ملفوظ;-117-116;آجکل کے لیڈر اور سیاسی تحریکات

آجکل کے لیڈر اور سیاسی تحریکات کے بارے میں حضرتؒ کا تفصیلی نقطہ نظر ایک مولوی صاحب نے کشمیر کے متعلق چند سوالات کئے اس پر حضرت والا نے جو جوابات ارشاد فرمائے وہ بہ عنوان سوال و جواب ذیل میں درج کرتا ہوں ـ سوال : میں ایک خاص واقعہ کے متعلق اپنی تسلی کے لئے چند سوالات کرنا چاہتا ہوں اگر حضرت والا بطیب خاطر اجازت فرمائیں ـ جواب : فرمایا نہایت خوشی سے اجازت ہے اس وقت اور بھی اہل علم موجود ہیں ضرور ان سے سوالات کو ظاہر فرمایئے ـ سوال : کشمیر پر جو مسلمانوں کے جتھے جا رہے ہیں ان کا وہاں پر جا کر لڑنا مقصود نہیں صرف حکومت پر اثر ڈالنا ہے یہ صورت شرعا کیسی ہے ؟ جواب: فرمایا یہ شرعی لڑائی تو ہے نہیں ـ اب دو ہی صورتیں ہیں یا قتال پر قدرت ہے یا عجز اگر قدرت ہے تو قتال اور اگر قدرت نہیں تو صبر درمیان میں اور کوئی چیز نہیں ہے نہ یہ درمیانی صورتیں سمجھ میں آتی ہیں ـ اور نہ آجکل کی درمیانی صورتیں اسلامی صورتیں ہیں سب دوسری قوموں کی تقلید ہے ـ سوال: اس وقت کے زمانہ کے لحاظ سے یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ کمزور کو قومی کے مقابلہ میں اسی صورت سے کامیابی ہو سکتی ہے یعنی پبلک حکومت کا مقابلہ اسی صورت سے کر سکتی ہے ـ جواب : فرمایا یہ نصوص کے مقابلہ میں اجتہاد ہے اور اجتہاد کا ہم کو حق نہیں ـ میں نے جو دو صورتیں بیان کیں یہ تو منصوص ہیں اور آپ جو تدابیر اور طریق کار بیان کر رہے ہیں یہ اس مضمون کا معارض ہے اسی لئے یہ طریق سلف سے منقول نہیں ـ سوال : حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے عرض کرنے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھدوائی تھی یہ شاہان عجم کی تدابیر میں سے تھی جو غیر قوم تھے ـ جواب : فرمایا کہ یہاں کوئی نص نہ تھی اس لئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے عمل فرما لیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل فرما لینا منصوص نہ ہونے کی وجہ سے تھا اور یہاں تومنصوص ہے یہاں پر یہ صورت اختیار نہیں کر سکتے ـ سوال: یہ صورت جو اختیار کی گئی ہے اس سے بھی کامیابی ہو جاتی ہے سکھ اس سے کامیاب ہو ہی گئے ـ

جواب ـ فرمایا کہ سوال کامیابی عدم کامیابی کا نہیں ہے سوال یہ ہے کہ یہ صورت جو اختیار کی گئی ہے اس کا حکم شرعی کیا ہے اس کا میں جواب عرض کر رہا ہوں ـ سوال : اگر بغیر لڑے ہوئے اس صورت کو اختیار کر کے کامیابی ہو جائے تو اس صورت کے اختیار کرنے میں شرعا کیا حرج ہے ـ جواب : فرمایا یہی کیا تھوڑا حرج ہے کہ نص کے خلاف ہوا ـ سوال : کچھ نہ کریں مارے جائیں برباد ہو جائیں خاموش رہیں ؟جواب : فرمایا کہ یہ میں نے کب کہا ہے یہ بھی آپ کا اجتہاد ہے منجملہ اور اجتہادات کے میں نہ واقعات کی نفی کرتا ہوں اور نہ منفعت کی ـ میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ صورت جو اختیار کی گئی ہے ـ یہ منصوص کے خلاف ہے آپ کے ذمہ ہے کہ آپ اس کا نصوص کلیہ میں داخل ہونا ثابت کریں ـ اگر داخل ہے تو مجھ کو بھی بتلا دیا جائے میں بھی مان لوں گا ـ خدانخواستہ ضد یا ہٹ تھوڑا ہی ہے جس طرف میں صاف طور پر عرض کر رہا ہوں کہ یہ منصوص کے خلاف اور نصوص کلیہ میں داخل نہیں ہو سکتا اور نصوص کے مقابلہ میں اجتہاد اور قیاس کوئی چیز نہیں اور نہ ہم کو اس قسم کے تصرف کا حق ہے آپ بھی صاف بیان کریں جس وقت آپ سمجھا دیں گے میں بھی انشاء اللہ تسلیم کر لوں گا ـ سوال : موجودہ صورت نصوص کے کلیہ میں تو داخل نہیں ہو سکتی لیکن یہاں پر قیاس سے کام لیا جا سکتا ہے ـ جواب : فرمایا نص کے ہوتے ہوئے قیاس اور اجتہاد کیجئے میں کب منع کرتا ہوں مجھے تو بحمد اللہ کھی آنکھوں نظر آتا ہے کہ یہ حق ہے اور یہ باطل ـ سوال: اسی لیے تو دریافت کیا جا رہا ہے ـ جواب : فرمایا اگر آپ کو شرح صدر ہو تو آپ عمل کیجئے یہی سمجھ لیجئے کہ مجھ کو شرح صدر نہیں مجھ کو اپنے فتوی میں شریک نہ کیجئے اور نہ مجھ سے امید رکھئے کہ میں منصوصات کے خلاف کروں یا اجتہاد کروں میں تو کٹر مقلد ہوں ـ

صاحبین کا قول بھی کہیں اضطرار میں لے لیتا ہوں ورنہ میں تو امام صاحبؒ کے مذہب پر عمل کرتا ہوں آپ کی تو بھلا کیا تقلید کر سکتا ہوں آپ تو بچے ہیں اور میں بڈھوں کا مقلد ہوں پھرمزاھا فرمایا کہ نہیں بڈھوں کا نہیں بلکہ ایک بڈھے کا ـ سوال : لڑ تو سکتے نہیں پھر کیا صورت ہو ؟ جواب : جو میں عرض کر رہا ہوں وہ منصوص ہے اسی پر عمل کریں یعنی قدرت کو دیکھ لیں اگر قدرت اور قوت ہے تو بجائے جتھے بھیجنے کے قتال کریں جہاد کریں تلوار ہاتھ میں لیں لڑیں اور اگر قدرت نہیٰں جیسا کہ ظاہر ہے صبر کریں نیز عجز کی صورت میں یہ بھی ہوگا کہ آئندہ اگر کوئی ضرر پیش آیا تو اس کے برداشت کی بھی قوت نہ ہوگی اور جس ضرر سے بچنے کی قدرت نہ ہو یا مشکل ہو اس میں نہ پڑنا چاہئے ـ سوال : ( آیت جہاد میں ) من قوۃ نکرہ ہے اس وقت جیل جانے کی قدرت ہے ـ جواب : قدرت سے یہ قدرت مراد نہیں بلکہ وہ قدرت جس میں خصم کو کوئی ضرر ہو اور اس کے ساتھ اپنا کوئی ضرر یقینی نہ ہو ـ سوال : جیل کے جانے میں تو کوئی ضرر نہیں معلوم ہوتا اور خصم کا ضرر ہے یعنی اغاظت پھر کیا حرج ہے ـ جواب : اگر قدرت علی الاضرار یہی ہے تو آج اس کی بھی قدرت ہے کہ د شمن کے منہ پر تھوک دیں اس میں بھی اغاظہ ہے لیکن چونکہ سمجھتے ہیں کہ اس میں ضرر اپنا ہے ایسا نہیں کرتے یا ایک د شمن کے ڈھیلا مار دیں اس کی قدرت بھی ہے مگر ایسا نہیں کر سکتے حاصل وہی ہے کہ قدرت سے مراد وہ قدرت ہے جس میں اس کا معتد بہ نہیں ـ خوب سمجھ لیجئے کہ قدرت کی دو قسمیں ہیں کہ ایک یہ کہ جو کام ہم کرنا چاہتے ہیں اس پر تو ہم کو قدرت ہے لیکن اس کے کر لینے کے بعد جن خطرات کا سامنا ہوگا ان کے دفع کرنے پر قدرت نہیں دوسرے یہ کہ فعل پر بھی قدرت ہے اور اس کے کر لینے کے بعد جو خطرات پیش آئیں گے ان کی مدافعت پر بھی قدرت ہو ـ پہلی صورت استطاعت لغویہ ہے اور دوسری صورت استطاعت شرعیہ خوب سمجھ لیجئے گا اور مدافعت کی فرضیت کیلئے پہلی استطاعت کافی نہیں بلکہ دوسری صورت یعنی استطاعت شرعیہ شرط ہے جس کو اس حدیث نے صاف کر دیا ہے ـ قال من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ ( جب کوئی شخص کسی گناہ کو ہوتا ہوا دیکھئے تو اس کو ہاتھ سے مٹادے اگر اس کی قدرت نہ ہو تو زبان سے اس کی برائی ظاہر کر دے اگر اس کی بھی قدرت نہ ہو تو دل سے ( ضرور) اس کو برا سمجھے ) ـ ظاہر ہے کہ استطاعت باللسان ہر وقت حاصل ہے پھر اس کے انتفاء کی تقدیر کب محقق ہو گی ـ یعنی اگر فعل کسی کی فرضیت کیلئے محض اس فعل پر قادر ہونا کافی ہو اور اس سے جو خطرات پیش آنے والے ہوں ان کی مدافعت پر قادر ہونا شرط نہ ہو تو زبان سے انکار کرنا ہر حالت میں فرض ہونا چاہئے کیونکہ زبان کا چلانا ہر وقت ہماری قدرت میں ہے پھر وہ کون سی صورت ہوگی جس کی نسبت حضورؐ ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر زبان سے بھی مٹانے کی قدرت نہ ہو تو دل سے مٹا دے اس سے ثابت ہوا کہ استطاعت سے مراد یہ ہے کہ اس فعل پر قدرت ہونے کے ساتھ اس میں ایسا خطرہ بھی نہ ہو جس کی مقاومت اور مدافعت و مقابلہ بہ ظن غالب عادۃ نا ممکن ہو ایک شرط یہ بھی ہے کہ اس دفاع کے بعد اس سے زیادہ شر میں مبتلا نہ ہو جائیں ـ سوال : پھر کیا صورت ہے کشمیر کے مسلمانوں کی امداد کی ؟ جواب : یہ صورت ہے کہ وہاں جا کر ان کو تبلیغ کی جائے اور آپس میں اتحاد کی ترغیب دی جائے اور جب قوت ہو جائے لڑیں جہاد کریں ـ سوال : دروازہ ہی پر روک لیا جاتا ہے گرفتار کر لیا جاتا ہے اندر جانے ہی نہیں دیا جاتا ـ جواب : آپ ہی دیکھ لیجئے کہ ایسی حالت میں آپ سے کشمیر کے مسلمانوں کو کیا امداد پہنچ سکتی ہے جب کہ وہاں تک پہنچنے پر بھی قدرت نہیں جتھوں کا جیل میں جانا پٹنا ، بھوک پڑتال وغیرہ کرنا  خود کشی کے مرادف ہے اور اگر خود کشی سے کسی کو فائدہ پہنچے تب بھی تو باوجود موجب فوائد ہونے کے جائز نہیں ہے ـ چہ جائیکہ کوئی فائدہ بھی نہ پہنچے تو اس کا درجہ ظاہر ہے یعنی اگر یہ معلوم ہو جائے کہ خود کشی کرنے سے کفار پر اثر ہوگا تو کیا خود کشی کرنا جائز ہو جائے گا اور یہ جیلوں میں جانا اور بھوک ہڑتال کرنا کیا خود کشی کا مرادف نہیں ہے اگر کوئی نفع بھی خود کشی پر مرتب ہو تو یہ خود ہی اتنا زبردست نقصان ہے کہ جس کا پھر کوئی بدل ہی نہیں حضرت ہر منفعت کا اعتبار نہیں اس کی تو بالکل ایسی مثال ہے کہ کوئی شخص یوں کہے کہ فلاں شخص کی جان بچ سکتی ہے اگر تم کنوئیں میں گر جاؤ تو اس کی جان بچانے کی غرض سے کیا کنوئیں میں گر جانا جائز ہو گا ـ سوال : تو کیا پھر قتال ہی کیا جائے ـ جواب : ضرور ، مگر قدرت عادی شرط ہے اور محض کامیابی کی خیالی توقع قدرت نہیں ہے ـ سوال : ضرر تو قتال میں بھی ہے اشد ضرر کہ جان جاتی ہے ـ جواب : چونکہ قتال مقصود اور منصوص ہے اس لئے اس کا ضرر معتبر نہیں اور یہ تدابیر اور طریق کار غیر منصوص ہیں اس لئے اس کے ضرر کو دیکھا جائے گا ـ اور وجہ فرق دونوں میں یہ ہے کہ اصل مقصد یہ ہے کہ فتنہ نہ ہو قتال فتنہ نہیں ہے کیونکہ قتال میں طبیعت یکسو ہو جاتی ہے اور سکون ہوتا ہے ـ اور ان امور میں تشتت اور پراگندگی اور اضاعت اوقات ہے ـ اصل یہ ہے کہ لوگ فقہ کو نہیں دیکھتے پروگرام بناتے وقت ـ اور فقہ کو محض رائے سے دیکھنا کافی نہیں اور نہ مفید ہے بلکہ نصوص اور ذوق کے ساتھ دیکھنا مفید ہے اس میں سب احکام اظہر من الشمس ہین فن فقہ ہی دقیق ہے اسی واسطے میں ہمیشہ احتیاط کے پہلو کو ترجیح دیتا ہوں ـ سوال : من قتل دون عرضہ ومالہ فھو شھید ( جو شخص اپنی آبرو اور مال کے بچانے کے سلسلہ میں قتل ہو جائے وہ شہید ہے ) سے جان دینا جائز نکلتا ہے تو بھوک ہڑتال وغیرہ میں گنجائش معلوم ہوتی ہے ـ جواب : قتل سے مراد خود کشی نہیں ہے بلکہ مراد قتال ہے یعنی لڑو جنگ کرو اس نیت سے کہ جان اور مال اور ایمان بچ جائے پھر اس قتال میں اگر جان چلی جائے تو چلی جائے وہ شہادت ہے اور خود قتل مقصود نہیں ہے وہ بھی جبکہ اس قتال کی سب شرطیں پائی جائیں اور موانع مرتفع ہوں جس کی تفصیل کتب فقہ میں ہے اور خود قتل کا مقصود نہ ہونا اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں ہر جگہ یقتلون ( بصیغہ مجہول ) بعد میں ہے یقتلون ( بصیغہ معروف ) سے ـ پس معلوم ہوا کہ یقتلوں خود مقصود نہیں بلکہ یقتلون سے کبھی لازم آ جاتا ہے ـ سوال : پوری قدرت تو نہیں مگر جو کچھ بھی ہے اس کا استعمال کس طرح کریں کچھ تو ہونا چاہئے ـ جواب : یہ بھی آپ ہی بتا سکتے ہیں کہ کیا کرنا چاہئے میری تو سمھھ میں اس سے زیادہ نہیں آتا کہ ان کو تبلیغ کرو اور دین سکھلاؤ اس کے بعد لڑاؤ ـ میں پوچھتا ہوں ہجرت کے بعد جو مسلمان مکہ میں تھے ان کی جانیں تھیں اس وقت اہل مدینہ نے ایک بھی جتھ نہ بھیجا ـ کوئی بھی جتھا نہ گیا جب تک آیت قتال نازل نہ ہوئی ـ صبر کے سوا کوئی حرکت اس آئینی جنگ کی جاری نہ ہوئی پس جنگ اسلامی لڑو آئین کہاں کی خرافات نکالی ہے ـ سوال : ایسے آئین اس وقت ایجاد نہ ہوئے تھے اگر ہوتے تو جنگ بھی ایسی ہی ہو جاتی ـ جواب : بہر حال اس سے اتنا تو معلوم ہو گیا کہ یہ آئین منصوص تو ہے نہیں عقل ہی کا اختراع ہے تو صحابہ بھی عاقل تھے ان کے ذہن میں اور بڑی بڑی تدبیریں آئیں یہ تدابیر کیوں نہ آئیں اوریہ کیا آج کل کی اختراع شدہ تدابیر میں سے ایک بھی نہ آئی تو بس قتال کی آئی وہ بھی جب جبکہ آیت قتال نازل ہو چکی ـ خلاصہ یہ ہے کہ اگر عمومات سے استدلال ہے تو سوال یہ ہے کہ آج تک امت میں عمومات سے استدلال کر کے کسی نے عمل بھی کیا ہے اور کیا تیرہ سو برس میں ایسی مظلومیت کی صورتیں پیش نہ آئیں تھیں ـ پھر یہ طریقے کیوں نہیں اختیار کئے گئے ـ دوسری بات یہ پوچھتا ہوں کہ ہجرت کے بعد جو مستضعفین مکہ میں رہ گئے تھے ان مسلمانوں میں بھی کچھ قوت اور استطاعت تھی یا نہیں اگر یہ کہا جائے ان میں قوت اس قدر نہ تھی کہ کسی قسم کا بھی مقابلہ کر سکتے جواب یہ ہے کہ یہ غلط ہے ان میں اس قدر قوت تھی کہ ہندوستان کی قوت ان کی قوت کے سامنے گرد ہے ـ

