور اضاعت اوقات ہے ـ اصل یہ ہے کہ لوگ فقہ کو نہیں دیکھتے پروگرام بناتے وقت ـ اور فقہ کو محض رائے سے دیکھنا کافی نہیں اور نہ مفید ہے بلکہ نصوص اور ذوق کے ساتھ دیکھنا مفید ہے اس میں سب احکام اظہر من الشمس ہین فن فقہ ہی دقیق ہے اسی واسطے میں ہمیشہ احتیاط کے پہلو کو ترجیح دیتا ہوں ـ سوال : من قتل دون عرضہ ومالہ فھو شھید ( جو شخص اپنی آبرو اور مال کے بچانے کے سلسلہ میں قتل ہو جائے وہ شہید ہے ) سے جان دینا جائز نکلتا ہے تو بھوک ہڑتال وغیرہ میں گنجائش معلوم ہوتی ہے ـ جواب : قتل سے مراد خود کشی نہیں ہے بلکہ مراد قتال ہے یعنی لڑو جنگ کرو اس نیت سے کہ جان اور مال اور ایمان بچ جائے پھر اس قتال میں اگر جان چلی جائے تو چلی جائے وہ شہادت ہے اور خود قتل مقصود نہیں ہے وہ بھی جبکہ اس قتال کی سب شرطیں پائی جائیں اور موانع مرتفع ہوں جس کی تفصیل کتب فقہ میں ہے اور خود قتل کا مقصود نہ ہونا اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں ہر جگہ یقتلون ( بصیغہ مجہول ) بعد میں ہے یقتلون ( بصیغہ معروف ) سے ـ پس معلوم ہوا کہ یقتلوں خود مقصود نہیں بلکہ یقتلون سے کبھی لازم آ جاتا ہے ـ سوال : پوری قدرت تو نہیں مگر جو کچھ بھی ہے اس کا استعمال کس طرح کریں کچھ تو ہونا چاہئے ـ جواب : یہ بھی آپ ہی بتا سکتے ہیں کہ کیا کرنا چاہئے میری تو سمھھ میں اس سے زیادہ نہیں آتا کہ ان کو تبلیغ کرو اور دین سکھلاؤ اس کے بعد لڑاؤ ـ میں پوچھتا ہوں ہجرت کے بعد جو مسلمان مکہ میں تھے ان کی جانیں تھیں اس وقت اہل مدینہ نے ایک بھی جتھ نہ بھیجا ـ کوئی بھی جتھا نہ گیا جب تک آیت قتال نازل نہ ہوئی ـ صبر کے سوا کوئی حرکت اس آئینی جنگ کی جاری نہ ہوئی پس جنگ اسلامی لڑو آئین کہاں کی خرافات نکالی ہے ـ سوال : ایسے آئین اس وقت ایجاد نہ ہوئے تھے اگر ہوتے تو جنگ بھی ایسی ہی ہو جاتی ـ جواب : بہر حال اس سے اتنا تو معلوم ہو گیا کہ یہ آئین منصوص تو ہے نہیں عقل ہی کا اختراع ہے تو صحابہ بھی عاقل تھے ان کے ذہن میں اور بڑی بڑی تدبیریں آئیں یہ تدابیر کیوں نہ آئیں اوریہ کیا آج کل کی اختراع شدہ تدابیر میں سے ایک بھی نہ آئی تو بس قتال کی آئی وہ بھی جب جبکہ آیت قتال نازل ہو چکی ـ خلاصہ یہ ہے کہ اگر عمومات سے استدلال ہے تو سوال یہ ہے کہ آج تک امت میں عمومات سے استدلال کر کے کسی نے عمل بھی کیا ہے اور کیا تیرہ سو برس میں ایسی مظلومیت کی صورتیں پیش نہ آئیں تھیں ـ پھر یہ طریقے کیوں نہیں اختیار کئے گئے ـ دوسری بات یہ پوچھتا ہوں کہ ہجرت کے بعد جو مستضعفین مکہ میں رہ گئے تھے ان مسلمانوں میں بھی کچھ قوت اور استطاعت تھی یا نہیں اگر یہ کہا جائے ان میں قوت اس قدر نہ تھی کہ کسی قسم کا بھی مقابلہ کر سکتے جواب یہ ہے کہ یہ غلط ہے ان میں اس قدر قوت تھی کہ ہندوستان کی قوت ان کی قوت کے سامنے گرد ہے ـ
