یک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت جو لوگ سمجھدار نہیں ان کا اس میں کیا قصور ہے فرمایا کہ میں اس پر مواخذہ نہیں کرتا ہاں کم سمجھوں اور بد فہموں میں تعلق رکھنا نہیں چاہتا اس لئے کہ مناسبت پیدا نہ ہوگی جو کہ شرط نفع ہے اور یہ جو میں عرض کر رہا ہوں یہ کوئی نئی بات نہیں ـ دیکھئے ! موسی علیہ السلام اور خضر علیہ السلام میں جو جدائی ہوئی اس کا سبب عدم مناسبت تھی ورنہ موسی علیہ السلام جیسے اولعزم پیغبر ہیں جن پر کسی قسم کا بھی شبہ نہیں ہوسکتا ـ مگر حضرت خضر علیہ السلام نے صاف فرما دیا کہ آپ کا اور میرا ایک ساتھ رہ کر نباہ نہیں ہو سکتا ـ پس عدم مناسبت ہی سبب ہوئی جدائی کی ؎ چوں گزیدی پیر ہیں تسلیم شو ٭ ہمچو موسی زیر حکم خضر رو صبر کن درکار خضر اے بے نفاق ٭ تانگوید خضر رواہذا فراق (جب شیخ منتخب کرلے تو اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دو ـ موسی علیہ السلام کی طرح خضر علیہ السلام کے حکم کے تابع ہو کر چلو ـ اے مخلص خضر ؑ ! ( شیخ ) کے کاموں ( تعلیمات ) میں صبر سے کام لو ـ تاکہ خضر ؑ ( کسی طرح شیخ بھی ) یہ نہ کہہ دیں کہ جاؤ (میرا تمہارانباہ نہ ہوگا ) ـ