سوال : مقابل کفار بھی ایسے ہی قوی تھے اس لئے وہ ان سے مقابلہ نہ کر سکے ـ جواب : یہ تو میرے کلام کا حاصل ہے یہی تو بات ہے اور اب کیا بات رہی اگر اس کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر کوئی اختلاف ہی نہیں رہتا مطلب یہی تو ہوا کہ صبر ہی کرنا پڑے گا ـ عدم قدرت کی حالت میں جیسا کہ اہل مکہ نے کیا اور جب مدینہ والوں کو قوت ہو گئی اس وقت تلواریں ہاتھ میں لیں اور مکہ پر چڑھائی کی ـ سوال : پہلے آئین کی لڑائی نہ تھی اب تو آئین کی لڑائی ہے جواب : اس کا جواب پہلے ہو چکا ہے اب پھر سمجھ لیجئے کہ یہ آئین کہاں سے آئے یہ بھی تو گھڑے ہوئے ہیں اور صحابہ نے تو سلطنت کی ہے اتنی بات ان کی سمجھ میں نہ آئی کہ اس طرح جتھے بھیج کر مکہ والوں کی مدد کرتے خیر کچھ بھی ہو منقولات سے ثابت کیجئے عجیب بات ہے کہ آپ مجھ سے تو غیر منقولات منوانا چاہتے ہیں اور آپ منقولات کو بھی تسلیم نہیں کرتے ـ میں ہرگز ماننے کو تیار نہیں جب تک آپ منقولات سے ثابت نہ کریں جیسے ہمارے بزرگوں نے نظام دین کی حفاظت کیلئے قائم کیا یعنی تقلید ـ اس کو ایسی آسانی سے نہیں چھوڑ سکتے اور خرابی تو آجکل زیادہ اسی وجہ سے ہو رہی ہے کہ ہر شخص مجتہد بنا ہوا ہے ـ واقعی سلف صالحین بڑے ہی حکیم تھے دنیا میں یہ طبقہ حکماء کا ہے کہ اجتہاد ہی کو بند کر دیا ہم سے زیادہ دین کو سمجھنے والے تھے ـ مزاحا فرمایا کہ ہم لوگ تو عند اللہ بھی معذور ہوں گے پوچھا جائے گا عرض کر دیں گے کہ اے اللہ ! کوئی دلیل ہی سمجھ میں نہ آئی تھی اور آپ سے پوچھا جائے گا کہ باوجود دلیل معلوم ہونے کے بھی کشمیر کے مسلمانوں کی کیوں امداد نہیں کی اور وہاں پر کیوں نہیں گئے ہم تو وہاں پر بھی بری اور آپ سے وہاں بھی باز پرس ! میں ایک کام کی بات عرض کرتا ہوں کہ ان چیزوں میں نرے دلائل کافی نہیں تھوڑے سے ذوق کی بھی ضرورت ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ ان جدید تدابیر اور طریق کار میں غیر منصوص ہونے کے علاوہ میرا ذوق بھی ان چیزوں کے خلاف ہے اور مدار قبول اسکات خصم نہیں اسقاط ہے ـ سوال : ہم ہر طرح پر کمزور ہیں کچھ نہیں کر سکتے ـ جواب : یا تو اس قدر قوت تھی جوش تھا کہ منصوص کے مقابلہ میں غیر منصوص پر عمل کرنے کو تیار تھے یا یہ عقیدہ کر لیا ہے کہ ہم کمزور ہیں کام کیجئے ـ مگر شرط یہ ہے کہ حدود شرعیہ کو محفوظ رکھتے ہوئے کام کیجئے ـ انبیاء ؑ کی تدابیر میں اثر نہ ہو غضب کی بات ہے اپنی اختراع کی ہوئی تدابیر کو مؤثر سمجھیں ـ میں پوچھتا ہوں کہ تدابیر کے استعمال میں خدا کے راضی کرنے میں کامیابی کا اثر ہوگا یا ناراض کرنے میں ظاہر ہے کہ راضی کرنے میں اثر ہو گا تو اس کی ایک ہی تدبیر ہے کہ تدابیر منصوصہ پر عمل کیا جائے ـ سوال : ان غیر منصوصہ پر جو عمل کیا جائے گا غیر مشروع اور برا سمجھ کر تھوڑا ہی کرینگے تو اس میں بھی خدا تعالی کی ناراضی نہ ہوگی ـ جواب : یہ تو اور بھی برا ہے کہ معصیت کو معصیت بھی نہ سمجھا جائے بلکہ معصیت کو نیکی سمجھ کر کیا جائے یہ درجہ تو اس سے بھی برا ہے اور بہت برا ہے پھر بدعت کوئی چیز ہی نہیں رہتی اس لئے کہ بدعتیں جس قدر ہیں سب کو دین ہی سمجھ کر کرتے ہیں اہل بدعت یہی جواب دے سکتے ہیں کہ ہم برا سمجھ کر تھوڑا ہی کرتے ہیں اس سے تو سنت اور بدعت جائز اور نا جائز میں کوئی فرق ہی نہیں رہتا ہر برے کام میں نیت اچھی کر لیا کریں کہ ہم جو کر رہے ہیں یہ برا کام نہیں بلکہ نیک کام ہے ـ آپ ہی بتلایئے کہ یہ کلیہ کہاں تک صحیح ہے جو آپ نے بیان کیا ـ سوال: منصوص تدابیر کے مقابل ان جدید تدابیر کو منہی عنہ نہیں فرمایا گیا نہ نہی وارد ہے نہ حکم ہے تو اس صورت میں مسکوت عنہ کہا جائے گا ممنوع ہونے کی وجہ ہے ؟ جواب : جن چیزوں کی حاجت خیرالقرون میں نہ ہوئی ہو اور خیرالقرون کے بعد حاجت پیش آئی ہو اور نصوص ان کے خلاف نہ ہوں وہ تو مسکوت عنہا ہو سکتی ہیں لیکن ان چیزوں کی تو حاجت ہمیشہ ہی پیش آتی رہی پھر بھی نصوص میں صرف جہاد یا صبر ہی کا حکم ہے تو اس اعتبار سے یہ مسکوت عنہ نہ ہوگا منہی عنہ ہوگا ـ کہ باوجود ضرورت کے متقدین نے اس کو ترک کیا ـ اختیار نہیں کیا تو اجماع ہو اس کے ترک پر اس لئے ممنوع ہوگا ـ علاوہ ان سب باتوں کے ایک یہ بات باریک ہے جس کو سمجھ لینے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ہر کام کرنے کیلئے حدود کی ضرورت ہے ان تحریکات میں بھی ضرورت ہے سو اس کا تحفظ کون کریگا یا کون کرائیگا ـ ایک لڑکا زمانہ خلافت میں ہجرت کر گیا اس کی ماں روتی روتی اندھی ہو گئی اس کو کون دیکھے گا کہ کس کو جانا چاہئے اور کس کو نہیں ـ اگر تدابیر جدیدہ جائز بھی ہوں تب بھی اس کی ضرورت ہے کہ کوئی امیر ہوتا کہ حدود کی رعایت خود بھی کرے اور دوسروں سے بھی کرائے ـ بلا امیر کے کچھ نہیں ہو سکتا ـ فرمایا ! کہ امیر پر یاد آیا کہ ایک ڈاکٹر صاحب ہیں پنجاب میں بہت ہی مخلص اور سمجھ دار شخص ہیں زمانہ تحریک خلافت میں ان کے ایک عزیز بڑے ہی جوش اور سرگرمی کے ساتھ حصہ لئے ہوئے تھے ـ ڈاکٹر صاحب ان معاملات سے یکنو تھے ـ ایک روز ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ آپ اس تحریک میں حصہ کیوں نہیں لیتے ڈاکٹر صاحب نے میرا نام لے دیا کہ وہ شریک نہیں اس لئے میں کوئی حصہ نہیں لے سکتا ـ یہ سن کر بولے کہ میں اس کو تو پانچ منٹ میں اپنے ساتھ کر لوں گا ـ دیکھیں کیسے شریک نہیں ہوتے مجھ کو تھانہ بھون لے چلو میں گفتگو کروں گا ـ ڈاکٹر صاحب نے یہ واقعہ مجھ سے بیان کیا کہ میرے بھائی ایسا کہتے ہیں اگر اجازت ہو ساتھ لے کر آؤں ـ میں نے لکھ دیا کہ ضرور لاؤ ایسے آدمی کی ضرورت ہے جو اس قدر ذہین ہو مجھے خود ان سے ملاقات کا اشتیاق ہو گیا کہ اس لئے کہ ایسا ذہین آدمی کہاں ملتا ہے ـ میں سچ عرض کرتا ہوں کہ میری ہمیشہ یہ نیت رہی اور ہے کہ مسلمان تو بڑی چیز ہیں اگر مجھ کو بھنگی کا بچہ بھی سمجھا دے میں مان لوں گا ـ خدانخواستہ کوئی ضد یا ہٹ تھوڑا ہی ہے ـ ہاں اس کے ساتھ یہ بھی نیت رہی کہ بدوں مسئلے کو سمجھے ہوئے ایک انچ بھی قدم نہ اٹھاؤں گا ـ دوسرے یہ ہے کہ مصالح وغیرہ کو  شریعت مقدسہ پر مقدم نہیں کر سکتا ـ یہ میرا فطری امر ہے میں اس میں مجبور ہوں مجھ سے مصالح پرستی نہیں ہو سکتی مصالح تو یہاں پر پیس دیے جاتے ہیں ـ میں تو کہا کرتا ہوں کہ مصالحوں کو سل پر خوب پیسا جائے جتنا پیسا جائے گا اتنا ہی سالن لذیذ ہوگا ـ فرمایا کہ مصالح پر یاد آیا جان سے بڑھ کر کوئی مصالح نہ ہوں گے جس زمانہ تحریک خلافت کا شباب تھا شورش پسند طبیعتیں جوش میں بھڑک رہی تھیں چہار طرف ایک آ گ لگی ہوئی تھی یہاں تک نوبت آ گئی تھی کہ علاوہ برا بھلا کہنے اور لعن طعن اور قسم قسم کے بہتان والزامات لگانے کی دھمکی کے خطوط میرے پاس آئے یا تو شریک ہو جاؤ ورنہ قتل کر دیئے جاؤ گے اس وقت غایت شفقت اور محبت کی بناء پر حضرت مولانا خلیل احمد صاحبؒ نے ایک خاص اور معتمد شخص کی زبانی کہلا کر بھیجا کہ یہ وقت خطرہ کا ہے اگر بظاہر تھوڑی سی شرکت کر لو تو گنجائش ہے ـ میں نے کہلا بھیجا کہ یہ آپ کی محبت اور شفقت کا اقتضاء ہے مگر سب سے بڑا خطرہ جان کا چلا جانا تھا ـ سو اس کیلئے میں اپنے نفس کو تیار پاتا ہوں لیکن اس پر آمادہ نہیں ہوں