سوال : مقابل کفار بھی ایسے ہی قوی تھے اس لئے وہ ان سے مقابلہ نہ کر سکے ـ جواب : یہ تو میرے کلام کا حاصل ہے یہی تو بات ہے اور اب کیا بات رہی اگر اس کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر کوئی اختلاف ہی نہیں رہتا مطلب یہی تو ہوا کہ صبر ہی کرنا پڑے گا ـ عدم قدرت کی حالت میں جیسا کہ اہل مکہ نے کیا اور جب مدینہ والوں کو قوت ہو گئی اس وقت تلواریں ہاتھ میں لیں اور مکہ پر چڑھائی کی ـ سوال : پہلے آئین کی لڑائی نہ تھی اب تو آئین کی لڑائی ہے جواب : اس کا جواب پہلے ہو چکا ہے اب پھر سمجھ لیجئے کہ یہ آئین کہاں سے آئے یہ بھی تو گھڑے ہوئے ہیں اور صحابہ نے تو سلطنت کی ہے اتنی بات ان کی سمجھ میں نہ آئی کہ اس طرح جتھے بھیج کر مکہ والوں کی مدد کرتے خیر کچھ بھی ہو منقولات سے ثابت کیجئے عجیب بات ہے کہ آپ مجھ سے تو غیر منقولات منوانا چاہتے ہیں اور آپ منقولات کو بھی تسلیم نہیں کرتے ـ میں ہرگز ماننے کو تیار نہیں جب تک آپ منقولات سے ثابت نہ کریں جیسے ہمارے بزرگوں نے نظام دین کی حفاظت کیلئے قائم کیا یعنی تقلید ـ اس کو ایسی آسانی سے نہیں چھوڑ سکتے اور خرابی تو آجکل زیادہ اسی وجہ سے ہو رہی ہے کہ ہر شخص مجتہد بنا ہوا ہے ـ واقعی سلف صالحین بڑے ہی حکیم تھے دنیا میں یہ طبقہ حکماء کا ہے کہ اجتہاد ہی کو بند کر دیا ہم سے زیادہ دین کو سمجھنے والے تھے ـ مزاحا فرمایا کہ ہم لوگ تو عند اللہ بھی معذور ہوں گے پوچھا جائے گا عرض کر دیں گے کہ اے اللہ ! کوئی دلیل ہی سمجھ میں نہ آئی تھی اور آپ سے پوچھا جائے گا کہ باوجود دلیل معلوم ہونے کے بھی کشمیر کے مسلمانوں کی کیوں امداد نہیں کی اور وہاں پر کیوں نہیں گئے ہم تو وہاں پر بھی بری اور آپ سے وہاں بھی باز پرس ! میں ایک کام کی بات عرض کرتا ہوں کہ ان چیزوں میں نرے دلائل کافی نہیں تھوڑے سے ذوق کی بھی ضرورت ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ ان جدید تدابیر اور طریق کار میں غیر منصوص ہونے کے علاوہ میرا ذوق بھی ان چیزوں کے خلاف ہے اور مدار قبول اسکات خصم نہیں اسقاط ہے ـ سوال : ہم ہر طرح پر کمزور ہیں کچھ نہیں کر سکتے ـ جواب : یا تو اس قدر قوت تھی جوش تھا کہ منصوص کے مقابلہ میں غیر منصوص پر عمل کرنے کو تیار تھے یا یہ عقیدہ کر لیا ہے کہ ہم کمزور ہیں کام کیجئے ـ مگر شرط یہ ہے کہ حدود شرعیہ کو محفوظ رکھتے ہوئے کام کیجئے ـ انبیاء ؑ کی تدابیر میں اثر نہ ہو غضب کی بات ہے اپنی اختراع کی ہوئی تدابیر کو مؤثر سمجھیں ـ میں پوچھتا ہوں کہ تدابیر کے استعمال میں خدا کے راضی کرنے میں کامیابی کا اثر ہوگا یا ناراض کرنے میں ظاہر ہے کہ راضی کرنے میں اثر ہو گا تو اس کی ایک ہی تدبیر ہے کہ تدابیر منصوصہ پر عمل کیا جائے ـ سوال : ان غیر منصوصہ پر جو عمل کیا جائے گا غیر مشروع اور برا سمجھ کر تھوڑا ہی کرینگے تو اس میں بھی خدا تعالی کی ناراضی نہ ہوگی ـ جواب : یہ تو اور بھی برا ہے کہ معصیت کو معصیت بھی نہ سمجھا جائے بلکہ معصیت کو نیکی سمجھ کر کیا جائے یہ درجہ تو اس سے بھی برا ہے اور بہت برا ہے پھر بدعت کوئی چیز ہی نہیں رہتی اس لئے کہ بدعتیں جس قدر ہیں سب کو دین ہی سمجھ کر کرتے ہیں اہل بدعت یہی جواب دے سکتے ہیں کہ ہم برا سمجھ کر تھوڑا ہی کرتے ہیں اس سے تو سنت اور بدعت جائز اور نا جائز میں کوئی فرق ہی نہیں رہتا ہر برے کام میں نیت اچھی کر لیا کریں کہ ہم جو کر رہے ہیں یہ برا کام نہیں بلکہ نیک کام ہے ـ آپ ہی بتلایئے کہ یہ کلیہ کہاں تک صحیح ہے جو آپ نے بیان کیا ـ سوال: منصوص تدابیر کے مقابل ان جدید تدابیر کو منہی عنہ نہیں فرمایا گیا نہ نہی وارد ہے نہ حکم ہے تو اس صورت میں مسکوت عنہ کہا جائے گا ممنوع ہونے کی وجہ ہے ؟ جواب : جن چیزوں کی حاجت خیرالقرون میں نہ ہوئی ہو اور خیرالقرون کے بعد حاجت پیش آئی ہو اور نصوص ان کے خلاف نہ ہوں وہ تو مسکوت عنہا ہو سکتی ہیں لیکن ان چیزوں کی تو حاجت ہمیشہ ہی پیش آتی رہی پھر بھی نصوص میں صرف جہاد یا صبر ہی کا حکم ہے تو اس اعتبار سے یہ مسکوت عنہ نہ ہوگا منہی عنہ ہوگا ـ کہ باوجود ضرورت کے متقدین نے اس کو ترک کیا ـ اختیار نہیں کیا تو اجماع ہو اس کے ترک پر اس لئے ممنوع ہوگا ـ علاوہ ان سب باتوں کے ایک یہ بات باریک ہے جس کو سمجھ لینے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ہر کام کرنے کیلئے حدود کی ضرورت ہے ان تحریکات میں بھی ضرورت ہے سو اس کا تحفظ کون کریگا یا کون کرائیگا ـ ایک لڑکا زمانہ خلافت میں ہجرت کر گیا اس کی ماں روتی روتی اندھی ہو گئی اس کو کون دیکھے گا کہ کس کو جانا چاہئے اور کس کو نہیں ـ اگر تدابیر جدیدہ جائز بھی ہوں تب بھی اس کی ضرورت ہے کہ کوئی امیر ہوتا کہ حدود کی رعایت خود بھی کرے اور دوسروں سے بھی کرائے ـ بلا امیر کے کچھ نہیں ہو سکتا ـ فرمایا ! کہ امیر پر یاد آیا کہ ایک ڈاکٹر صاحب ہیں پنجاب میں بہت ہی مخلص اور سمجھ دار شخص ہیں زمانہ تحریک خلافت میں ان کے ایک عزیز بڑے ہی جوش اور سرگرمی کے ساتھ حصہ لئے ہوئے تھے ـ ڈاکٹر صاحب ان معاملات سے یکنو تھے ـ ایک روز ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ آپ اس تحریک میں حصہ کیوں نہیں لیتے ڈاکٹر صاحب نے میرا نام لے دیا کہ وہ شریک نہیں اس لئے میں کوئی حصہ نہیں لے سکتا ـ یہ سن کر بولے کہ میں اس کو تو پانچ منٹ میں اپنے ساتھ کر لوں گا ـ دیکھیں کیسے شریک نہیں ہوتے مجھ کو تھانہ بھون لے چلو میں گفتگو کروں گا ـ ڈاکٹر صاحب نے یہ واقعہ مجھ سے بیان کیا کہ میرے بھائی ایسا کہتے ہیں اگر اجازت ہو ساتھ لے کر آؤں ـ میں نے لکھ دیا کہ ضرور لاؤ ایسے آدمی کی ضرورت ہے جو اس قدر ذہین ہو مجھے خود ان سے ملاقات