کہ بلا سمجھے شرکت کر لوں اور نہ اس پر قدرت ہے کہ بظاہر تو شرکت کروں اور باطن میں الگ رہوں اس کو میں منافقت سمجھتا ہوں ۤـ اور بحمد اللہ اس وقت تک ہر خطرہ سے محفوظ آپ کے سامنے زندہ اور صحیح سلامت موجود ہوں ـ لڑکیوں کا کھیل بنا رکھا ہے یہ دین ہے کہ یا تو وہ کرو جو ہم کریں ورنہ قتل کر دیئے جاؤ گے ـ اسی زمانہ میں جنگل معمول کے موافق صبح کو گیا ایک ہندو راجپوت بوڑھا تھانہ بھون ہی کا رہنے والا ملا بستی کے ہندو بھی جو پرانے خیال کے اور پرانے عمر کے ہیں محبت کرتے ہیں کہنے لگا مولوی جی کچھ خبر بھی ہے تمہارے واسطے کیا تجویزیں ہو رہی ہیں تنہا اس طرح جنگل میں مت آیا کرو ـ میں نے کہا کہ چودھری مجھ کو اس کی بھی خبر ہے اور ایک بات کی اور بھی خبر ہے جس کی تم کو خبرنہیں کہنے لگا کہ جی وہ کیا ہے میں نے کہا کہ بدوں اس کے حکم کے کوئی کچھ نہیں کر سکتا ـ وہ تھا تو ہندو مگر یہ سن کر اس قدر اس پر اثر ہوا جوش میں آ کر کہنے لگا کہ مولوی جی ! تم جہاں چاہے پھرو تمہیں جو کھم ( خطرہ ) نہیں ایسے آدمی کیلئے گھر جنگل پیاڑ سب ایک ہی سے ہیں ـ

غرضیکہ ڈاکٹر صاحب اپنے بھائی ہو ہمراہ لے کر یہاں پر آئے پہلی ملاقات تھی مگر نہایت بے تکلفی سے گفتگو شروع کی ـ گفتگو کرنے پر معلوم ہوا کہ آدمی سمجھ دار تھے مگر غلطی میں مبتلا تھے کہنے لگے کہ میں بلا تمہید عرض کرتا ہوں کہ آُپ اس تحریک میں شریک کیوں نہیں ـ میں نے کہا کہ میں بھی بلا تمہید عرض کرتا ہوں کہ جو کام اس وقت اٹھا ہے اس میں ضرورت ہے اتفاق کی حدوثا بھی بقاء بھی ـ اور اول تو مجھ کو حدوث اتفاق ہی میں کلام ہے لیکن علی سبیل التنزل اگر مان بھی لیا جائے تو بقا کا کون ذمہ دار ہے ـ اس لئے کہ بقاء کیلئے ارادت کافی نہیں قہرو قوت کی ضرورت ہے اور وہ قوت امیرالمومنین ہے اور اس وقت مسلمانوں کا کوئی امیر یا سردار نہیں جو ان کی قوت کو ایک مرکز پر جمع رکھ سکے جو روح ہے اس کام کے کرنے کی تو خلاصہ شرط کا یہ ٹھہرا کہ مسلمانوں کا کوئی امیرالمومنین ہو سب سے بڑا اور ہم مسئلہ یہ ہے سو اس کی کیا صورت ہے کہنے لگا کہ ہم آپ ہی کو امیرالمومنین بناتے ہیں ـ میں نے کہا کہ میں امیرالمومنین بننے کو تیار ہوں مگر اس میں کچھ شرائط ہیں میں نے ان شرائط کی تقریر کی جس کا حاصل یہ ہے کہ اول شرط یہ ہے کہ تمام ہمدوستان کے مسلمان اپنا تمام مال اور جائداد میرے نام ہبہ کر دیں میں بھیک مانگنے والا امیرالمومنین نہیں بنوں گا ـ اور مانگنے کی بھی کوئی حد ہے کوئی ایک دفعہ دیگا دو دفعہ دیگا تین دفعہ دیگا ـ بالآخر اکتا جائیگا کہ ان کو تو رات دن کا یہی قصہ ہے ـ دوسرے ایسے کام چندوں سے نہیں چلا کرتے ـ چندوں سے جن کے کام چلے ہیں ان کے مال و جان ان کی آبرو ان کے بیوی بچے سب خدا کی راہ پر اپنے کو قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے اور اصل مقصد میں سب متحد تھے خلوص سے ان کے قلوب پر تھے ان کی کیا کوئی ہمسری کا دعوی کر سکتا ہے اور اس کا کوئی وقت مقرر نہیں کہ کب تک یہ ضرورت رہے اور یہ میں جو کچھ عرض کر رہا ہوں تجربات کی بناء پر اس لئے کہ آجکل چندوں کی اس قدر بھر مار ہے کہ لوگ دیتے دیتے اکتا گئے ـ تیسری یہ بات ہے کہ اگر کوئی ضروت صرف کی فوری پیش آگئی اور پلے ہے نہیں اب اگر رقم وقت پر اپنے ضرورت تو ہے آج اور آپ کھڑے ہوئے چندہ کو ـ پھر اس میں بھی یہ ضرور تھوڑا ہی ہے کہ فوری کامیابی ہو جائے یہ بھی تو احتمال ہے کہ کامیابی نہ ہو تو ایک یقینی ضرورت کو احتمالی بات پر معلق کر دینا یہ کون سی عقلمندی کی بات ہے ـ اب بتلایئے کہ اس وقت چندہ کی فکر کیجئے گا یا کام کی تو پہلے اس کا نتظام کیا جائے ـ اب سنیئے کہ اس سرمایہ سے جو میرے نام ہبہ ہوگا ـ سامان جمع کروں گا اور یہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہبہ کے بعد ہبہ کرنے والوں میں سے کسی کو تکلیف نہ ہونے دوں گا سب کو حسب حیثیت اور مذاق انشاء اللہ تعالی خرچ دوں گا اور یہ بھی اطمینان دلاتا ہوں اور اگر اطمینان نہ ہو تو تحریر مجھ سے لکھا لی جائے کہ بعد انفراغ اور کامیابی کے بجنسہ سب کی جائیداد وغیرہ واپس کر دوں گا رکھوں گا نہیں ـ دوسری شرط یہ ہے کہ ہندوستان کے تمام مشاہیر علماء اور لیڈروں کے د ستخط کراؤ کہ وہ مجھ کو امیرالمومنین تسلیم کر لیں اگر بلا اختلاف سب نے تسلیم کر لیا تو میں امیرالمومنین ہوں گا ـ اگر ایک نے بھی اختلاف کیا تو میں امیرالمومنین نہیں ہو سکتا اس لئے کہ اختلاف کی صورت میں امیر امیر نہیں ہو سکتا ـ ہاں اگر تسلیم کے بعد پھر کوئی اختلاف یا خلاف کرے تو امیر کو حق ہے کہ وہ اپنی قوت سے ایسے لوگوں کو دبائے اور ٹھیک کرے قبل از تسلیم حق نہیں کہ اس کو دبایا جائے ایک یہ کام کرا دیجئے ـ اب سنیئے کہ امیر المومنین ہونے کے بعد سب سے اول جو حکم دوںگا وہ یہ ہوگا کہ دس سال تک سب خاموش ہر قسم کی تحریک اور ہر قسم کی شوروغل بند ! اس دس سال میں انتظام کروں گا ـ مسلمانوں کو مسلمان بنانے کے اور ان کی اصلاح کیلئے با قاعدہ انتظام ہوگا ـ غرضیکہ مکمل انتظام کے بعد جو مباسب ہوگا حکم دوں گا ـ عملی صورت یہ ہے کام کرنے کی اور محض کاغذی امیرالمومنین بنانا چاہتے ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آج امیرالمومنین ہوں گا کل کو اسیرالکافرین ہوں گا آج سردار بنوں گا کل کو سردار ہوں گا ـ یہ تقریر سن کر ان کی تو سب ذہانت ختم ہو گئی اور یہی مقصود تھا ـ اس تقریر سے کہ ان کو اپنے خیالی منصوبوں کی حقیقت معلوم ہو جائے ورنہ امیرالمومنین کون بنتا ہے اور کون بناتا ہے ـ یہ تقریر بھی ایک علمی ناول تھا جس میں فرضیات سے مفید سبق دیا جاتا ہے ـ خلاصہ یہ ہے کہ ہر کام اصول سے ہو سکتا ہے بے اصول تو گھر کا بھی انتظام نہیں ہو سکتا ـ ملک کا تو کیا خاک انتظام ہو گا ـ یہ ہیں وہ اصولی باتیں جن پر مجھ کو برا بھلا کہا جاتا ہے اور قسم قسم کے الزامات و بہتان میرے سر تھوبے جاتے ہیں اور لوگ مجھ سے خفا ہیں اور وجہ خفا ہونے کی صرف یہ ہے کہ میں کہتا ہوں کہ اصول کے ماتحت کام کرو جوش سے کام مت لو ـ ہوش سے کام لو ـ جوش کا انجام خراب نکلے گا ـ حدود شرعیہ کی حفاظت رکھو وہ ان باتوں کو اپنے مقاصد میں روڑا انکا نا سمجھتے ہیں ـ میں کہتا ہوں اگر دین نہ رہا اور احکام اسلام کو پا مال کرنے کے بعد کوئی کام بھی کیا تو وہ کام پھر دین کا نہ ہو گا ـ کیا یہ دین کی خیر خواہی اور ہمدردی کہلائی جا سکتی ہے ـ اے صاحبو! آج سے پہلے بھی تو اسلام اور مسلمانوں پر اس سے بڑے بڑے حوادث پیش آئے ہیں کہ اس وقت اس کا عشر عشیر بھی نہیں مگر انہوں نے اس حالت میں بھی اصول اسلام اور احکام اسلام کو نہیں چھوڑا سلف کے کارناموں کو پیش نظر رکھ کر کچھ تو غیرت آنا چاہئے تم تو معمولی معمولی باتوں میں احکام اسلام کو ترک کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہو وہ حضرات عین قتال کے وقت بھی حدود کی حفاظت اور رعایت فرماتے تھے جس پر آج ہم کو فخر ہے اب تم ہی فیصلہ کر لو کہ وہ تھے خیر خواہ اسلام ہمدرد اسلام جانباز اسلام یا تم ـ تحریک خلافت کے زمانہ میں صاف الفاظ میں یہ کہا جاتا تھا کہ یہ مسائل کا وقت نہیں کام کرنے کا وقت ہے ـ ایک مولوی صاحب نے جو تحریکات میں نہایت جوش اور سرگرمی کے ساتھ کام کر رہے تھے مجھ سے خود بیان کیا کہ ہم کو وہ کام کرنے پڑے ہیں اس تحریک میں کہ اگر علماء کو معلوم ہو جائیں تو ہم پر کفر کا فتوی دیدیں ـ یہ تو حالت ہے اور اس پر دعوی دین کی خدمت کا ـ خود ان خرافات اور بہیود گیوں کا اقرار ہے اور پھر ایسے معالات میں کہ جن کو خود بھی شرک اور کفر تک سمجھتے ہیں دوسروں کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے کہ تم بھی ہم جیسے بن جاؤ ـ اس موقع پر یہ مقولہ صادق آتا ہے “” ہم تو ڈوبے ہیں مگر تجھ کو بھی لے ڈوبیں گے ،، یہ تو علماء کی حالت ہے جو ان تحریکات میں حصہ لے رہے ہیں ـ باقی عوام اور لیڈروں کی حالت  کا اسی سے اندازہ کر لیا جائے کہ وہ کیا کرتے ہوں گے ـ اب جو ان باتوں پر تنبیہ کرے یا خاموش اور علیحدہ رہ کر خرافات کی شرکت سے اپنے دین و ایمان کی حفاظت کرے اس پر لعن طعن سب وشتم کیا جاتا ہے ـ یہ سب خرابیان امیر عادل نہ ہونے کی وجہ سے ہیں اگر امیر عادل ہو وہ ان خرافات کا انسداد کر سکتا ہے وہی حدود کی رعایت کرا سکتا ہے ـ غرض اصل چیز رعایت ہے حدود کی پھر اگر اس میں کامیابی نہ ہو تو صبر کریں ـ اجی جان دینا تو مشکل نہیں مگر یہ تو اطمینان ہو کہ اپنے مٖصرف پر گئی جان بھی ـ کم بخت دی اور خلجان مول لیا کہ جس کام کیلئے جان دی ہے وہ دین ہے یا نہیں ـ یونہی بیٹھے بٹھلائے جا کر جان دے دینا کون سی انسانیت ہے اگر کوئی وقت آ گیا جان دینے کا اور صحیح مصرف بھی ہوا تو سب سے پہلے یہ مدعیان خیر خواہی قوم اور ہمدردان اسلام ہی دم دبا کر بھاگتے نظر آئیں گے جس وقت حضرت مولانا دیو بندیؒ مالٹے سے دیوبند تشریف لائے تو میں حضرت کی زیارت کیلئے دیوبند حاضر ہوا تھا ـ وہاں پر ایک صاحب اس قسم کی گفتگو کرنے لگے اور یہ کہا کہ آپ کو تو معلوم ہے پہلے آپ کے بزرگ بھی تو کھڑے ہوئے تھے میں نے کہا مجھ کو یہ بھی خبر ہے کہ کھڑے ہوئے تھے اوراس کی بھی خبر ہے کہ بیٹھ بھی گئے تھے اور آخر تک بیٹھے ہی رہے ـ اب بتلاؤ کہ اپنے بزرگوں کے متبع ہم ہوئے یا تم اس لئے کہ تم منسوخ پر عمل کر رہے ہو اور ہمارا عمل ناسخ پر ہے پھر کچھ نہیں بولے خدا معلوم کیا سمجھ رکھا ہے جن وجوہ اور اسباب کی بنا پر بیٹھ جانیکو ترجیح دی تھی وہی اسباب اب بھی موجود ہیں ـ بلکہ اس سے زیادہ ابتری اور کمزوری نظر آ رہی ہے ـ اگر ذرا غور اور فکر سے کام لیں تو اس وقت اور اس وقت کی حالت کا تفاوت مشاہد ہو سکتا ہے کوئی باریک یا غامض بات نہیں جس میں اختلاف کی گنجائش ہو اور یوں تو ہر بات کا جواب ہو سکتا ہے ـ مگر دیکھنا یہ ہے کہ وہ جواب مقبول ہے یا مردود ـ اس لئے کہ شیطان نے اللہ میاں کو جواب دیا تھا اس پر جو حشر اس کا ہوا کسی سے مخفی نہیں اور عوام کے بھروسہ جبکہ ان میں دین بھی پورا نہ ہو کسی ایسے کام میں ہاتھ ڈالنا بہت خطرناک بات ہے اور یہ خطرہ دنیا ہی کیلئے نہیں بلکہ اس کا اثر دین پر بھی ہو گا اور یہ نہایت قوی اندیشہ ہے خصوصا اس حالت کے مضر ہونے میں تو کوئی کلام ہی نہیں ہو سکتا جبکہ دوسروں کے کندھوں پر بندوق چلائی جا رہی ہو ـ

جیسا صاف کہتے ہیں کہ بدوں برادراں وطن (ہندوؤں ) کی شرکت کے ہم کچھ نہیں کرسکتے ایسی قوت کے بھروسہ کہ جس سے کسی وقت بھی اسلامی خیر خواہی اور ہمدردی کی امید نہیں کام کرنا کہاں عقلمندی کہلائی جا سکتی ہے نہ شرعا نہ عقلا ـ اس کو کوئی نافع تسلیم کر سکتا ہے ہزار ہا واقعات شب و روز مشاہد ہو رہے ہیں کہ وہ کسی طرح بھی اور کسی وقت میں اسلام اور مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے ـ خدا معلوم ان مشاہدات کو کس بناء پر نظر انداز کیا جا رہا ہے اور جو اصل چیز ہے کہ مسلمانوں میں دین پیدا ہو ان کی قوت ایک مرکز پر جمع ہو ـ ان کا کوئی امیر ہو اس کا کہیں نام و نشان بھی نہیں بھیڑا چال ہے جس طرف کو ایک چل دی سب اسی طرف کو چل دیتی ہیں ـ میں بقسم عرض کرتا ہوں اور خدا کی ذات پر بھروسہ کر کے کہتا ہوں کہ اگر مسلمان مضبوطی کے ساتھ اپنے دین کے پابند ہو جائیں اور تمام آپس کے مناقشات کو ختم کر کے متحد ہو جائیں اور اپنی قوت کو ایک مرکز پر جمع کر لیں اور جس کو اپنا خیر خواہ سمجھ کر بڑا بنائیں اس کے کہنے اور مشوروں پر عمل کریں اس کی اتباع سے سرمواعراض نہ کریں تو پھر ان کو نہ کسی کی شرکت کی ضرورت نہ ان کو کسی سے خوف کی ضرورت اور نہ ان کا کوئی کچھ بگاڑ سکتا ہے ہر کام طریقہ اور اصول سے ہوتا ہے معمولی معمولی باتوں پر بغیر اصول پر عمل کئے آدمی نا کامیاب رہتا ہے یہ اتنا بڑا کام اور اس کا کوئی اصول نہ ہو سخت حیرت ہے ہمارا تو ہستی اور وجود ہی کیا ہے ـ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ جن کی مقبولیت اور فراست و عقل تمام دنیا کو تسلیم ہے اور بڑے بڑے عقلاء اس پر متفق ہیں ـ انہوں نے بھی ساری عمر یہ کام کئے مگر اصول اور حدود کا ہاتھوں سے نہیں چھوڑا یہی راز ان کی کامیابی کا ہے یہ تو ہر شخص کی زبان پر ہے کہ ان کو کامیابیاں ہوئیں ان کی نصرت ہوئی وہ تمام عالم پر بے سروسامانی کی حالت میں غالب آئے مگر اسی کے ساتھ یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ ان کا طریق کار کیا تھا ان کا اس جدوجہد سے کیا مقصود تھا انکی نیت کیا تھی ان کے اعمال کیسے تھے وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ کیا برتاؤ کرتے تھے وہ احکام اسلام پر کس درجہ عامل تھے ان کے قلوب میں اسلام اور احکام اسلام کی کس قدر عظمت اور محبت تھی ثمرات پر تو نظر ہے اسباب ثمرات