کا اشتیاق ہو گیا کہ اس لئے کہ ایسا ذہین آدمی کہاں ملتا ہے ـ میں سچ عرض کرتا ہوں کہ میری ہمیشہ یہ نیت رہی اور ہے کہ مسلمان تو بڑی چیز ہیں اگر مجھ کو بھنگی کا بچہ بھی سمجھا دے میں مان لوں گا ـ خدانخواستہ کوئی ضد یا ہٹ تھوڑا ہی ہے ـ ہاں اس کے ساتھ یہ بھی نیت رہی کہ بدوں مسئلے کو سمجھے ہوئے ایک انچ بھی قدم نہ اٹھاؤں گا ـ دوسرے یہ ہے کہ مصالح وغیرہ کو شریعت مقدسہ پر مقدم نہیں کر سکتا ـ یہ میرا فطری امر ہے میں اس میں مجبور ہوں مجھ سے مصالح پرستی نہیں ہو سکتی مصالح تو یہاں پر پیس دیے جاتے ہیں ـ میں تو کہا کرتا ہوں کہ مصالحوں کو سل پر خوب پیسا جائے جتنا پیسا جائے گا اتنا ہی سالن لذیذ ہوگا ـ فرمایا کہ مصالح پر یاد آیا جان سے بڑھ کر کوئی مصالح نہ ہوں گے جس زمانہ تحریک خلافت کا شباب تھا شورش پسند طبیعتیں جوش میں بھڑک رہی تھیں چہار طرف ایک آ گ لگی ہوئی تھی یہاں تک نوبت آ گئی تھی کہ علاوہ برا بھلا کہنے اور لعن طعن اور قسم قسم کے بہتان والزامات لگانے کی دھمکی کے خطوط میرے پاس آئے یا تو شریک ہو جاؤ ورنہ قتل کر دیئے جاؤ گے اس وقت غایت شفقت اور محبت کی بناء پر حضرت مولانا خلیل احمد صاحبؒ نے ایک خاص اور معتمد شخص کی زبانی کہلا کر بھیجا کہ یہ وقت خطرہ کا ہے اگر بظاہر تھوڑی سی شرکت کر لو تو گنجائش ہے ـ میں نے کہلا بھیجا کہ یہ آپ کی محبت اور شفقت کا اقتضاء ہے مگر سب سے بڑا خطرہ جان کا چلا جانا تھا ـ سو اس کیلئے میں اپنے نفس کو تیار پاتا ہوں لیکن اس پر آمادہ نہیں ہوں کہ بلا سمجھے شرکت کر لوں اور نہ اس پر قدرت ہے کہ بظاہر تو شرکت کروں اور باطن میں الگ رہوں اس کو میں منافقت سمجھتا ہوں ۤـ اور بحمد اللہ اس وقت تک ہر خطرہ سے محفوظ آپ کے سامنے زندہ اور صحیح سلامت موجود ہوں ـ لڑکیوں کا کھیل بنا رکھا ہے یہ دین ہے کہ یا تو وہ کرو جو ہم کریں ورنہ قتل کر دیئے جاؤ گے ـ اسی زمانہ میں جنگل معمول کے موافق صبح کو گیا ایک ہندو راجپوت بوڑھا تھانہ بھون ہی کا رہنے والا ملا بستی کے ہندو بھی جو پرانے خیال کے اور پرانے عمر کے ہیں محبت کرتے ہیں کہنے لگا مولوی جی کچھ خبر بھی ہے تمہارے واسطے کیا تجویزیں ہو رہی ہیں تنہا اس طرح جنگل میں مت آیا کرو ـ میں نے کہا کہ چودھری مجھ کو اس کی بھی خبر ہے اور ایک بات کی اور بھی خبر ہے جس کی تم کو خبرنہیں کہنے لگا کہ جی وہ کیا ہے میں نے کہا کہ بدوں اس کے حکم کے کوئی کچھ نہیں کر سکتا ـ وہ تھا تو ہندو مگر یہ سن کر اس قدر اس پر اثر ہوا جوش میں آ کر کہنے لگا کہ مولوی جی ! تم جہاں چاہے پھرو تمہیں جو کھم ( خطرہ ) نہیں ایسے آدمی کیلئے گھر جنگل پیاڑ سب ایک ہی سے ہیں ـ