پر بھی نظر ہونا چاہئے اور اس پر اپنی حالت کو منطبق کرنا چاہئے کھوٹے کھرے کا فرق بسہولت معلوم ہو جائے گا اور یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ ہم ان کامیابیوں اور نصرتوں کے مستحق ہیں یا نہیں ـ نرے دعوے اور زبانی باتیں ہانکنے سے کہیں کام چلا کرتا ہے ؟ کام تو کام کرنے سے ہوا کرتا ہے میرا معمول ہے کہ مجھے جب کوئی اس قسم کا مشورہ دیتا ہے کہ یہ کرنا چاہئے اور یہ ہونا چاہئے ـ جواب میں ایسا طریقہ بتلا دیتا ہوں کہ اس میں ان حضرت کو بھی کچھ کرنا پڑے اور خود بھی شرکت کا وعدہ کر لیتا ہوں باوجود میرے وعدہ شرکت کے ، کسی کو بھی آمادہ نہیں دیکھا دوسروں ہی کو چاہتے ہیں کہ سب یہ ہی کریں ہمیں کچھ نہ کرنا پڑے بطور مزاح فرمایا کہ پھر تو وہ اس کے مستحق ہو جاتے ہیں کہ ان کو یہ کہا جائے آمادہ ( یعنی اے مادہ آ جا) سب ترکی ختم ہو جاتی ہے ـ ان لوگوں کی حالت بالکل اس کی مصداق ہے جیسے دو دوستوں کا ایک ساتھ سفر ہوا اول منزل طے ہونے کے بعد کسی مقام پر قیام ـ کیا وہاں پر کھانے پکانے کی تجویز ہوئی ـ ایک بولا کہ بھائی ! میں تو بازار سے سودا لاتا ہوں تم جنگل سے لکڑیاں چن لاؤ ـ دوسرا کہتا ہے کہ دوست تم کو معلوم ہے کہ میں سفر کی وجہ سے تھکا ماندہ ہوں مجھ سے یہ کام انجام نہیں دیا جا سکتا ـ وہ بیچارا بازار سے سودا بھی لے آیا ـ اور جنگل سے لکڑیاں بھی چن لایا ـ پھر اس نے کہا کہ یہ کام تو ہو گیا اب تم آ گ جلا لو اور میں آٹا گوندھتا ہوں کہا کہ اتنی ہمت کہاں ہے بہت ہی خستہ حالت ہے اس نے یہ دونوں کام بھی انجام دیے پھر اس نے کہا کہ بھائی میں روٹی پکاتا ہوں تم آ گ جلاتے رہنا اور روٹی سینکتے رہنا کہا کہ بیٹھنا موت ہے سفر کی تھکان سے ٹانگیں چور ہو رہی ہیں اس نے روٹی بھی پکا لی پھر اس نے کہا کہ لو بھائی آ کر کھا تو لو ! تو کہتا ہے کہ بہت دیر سے دوست کے کہنے کی مخالفت کر رہا ہوں آخر کہاں تک مخالفت کروں شرم معلوم ہوتی ہے دوست کہے گا کہ کسی بات میں بھی کہنا نہیں مانا لاؤ کھا تو لوں ـ ہے یہی حالت ان مشورہ دینے والوں کی ہے ـ پکی پکائی چاہتے ہیں کہ مل جائے ہمیں کچھ نہ کرنا پڑے ـ میں پوچھتا ہوں کہ جو سلف کے کار ناموں کو پیش کر کے دوسروں کو ترغیب دہے کیا بلا ایک سے پہلے دوسرا اپنی جان دینے کو تیار تھا ـ منجملہ اور وجوہ کے ایک یہ بھی وجہ ہے کہ میں ایسے کاموں میں شرکت نہیں کرتا کہ ایسے کاموں کا تعلق دوسروں سے ہوتا ہے ـ اور یہ تجربہ معلوم ہو گیا ہے کہ کسی دوسرے کے بھروسہ کوئی کام کیا جائے کبھی انجام کو نہیں پہنچ سکتا یہ تو بہت بڑا کام ہے رات دن کے معاملات میں دیکھا جارہا ہے معمولی معمولی کاموں میں لوگ اس قدر پریشان کرتے ہیں کہ اگر کسی کو کوئی کام سپرد کر دیا جاتا ہے تو آئندہ توبہ ہی کرنی پڑتی ہے یہ تو اس کے مصداق ہیں کسی نے خوب کہا ہے ؎ نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے ٭ یہ بازو مرے آزمائے ہوئے ہیں البتہ دو کاموں کے خوب ہیں ایک تو جو بات گاندھی کے منہ سے نکل جائے اس کو قرآن و حدیث میں ٹھونسنا اور اس پر منطبق کرنا دوسرا یہ کہ جہاں کوئی بات ہوئی لاؤ چندہ ! ان دونوں چیزوں میں کمال حاصل کر لیا ہے ـ دیکھ لیجئے ! اتنا زمانہ گزر گیا گاندھی نے کسی نئی بات کا اعلان نہیں کیا سب خاموش ہیں ـ اب وہ کسی نئی اسکیم کی فکر میں ہوگا ـ جستجو کر رہا ہوگا تو جہاں اس نے کسی چیز کا اعلان کیا پھر دیکھنا قرآن و حدیث میں بھی وہ چیز نظر آنے لگے گی ـ اور کوئی چیز بھی تو اس تمام تحریک کی ایسی نہیں جو کسی مسلمان لیدر یا علماء کی تجویز کردہ ہو دیکھ لیجئے ـ اول ہوم روم گاندھی کی تجویز بائیکاٹ اس کی تجویز کھدر اس کی تجویز خلافت کا مسئلہ اس کی تجویز ہجرت کا سبق اس کی تجویز ـ غرضیکہ جملہ تحریکات میں جس قدر اجزاء ہیں سب اس کی تجویزات ہیں ـ ان کا صرف یہ کام ہے کہ جو اس نے کہا لبیک کہہ کر ساتھ ہو لئے کچھ تو غیرت آنا چاہئے ایسے بد فہموں نے اسلام اور مسلمانوں کو بد نام کیا سخت صدمہ اور افسوس ہے ـ پھر غضب یہ ہے کہ اس کو قرآن وحدیث سے ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کو فرض واجب سے تعبیر کیا جاتا ہے اس سے علیحدہ رہنے والے کو گمراہ اور مرتکب کبائر کا سمجھتے ہیں خدا معلوم لکھ پڑھ کر کہاں ڈبو دیا ـ گاندھی کے اقوال کا انطباق قرآن و حدیث پر ایسا ہی ہے جیسے ایک گاؤں میں بوجھ بجکڑ رہتا تھا اتفاق سے اس گاؤں کے رہنے والوں میں سے ایک شخص

کھجور کے درخت پر چڑھ گیا ـ چڑھ تو گیا تھا مگر اترا نہ گیا تمام گاؤں جمع ہو گیا مگر کسی کے کوئی تدبیر ذہن میں نہ آئی کہ اس کے اتر آنے کی درخت سے تدبیر ہے کیا ـ بالآخر بوجھ بجھکڑ بلائے گئے آکر درخت کے پاس کھڑے ہوئے کبھی اوپر کو دیکھتے ہیں اور کبھی نیچے کوـ سوچ ساچ کر بولے کہ رسی لاؤ ـ رسی لائی گئی کہا کہ اس میں گرہ لگا کر پھندہ لگاؤ اور اس کو قوت کے ساتھ اوپر پھینکو اور اس شخص سے کہا کہ اس کو پکڑ کر پھندہ کمر میں ڈال لے ـ غرضیکہ رسہ پھینکا گیا اس نے پکڑ کر کمر میں ڈال کیا ـ اب نیچے والوں سے کہا کہ زور سے جھٹکا مارو انہوں نے زور سے جھٹکا لگایا وہ پٹ سے نیچے آ پڑا ـ ہڈی پسلی ٹوٹ گئیں بھیجا نکل کر دور جا پڑا ختم ہو گیا ـ لوگوں نے بوجھ بجھکڑ سے دریافت کیا یہ کیسی تدبیر تھی یہ تو مر گیا ـ بوجھ بجھکڑ جواب میں کہتے ہیں کہ مر گیا تو میں کیا کروں اس کی قسمت ـ میں نے تو سینکڑوں آدمی اس ہی صورت سے رسی کے ذریعہ کنوئیں سے نکلوا لئے ہیں تو جیسے اس بوجھ بجھکڑ نے قیاس کیا کنوئیں پر کھجور کے درخت کو ـ ایسا ہی انطباق اور استدلال آجکل کیا جا رہا ہے ـ اسی استدلال کی بدولت (مشاہدہ ہے ) موپلوں کی قوم کو تباہ و برباد کرا دیا ـ ان لیڈروں اور ان کے ہم خٰیال مولویوں نے لیکچر دیے عربی النسل تھے ـ جوش پیدا ہو گیا ـ بھڑک اٹھے پھر جو کچھ ان کا حشر ہوا سب کو معلوم ہے پھر ایک لیڈر بھی وہاں نظر نہ آیا کسی نے بھی ان کی امداد نہ کہ ـ چاہتے یہ ہیں کہ ہم تو کرسی صدارت پر بیٹھے رہیں اور لوگ جانیں دیتے رہیں یہ انجام ہوتا ہے بے اصول کاموں کا ، کہ موپلوں کی قوم تباہ و برباد ہو گئی ـ بجائے ترقی کے پستی کی طرف پہنچ گئے ـ بالکل وہی صورت ہے کہ کھجور کے درخت سے زمین پر لایا گیا ـ بلندی سے پستی کی طرف آیا ـ انجام ہلاکت ہوا تو یہ جس قدر من گھڑت تدابیر نصوص کے خلاف ہیں ان کا درجہ بھی اس بوجھ بجکڑ کی تدابیر سے کم نہیں جو انجام وہاں ہوا وہی یہاں ہوگا کہ بلندی سے پستی کی طرف آؤ گے ـ اور اصول کے خلاف مت کرو ـ حدود شرعیہ کا تحظ کرو ـ ایڑی چوٹی تک لگاؤ زور ، واللہ ! ایک انچ بھی تو آ گے نہیں چل سکتے ـ کر کے دیکھ لو ـ اور یہی دیکھ لو کہ کسی نتیجہ پر پہنچتے ہو یا نہیں مسلمانوں کی فلاں اور ان کی بہبودی