غرضیکہ ڈاکٹر صاحب اپنے بھائی ہو ہمراہ لے کر یہاں پر آئے پہلی ملاقات تھی مگر نہایت بے تکلفی سے گفتگو شروع کی ـ گفتگو کرنے پر معلوم ہوا کہ آدمی سمجھ دار تھے مگر غلطی میں مبتلا تھے کہنے لگے کہ میں بلا تمہید عرض کرتا ہوں کہ آُپ اس تحریک میں شریک کیوں نہیں ـ میں نے کہا کہ میں بھی بلا تمہید عرض کرتا ہوں کہ جو کام اس وقت اٹھا ہے اس میں ضرورت ہے اتفاق کی حدوثا بھی بقاء بھی ـ اور اول تو مجھ کو حدوث اتفاق ہی میں کلام ہے لیکن علی سبیل التنزل اگر مان بھی لیا جائے تو بقا کا کون ذمہ دار ہے ـ اس لئے کہ بقاء کیلئے ارادت کافی نہیں قہرو قوت کی ضرورت ہے اور وہ قوت امیرالمومنین ہے اور اس وقت مسلمانوں کا کوئی امیر یا سردار نہیں جو ان کی قوت کو ایک مرکز پر جمع رکھ سکے جو روح ہے اس کام کے کرنے کی تو خلاصہ شرط کا یہ ٹھہرا کہ مسلمانوں کا کوئی امیرالمومنین ہو سب سے بڑا اور ہم مسئلہ یہ ہے سو اس کی کیا صورت ہے کہنے لگا کہ ہم آپ ہی کو امیرالمومنین بناتے ہیں ـ میں نے کہا کہ میں امیرالمومنین بننے کو تیار ہوں مگر اس میں کچھ شرائط ہیں میں نے ان شرائط کی تقریر کی جس کا حاصل یہ ہے کہ اول شرط یہ ہے کہ تمام ہمدوستان کے مسلمان اپنا تمام مال اور جائداد میرے نام ہبہ کر دیں میں بھیک مانگنے والا امیرالمومنین نہیں بنوں گا ـ اور مانگنے کی بھی کوئی حد ہے کوئی ایک دفعہ دیگا دو دفعہ دیگا تین دفعہ دیگا ـ بالآخر اکتا جائیگا کہ ان کو تو رات دن کا یہی قصہ ہے ـ دوسرے ایسے کام چندوں سے نہیں چلا کرتے ـ چندوں سے جن کے کام چلے ہیں ان کے مال و جان ان کی آبرو ان کے بیوی بچے سب خدا کی راہ پر اپنے کو قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے اور اصل مقصد میں سب متحد تھے خلوص سے ان کے قلوب پر تھے ان کی کیا کوئی ہمسری کا دعوی کر سکتا ہے اور اس کا کوئی وقت مقرر نہیں کہ کب تک یہ ضرورت رہے اور یہ میں جو کچھ عرض کر رہا ہوں تجربات کی بناء پر اس لئے کہ آجکل چندوں کی اس قدر بھر مار ہے کہ لوگ دیتے دیتے اکتا گئے ـ تیسری یہ بات ہے کہ اگر کوئی ضروت صرف کی فوری پیش آگئی اور پلے ہے نہیں اب اگر رقم وقت پر اپنے ضرورت تو ہے آج اور آپ کھڑے ہوئے چندہ کو ـ پھر اس میں بھی یہ ضرور تھوڑا ہی ہے کہ فوری کامیابی ہو جائے یہ بھی تو احتمال ہے کہ کامیابی نہ ہو تو ایک یقینی ضرورت کو احتمالی بات پر معلق کر دینا یہ کون سی عقلمندی کی بات ہے ـ اب بتلایئے کہ اس وقت چندہ کی فکر کیجئے گا یا کام کی تو پہلے اس کا نتظام کیا جائے ـ اب سنیئے کہ اس سرمایہ سے جو میرے نام ہبہ ہوگا ـ سامان جمع کروں گا اور یہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہبہ کے بعد ہبہ کرنے والوں میں سے کسی کو تکلیف نہ ہونے دوں گا سب کو حسب حیثیت اور مذاق انشاء اللہ تعالی خرچ دوں گا اور یہ بھی اطمینان دلاتا ہوں اور اگر اطمینان نہ ہو تو تحریر مجھ سے لکھا لی جائے کہ بعد انفراغ اور کامیابی کے بجنسہ سب کی جائیداد وغیرہ واپس کر دوں گا رکھوں گا نہیں ـ دوسری شرط یہ ہے کہ ہندوستان کے تمام مشاہیر علماء اور لیڈروں کے د ستخط کراؤ کہ وہ مجھ کو امیرالمومنین تسلیم کر لیں اگر بلا اختلاف سب نے تسلیم کر لیا تو میں امیرالمومنین ہوں گا ـ اگر ایک نے بھی اختلاف کیا تو میں امیرالمومنین نہیں ہو سکتا اس لئے کہ اختلاف کی صورت میں امیر امیر نہیں ہو سکتا ـ ہاں اگر تسلیم کے بعد پھر کوئی اختلاف یا خلاف کرے تو امیر کو حق ہے کہ وہ اپنی قوت سے ایسے لوگوں کو دبائے اور ٹھیک کرے قبل از تسلیم حق نہیں کہ اس کو دبایا جائے ایک یہ کام کرا دیجئے ـ اب سنیئے کہ امیر المومنین ہونے کے بعد سب سے اول جو حکم دوںگا وہ یہ ہوگا کہ دس سال تک سب خاموش ہر قسم کی تحریک اور ہر قسم کی شوروغل بند ! اس دس سال میں انتظام کروں گا ـ مسلمانوں کو مسلمان بنانے کے اور ان کی اصلاح کیلئے با قاعدہ انتظام ہوگا ـ غرضیکہ مکمل انتظام کے بعد جو مباسب ہوگا حکم دوں گا ـ عملی صورت یہ ہے کام کرنے کی اور محض کاغذی امیرالمومنین بنانا چاہتے ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آج امیرالمومنین ہوں گا کل کو اسیرالکافرین ہوں گا آج سردار بنوں گا کل کو سردار ہوں گا ـ یہ تقریر سن کر ان کی تو سب ذہانت ختم ہو گئی اور یہی مقصود تھا ـ اس تقریر سے کہ ان کو اپنے خیالی منصوبوں کی حقیقت معلوم ہو جائے ورنہ امیرالمومنین کون بنتا ہے اور کون بناتا ہے ـ یہ تقریر بھی ایک علمی ناول تھا جس میں فرضیات سے مفید سبق دیا جاتا ہے ـ خلاصہ یہ ہے کہ ہر کام اصول سے ہو سکتا ہے بے اصول تو گھر کا بھی انتظام نہیں ہو سکتا ـ ملک کا تو کیا خاک انتظام ہو گا ـ یہ ہیں وہ اصولی باتیں جن پر مجھ کو برا بھلا کہا جاتا ہے اور قسم قسم کے الزامات و بہتان میرے سر تھوبے جاتے ہیں اور لوگ مجھ سے خفا ہیں اور وجہ خفا ہونے کی صرف یہ ہے کہ میں کہتا ہوں کہ اصول کے ماتحت کام کرو جوش سے کام مت لو ـ ہوش سے کام لو ـ جوش کا انجام خراب نکلے گا ـ حدود شرعیہ کی حفاظت رکھو وہ ان باتوں کو اپنے مقاصد میں روڑا انکا نا سمجھتے ہیں ـ میں کہتا ہوں اگر دین نہ رہا اور احکام اسلام کو پا مال کرنے کے بعد کوئی کام بھی کیا تو وہ کام پھر دین کا نہ ہو گا ـ کیا یہ دین کی خیر خواہی اور ہمدردی کہلائی جا سکتی ہے ـ اے صاحبو! آج سے پہلے بھی تو اسلام اور مسلمانوں پر اس سے بڑے بڑے حوادث پیش آئے ہیں کہ اس وقت اس کا عشر عشیر بھی نہیں مگر انہوں نے اس حالت میں بھی اصول اسلام اور احکام اسلام کو نہیں چھوڑا سلف کے کارناموں کو پیش نظر رکھ کر کچھ تو غیرت آنا چاہئے تم تو معمولی معمولی باتوں میں احکام اسلام کو ترک کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہو وہ حضرات عین قتال کے وقت بھی حدود کی حفاظت اور رعایت فرماتے تھے جس پر آج ہم کو فخر ہے اب تم ہی فیصلہ کر لو کہ وہ تھے خیر خواہ اسلام ہمدرد اسلام جانباز اسلام یا تم ـ تحریک خلافت کے زمانہ میں صاف الفاظ میں یہ کہا جاتا تھا کہ یہ مسائل کا وقت نہیں کام کرنے کا وقت ہے ـ ایک مولوی صاحب نے جو تحریکات میں نہایت جوش اور سرگرمی کے ساتھ کام کر رہے تھے مجھ سے خود بیان کیا کہ ہم کو وہ کام کرنے پڑے ہیں اس تحریک میں کہ اگر علماء کو معلوم ہو جائیں تو ہم پر کفر کا فتوی دیدیں ـ یہ تو حالت ہے اور اس پر دعوی دین کی خدمت کا ـ خود ان خرافات اور بہیود گیوں کا اقرار ہے اور پھر ایسے معالات میں کہ جن کو خود بھی شرک اور کفر تک سمجھتے ہیں دوسروں کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے کہ تم بھی ہم جیسے بن جاؤ ـ اس موقع پر یہ مقولہ صادق آتا ہے “” ہم تو ڈوبے ہیں مگر تجھ کو بھی لے ڈوبیں گے ،، یہ تو علماء کی حالت ہے جو ان تحریکات میں حصہ لے رہے ہیں ـ باقی عوام اور لیڈروں کی حالت کا اسی سے اندازہ کر لیا جائے کہ وہ کیا کرتے ہوں گے ـ اب جو ان باتوں پر تنبیہ کرے یا خاموش اور علیحدہ رہ کر خرافات کی شرکت سے اپنے دین و ایمان کی حفاظت کرے اس پر لعن طعن سب وشتم کیا جاتا ہے ـ یہ سب خرابیان امیر عادل نہ ہونے کی وجہ سے ہیں اگر امیر عادل ہو وہ ان خرافات کا انسداد کر سکتا ہے وہی حدود کی رعایت کرا سکتا ہے ـ غرض اصل چیز رعایت ہے حدود کی پھر اگر اس میں کامیابی نہ ہو تو صبر کریں ـ اجی جان دینا تو مشکل نہیں مگر یہ تو اطمینان ہو کہ اپنے مٖصرف پر گئی جان بھی ـ کم بخت دی اور خلجان مول لیا کہ جس کام کیلئے جان دی ہے وہ دین ہے یا نہیں ـ یونہی بیٹھے بٹھلائے جا کر جان دے دینا کون سی انسانیت ہے اگر کوئی وقت آ گیا جان دینے کا اور صحیح مصرف بھی ہوا تو سب سے پہلے یہ مدعیان خیر خواہی قوم اور ہمدردان اسلام ہی دم دبا کر بھاگتے نظر آئیں گے جس وقت حضرت مولانا دیو بندیؒ مالٹے سے دیوبند تشریف لائے تو میں حضرت کی زیارت کیلئے دیوبند حاضر ہوا تھا ـ وہاں پر ایک صاحب اس قسم کی گفتگو کرنے لگے اور یہ کہا کہ آپ کو تو معلوم ہے پہلے آپ کے بزرگ بھی تو کھڑے ہوئے تھے میں نے کہا مجھ کو یہ بھی خبر ہے کہ کھڑے ہوئے تھے اوراس کی بھی خبر ہے کہ بیٹھ بھی گئے تھے اور آخر تک بیٹھے ہی رہے ـ اب بتلاؤ کہ اپنے بزرگوں کے متبع ہم ہوئے یا تم اس لئے کہ تم منسوخ پر عمل کر رہے ہو اور ہمارا عمل ناسخ پر ہے پھر کچھ نہیں بولے خدا معلوم کیا سمجھ رکھا ہے جن وجوہ اور اسباب کی بنا پر بیٹھ جانیکو ترجیح دی تھی وہی اسباب اب بھی موجود ہیں ـ بلکہ اس سے زیادہ ابتری اور کمزوری نظر آ رہی ہے ـ اگر ذرا غور اور فکر سے کام لیں تو اس وقت اور اس وقت کی حالت کا تفاوت مشاہد ہو سکتا ہے کوئی باریک یا غامض بات نہیں جس میں اختلاف کی گنجائش ہو اور یوں تو ہر بات کا جواب ہو سکتا ہے ـ مگر دیکھنا یہ ہے کہ وہ جواب مقبول ہے یا مردود ـ اس لئے کہ شیطان نے