تدابیر منصوصہ ہی میں ہے یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے بعض لوگ دعا ماثورہ کو چھوڑ کر اور طریق دعا کا اختیار کرتے ہیں ظاہر ہے کہ یہ طریق مقبول اور پسندیدہ خدا اور رسول کا ہوتا تو وہ بھی تو تعلیم کر دیا جاتا ، جب نہیں کیا گیا ـ اس سے معلوم ہوا کہ یہ طریق مقبول اور پسندیدہ نہیں اوراسی سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ غیر مقبول میں خیر اور برکت کہاں ، بے برکتی بھی مشاہد ہے اور بے برکتی کے اسباب میں سے یہ بھی ہے کہ یہ اس شخص کی تعلیمات اور تویزات ہیں جو توحید اور رسالت کا منکر اسلام اور مسلمانوں کا د شمن رئیس المشرکین والکافرین یہ سب اس کا سبق پڑھایا ہوا ہے ـ تحریک خلافت کے زمانہ میں ہجرت کا روزولیوشن پاس کر دیا ـ اسی پر مسلمان لبیک کہہ کر کھڑے ہو گئے ـ ہزاروں مسلمانوں کو بے خانماں کرا دیا اس کا جو مسلمانوں کی ذات پر اثر ہوا اور ناقابل برداشت نقصان پہنچا وہ سب کو معلوم پھر ملازمتیں ترک کرنے کی تعلیم دی گئی جن کی متیں ماری گئیں تھیں وہ چھوڑ بیٹھے مسلمانوں نے تو چھوڑیں اور ہندؤوں نے ان جگہوں کو پر کیا بہت سے تو اب تک جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں بعض کے خطوط آتے ہیں لکھتے ہیں کہ اس وقت یہ حماقت ہو گئی تھیں اب تک بے روزگاری ہے سخت پریشانی ہے یہ ہیں بے اصول کاموں کے انجام اگر کوئی اصول ہوتا یا کوئی مرکز ہوتا تو ان لوگوں کو کیوں پریشانی ہوتی اور کیوں بد دل ہوتے ـ غرضیکہ قدم قدم پر ناکامی اور ذلت گلوگیر ہو رہی ہے مگر پھر بھی آنکھیں نہیں کھلتیں جو سوجھتی ہے نئ سوجھتی ہے یہ سب مشرک کی تعلیم پر عمل کرنے کے ثمرات ہیں اگر مسلمان تنہا اصول کے ماتحت حدود شرعیہ کے تحفظ کرتے ہوئے اور کسی کو اپنا بڑا بنا کر کام کریں اپنی مالی اور جانی قوت کو ایک مرکز پر جمع کر لیں پھر کسی کو بھی اختلاف نہ ہوگا ـ مسلمانوں کے جو مقاصد شرعیہ یا اپنی بہبودی دنیا و دین کے لئے مطالبات ہیں مجھ کو ان سے اختلاف نہیں اور نہ کوئی مسلمان اختلاف کر سکتا ہے وہ تو سب ہی کو مطلوب ہیں مجھ کو جو اختلاف ہے وہ طریق کار سے ہے ـ حدود شرعیہ کا قطعا تحفظ نہیں سردار یا امیر کوئی نہیں اختلاف اور خلاف کی یہ حالت ہے کہ پارٹی بندیاں ہو رہی ہیں کہ علماء ( یہ ملفوظ آج سے ستائیس سال پہلے کا ہے جب علماء کی اکثریت ایک طرف کو چلتی تھی۔
لیکن آج عالم ہو یا لیڈر ، ہر ہر فرد کا راستہ الگ الگ ہے ـ فالی اللہ المشتکی ـ 12) ایک طرف کو چلے جا رہے ہیں لیڈر ایک طرف چلے جا رہے ہیں عوام کی یہ حالت ہے ـ جس نے مرضی کے موافق فتوی دیدیا یا کوئی عالم یا لیڈر ان کے ساتھ ہو لیا اس میں سب کمالات ہیں اس کو عرش پر پہنچا دیں گے اگر کسی نے مرضی کے خلاف کوئی بات کی تو تحت الثری میں اس کو جگہ ملنا مشکل ـ غرضیکہ ایک گڑبڑ ہے اور یہ طریقہ کار جو موجود ہے یہ تو سراسر اسلام اورشریعت سب کے خلاف ہے اس کو اسلام اور مسلمانوں سے کیا تعلق مثلا کانگریس کی شرکت جو خالص مذہبی یا سیاسی ہندؤوں کی تحریک ہے جس کا مقصد اسلام اور مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنا ہے اور مسلمانوں کو ہندوستان سے نکال دینا اس کا ایک خاص فرض منصبی ہے یہ سب بالشویک خیالات کے لوگ ہیں ـ بالشویک نے جیسا کچھ اسلام اور مسلمانوں کو تباہ اور برباد کیا ـ مدارس دینیہ و مساجد کو خراب کیا وہ ساری دنیا کو معلوم ہے تو حضرت یہ سوراج سوراج ہانکتے پھرتے ہیں ـ اگر خدانخواستہ اس میں کامیابی بھی ہو گئی تو ہندوستان ایک خونی مرکز بن جائیگا برادران وطن اپنی رکیک حرکتوں سے باز نہ آئیں گے مسلمانوں میں اشتعال اور جوش ہوگا روزانہ قتال اور جدال رہے گا ـ شر کی ابتداء مسلمان کبھی نہیں کرتے یہ تو ہونے پر بھی بے حد در گزر کرتے ہیں مگر جب سر پر سے پانی گزرنے لگتا ہے تب بے شک یہ بھی ہاتھ پیر ہلاتے ہیں میں اس وقت چہار طرف سے غل مچایا جاتا ہے کہ یہ وحشیانہ حرکت ہے اور قومیں یہی حرکت کریں تو مہذبانہ حرکت ہے کیا انصاف ہے اور کیا سمجھ ہے ـ حاصل یہ ہے کہ مسلمانوں کا کانگریس میں شرکت کرنا ہندؤوں کے ساتھ مل کر یا ان کو ساتھ ملا کر کام کرنا یہ اسلام اور مسلمانوں کیلئے نہایت خطرناک بات ہے اوراس طریق کار کو کس طرح مقاصد شرعیہ کہا جا سکتا ہے وہ اس آڑے وقت میں بھی مسلمانوں کی کسی قسم کی مراعات نہیں کرتے ان کے مذہبی شعار کو ہندوستان میں باقی چھوڑنا نہیں چاہتے آئے دن کے واقعات اس کے شاہد ہیں ـ کانپور اور کشمیر وغیرہ کے واقعات آنکھوں کے سامنے ہیں اب اگر اس پر بھی

کسی کی سمجھ میں نہ آئے اس کا کیا علاج ـ ایک صاحب مجھ سے کہتے تھے ( وہ دفتر میں ملازم ہیں ) کہ ہندوؤں کی بدولت ہر محکمہ اور دفاتر میں مسلمانوں کو جن مشکلات کا سامنا ہے وہ بے چارے لیڈروں یا ان کے ہم خیال مولویوں کو کیا معلوم جن پر پڑ رہی ہے وہی خوب جانتے ہیں ـ غرضیکہ یہ مسلمانوں کی جان و مال ایمان سب کے دشمن ہیں اور انہیں کو اپنا ہمدرد اور خیر خواہ سمجھ رکھا ہے یہی انکی بڑی زبردست ناکامی کا راز ہے جو شخص دوست دشمن میں امتیاز نہ کر سکے وہ کیا خاک کام کریگا اور اس کو پتھر کامیابی ہو گی یہ ہیں وہ وجوہ جن کی بناء پر کسی کام کے کرنے کو جی نہیں چاہتا دیکھتی آنکھوں کس طرح مسلمانوں کو آ گ میں گھسنے اور تباہ برباد ہو جانے کی اجازت دے دوں ـ ان خرفات میں مبتلا ہیں اور آڑ بنایا جاتا ہے ـ کہ حضرت دیو بندی رحمتہ اللہ علیہ کو ان کے یہ مقاصد تھے ـ استغفراللہ ! حضرت کی حیات میں حضرت کودہلی ایک جلسہ شوری میں مدعو کیا گیا تھا ـ حضرت بعض اعذار کی وجہ سے دہلی تشریف نہ لے جا سکے ـ اور ایک مولوی صاحب کے ہاتھ خط بھیجا اور یہ ہدایت فرمائی کہ جو مسئلہ مذہبی پیش آئے اس میں اپنا خٰیال صاف صاف بدوں کسی خوف اور مداہنت کے ظاہر کر دو ـ اس وقت قربانی گاؤ کے بند کر دینے پر زور دیا جا رہا تھا ـ حضرت نے فرمایا کہ یہ مقاصد شرعیہ کے بالکل خلاف ہے ہم مذہبی احکام میں ادنی تصرف اور ذرا سی ترمیم کو بھی برداشت نہیں کر سکتے ـ خواہ لوگ ہمارا ساتھ چھوڑ دیں ـ ہم سے جو خدمت اسلام کی بن پڑے گی کرتے رہیں گے ـ حضرت مولانا قدس سرہ سے محبت کا دعوی کرنے والے اور عقیدت کا دم بھرنے والے حضرت کے اس فرمان سے سبق حاصل کریں کہ ادنی ترمیم کو بھی شریعت مقدسہ میں گوارا نہیں فرماتے نہ یہ کہ سر سے پیر تک شریعت مقدسہ کے خلاف باتیں کی جائیں احکام اسلام کی کھلم کھلا مخالفت کی جائے اور اس کو حضرت مولانا قدس سرہ کی طرف منسوب کیا جائے ان باتوں کو حضرت کے مقاصد میں سے بتا کر مسلمانوں کو دھوکہ دیا جائے ـ حضرت مولانا تو بڑی چیز ہیں سلاطین اسلام باجودیکہ دنیا دار کہلاتے ہیں مگر ان میں سے جن کے دل میں اسلام اور احکام اسلام کی