اللہ میاں کو جواب دیا تھا اس پر جو حشر اس کا ہوا کسی سے مخفی نہیں اور عوام کے بھروسہ جبکہ ان میں دین بھی پورا نہ ہو کسی ایسے کام میں ہاتھ ڈالنا بہت خطرناک بات ہے اور یہ خطرہ دنیا ہی کیلئے نہیں بلکہ اس کا اثر دین پر بھی ہو گا اور یہ نہایت قوی اندیشہ ہے خصوصا اس حالت کے مضر ہونے میں تو کوئی کلام ہی نہیں ہو سکتا جبکہ دوسروں کے کندھوں پر بندوق چلائی جا رہی ہو ـ
جیسا صاف کہتے ہیں کہ بدوں برادراں وطن (ہندوؤں ) کی شرکت کے ہم کچھ نہیں کرسکتے ایسی قوت کے بھروسہ کہ جس سے کسی وقت بھی اسلامی خیر خواہی اور ہمدردی کی امید نہیں کام کرنا کہاں عقلمندی کہلائی جا سکتی ہے نہ شرعا نہ عقلا ـ اس کو کوئی نافع تسلیم کر سکتا ہے ہزار ہا واقعات شب و روز مشاہد ہو رہے ہیں کہ وہ کسی طرح بھی اور کسی وقت میں اسلام اور مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے ـ خدا معلوم ان مشاہدات کو کس بناء پر نظر انداز کیا جا رہا ہے اور جو اصل چیز ہے کہ مسلمانوں میں دین پیدا ہو ان کی قوت ایک مرکز پر جمع ہو ـ ان کا کوئی امیر ہو اس کا کہیں نام و نشان بھی نہیں بھیڑا چال ہے جس طرف کو ایک چل دی سب اسی طرف کو چل دیتی ہیں ـ میں بقسم عرض کرتا ہوں اور خدا کی ذات پر بھروسہ کر کے کہتا ہوں کہ اگر مسلمان مضبوطی کے ساتھ اپنے دین کے پابند ہو جائیں اور تمام آپس کے مناقشات کو ختم کر کے متحد ہو جائیں اور اپنی قوت کو ایک مرکز پر جمع کر لیں اور جس کو اپنا خیر خواہ سمجھ کر بڑا بنائیں اس کے کہنے اور مشوروں پر عمل کریں اس کی اتباع سے سرمواعراض نہ کریں تو پھر ان کو نہ کسی کی شرکت کی ضرورت نہ ان کو کسی سے خوف کی ضرورت اور نہ ان کا کوئی کچھ بگاڑ سکتا ہے ہر کام طریقہ اور اصول سے ہوتا ہے معمولی معمولی باتوں پر بغیر اصول پر عمل کئے آدمی نا کامیاب رہتا ہے یہ اتنا بڑا کام اور اس کا کوئی اصول نہ ہو سخت حیرت ہے ہمارا تو ہستی اور وجود ہی کیا ہے ـ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ جن کی مقبولیت اور فراست و عقل تمام دنیا کو تسلیم ہے اور بڑے بڑے عقلاء اس پر متفق ہیں ـ انہوں نے بھی ساری عمر یہ کام کئے مگر اصول اور حدود کا ہاتھوں سے نہیں چھوڑا یہی راز ان کی کامیابی کا ہے یہ تو ہر شخص کی زبان پر ہے کہ ان کو کامیابیاں ہوئیں ان کی نصرت ہوئی وہ تمام عالم پر بے سروسامانی کی حالت میں غالب آئے مگر اسی کے ساتھ یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ ان کا طریق کار کیا تھا ان کا اس جدوجہد سے کیا مقصود تھا انکی نیت کیا تھی ان کے اعمال کیسے تھے وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کیا برتاؤ کرتے تھے وہ احکام اسلام پر کس درجہ عامل تھے ان کے قلوب میں اسلام اور احکام اسلام کی کس قدر عظمت اور محبت تھی ثمرات پر تو نظر ہے اسباب ثمرات