عظمت اور احترام تھا ـ انہوں نے شریعت مقدسہ کے خلاف کرنا گوارا نہیں کیا اس کی بھی پرواہ نہیں کی کہ سلطنت جائے گی یا رہے گی ـ سلطان صلاح الدین نے جس وقت ملک شام کو فتح کیا ہے تو وزراء نے عرض کیا کہ یہ نصرانیوں کا ملک ہے نیا مفتوحہ ہے اس ملک کے لوگ نہایت سر کش اور سخت ہیں ـ اسلامی سیاسات نرم ہیں اس لئے ضرورت ہے کہ علاوہ احکام اسلام کے اگر اور بھی کچھ قوانین اور قواعد نافذ کر دیئے جائیں ان پر قابو رکھنے کے لئے تو زیادہ مناسب ہے ـ اس پر سلطان صلاح الدین نے جو جواب دیا ہے وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے کہتے ہیں کہ کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ میں نے جو ملک فتح کیا ہے وہ حکومت اور سلطنت کرنے کیلئے کیا ہے میں نے محض اللہ تعالی کو خوش کرنے کیلئے یہ سعی اور کوشش کی ہے احکام اسلام ہی کو نافذ کروں گا اس پر چاہے ملک رہے یا جائے میں ایک حکم کا بھی احکام اسلام کے خلاف نافذ نہ کرونگا اس واقعہ سے علماء اور لیڈر سبق حاصل کریں اور اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھیں ـ ان حضرات کی کامیابی کے یہ راز تھے اور یہاں یہ حالت ہے کہ نہ ابھی کوئی ملک قبضۃ میں ہے نہ آئندہ ملنے کے بظاہر کوئی اسباب نظر آتے ہیں مگر شریعت مقدسہ کی قطع و برید پہلے ہی سے شروع کر دی انا للہ وانا الیہ راجعون ـ حضرت مولانا قدس سرہ کی حیات میں اپنے مسلک پر آزادی سے عمل کرتا تھا ـ حضرت کی وفات کے بعد سے دیکھ بھال کر عمل کرتا ہوں وجہ اس کی یہ ہے کہ میں سمجھتا تھا کہ حضرت اختلاف کی حقیقت سے وافت ہیں حضرت کے قلب پر میرے اختلاف سے ذرہ برابر بھی گرانی نہ تھی ـ پانی پت کے ایک مولوی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ مرض الموت میں دہلی حضرت کے پاس جب زیادہ اختلاف کی خبریں پہنچیں تو یہ فرمایا کہ اختلاف تو اچھا نہیں معلوم ہوتا ـ لاؤ میں ہی کچھ اپنی رایوں سے ہٹ جاؤں ـ حضرت کی نظر میں اختلاف کا یہ درجہ تھا ـ ایک مرتبہ تحریک خلافت کے زمانہ میں حضرت کی بیٹھک میں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے میرے متعلق برے بھلے الفاظ

کہہ رہے تھے کچھ الفاظ حضرت کے کانوں میں پڑے باہر تشریف لے آئے بہت خفا ہوئے ـ اور یہ فرمایا کہ تم اس شخص کے باب میں یہ الفاظ کہہ رہے ہو جس کو میں ایسا ایسا سمجھتا ہوں مجھ کو وہ الفاظ بیان کرتے ہوئے بھی حجاب معلوم ہوتا ہے ـ جو حضرت نے فرمائے مگر چونکہ اب ذکر آ گیا عرض کرتا ہوں وہ الفاظ یہ ہیں کہ جس کو میں اپنا بڑا سمجھتا ہوں ـ اور یہ فرمایا خبردار ! جو آئندہ ایسے الفاظ کبھی استعمال کئے اور یہ فرمایا کہ میرے پاس کیا کوئی وحی آتی ہے کہ جو کچھ میں کر رہا ہوں وہ سب ٹھیک ہے میری بھی ایک رائے ہے اس کی بھی ایک رائے ہے ـ ایک مرتبہ حضرت نے یہ فرمایا کہ ہمیں تو اس پر بھی فخر ہے کہ جو شخص تمام ہندوستان سے بھی مثاتر نہ ہوا اور کسی کی بھی پرواہ نہ کی وہ بھی ہماری ہی جماعت سے ہے حضرت کی نقل کو تو جی چاہتا ہے لوگوں کا ـ مگر حضرت جیسا حوصلہ تو پیدا کر لو ـ فلاں مولوی صاحب تحریک خلافت میں بہت سرگرم تھے مسلک میں اختلاف تھا اور ہے مگر کبھی ذرہ برابر نہ ان کو مجھ سے انقباض ہوا نہ مجھ کو ان سے ـ ایک مرتبہ دہلی سے یہاں پر آئے میں نے دریافت کیا کہ کیسے سفر کی صعوبت گوارا فرمائی ، کہنے لگے کہ مجھ کو خلوت میں کچھ کہنا ہے میں نے کہا صاف بات ہے اور معاملہ کی بات ہے وہ یہ ہے کہ تنہائی میں میں کوئی بات نہ کرونگا کیونکہ اس میں آپ کی تو کوئی مصلحت نہیں اور میری مصلحت کے خلاف ہے اس لئے کہ آپ تو حکومت اور مشین گنوں ، توپوں اور فوجوں کے مقابلہ کیلئے تیار ہیں اور اس کا آپ اعلان کر چکے ہیں اور میں ابھی تیار نہیں ہوا ـ آپ کو تہنائی اور غیر تنہائی سب برابر ہیں آپ کیلئے کوئی نیا خطرہ نہیں اور میرے لئے خطرہ ہے کہ نہ معلوم چپکے چپکے کیا مشورہ ہو جو بات ہو مجمع میں ہو ـ پھر یہ کہ آپ کو تردد تو ہے نہیں کیونکہ آپ اپنے مسلک کا اعلان کر چکے ہیں اور تردد کی حالت میں اعلان نہیں کیا جاتا تو گفتفو سے رفع تردد تو مقصود ہے نہیں صرف مجھ کو تبلیغ کرنا ہے سو میں نہایت خوشی سے سننے کو تیار ہوں مگر جب یہ تبلیغ ہے تو یہ بھی ضروری ہے کہ آپ تقریر فرمائیں میں سنوں لیکن آپ کو یہ حق نہ ہوگا کہ آپ یہ دریافت فرمائیں کہ تو سمجھا یا نہیں  میں سمجھوں یا نہ سمجھوں آپ اپنا فرض منصبی ادا فرمائیں کیونکہ مبلغ کا فرض مخاطب کے جواب پر موقوف نہیں اگر معقول تقریر ہو گی میں اپنے مسلک سے رجوع کر لوں گا اور اعلان کر دوں گا کہ پہلے میں غلطی پر تھا فلاں صاحب کے سمجھانے سے سمجھ میں آ گیا اور اگر نہیں تو خاموش رہوں گا کچھ نہ کہوں گا اس پر مولوی صاحب راضی ہو گئے میں نے دو شخصوں سے کہا کہ پنسل کاغذ لے کر بیٹھ جانا اور جو مولوی صاحب تقریر فرمائیں اس کو ضبط کر لینا اس میں یہ مصلحت ہے کہ سب تقریر سننے سے دماغ میں رہ نہیں سکتی ـ ضبط ہونے پر میں اس میں اچھی طرح پر غور کر سکوں گا ـ اس سے مولوی صاحب پر ایک خاص اثر رکاوٹ کا ہوا ـ میں نے اس کا احساس کر کے کہا کہ ایک اور صورت اس سے بھی سہل سمجھ میں آئی اس میں تو پھر بھی ایک طول ہے یہ لوگ لکھیں گے پھر صاف کریں گے پھر آپ کے پاس نظر ثانی کرنے کو بھجیں گے اور علاوہ طول کے اس میں وقت بھی زیادہ صرف ہوگا ـ سہل صورت یہ ہے کہ آپ دہلی واپس تشریف لے جائیں اور اطمینان سے کتابیں دیکھ کر اور علماء اور عقلاء سے مشورہ لیکر تحریری تبلیغ میرے پاس بھیج دیں اس میں ایک اور مصلحت بھی ہے کہ علاوہ اس کے فی البدیہہ تقریر میں تمام جزئیات کا احاطہ نہیں کر سکیں گے بعد میں افسوس ہوگا ـ بس مولوی صاحب اس پر راضی ہو گئے اور اس پر گفتگو ختم ہو گئی کئی سال کی یہ بات ہو گئی وہ تبلیغ آج آ رہی ہے یہ حالت تو اس تحریک میں پیشوا اور مقتداؤں کے کام کرنے کی ہے عوام بے چارے تو بھلا کس شمار میں ہیں ـ 3 رمضان المبارک 1350ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم سہ شنبہ