( ملفوظ 70 ) بالواسطہ درخواست معافی کا ایک واقعہ

خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت فلاں صاحب میرے واسطے سے اپنا معاملہ پیش کرنا چاہتے ہیں ، فرمایا بہت اچھا مگر ان سے پوچھئے کہ صبح یہ کیا حرکت تھی ؟ کیوں مجھ کو اس قدر ستایا ، دریافت کرنے پر عرض کیا کہ میں معافی چاہتا ہوں اور آئندہ کیلئے احتیاط کا وعدہ کرتا ہوں ۔ فرمایا : معاف ہے مگر معاملہ تو معاملہ کی طرح ہی طے ہو گا ، اب سمجھ لیں کہ جن کا یہ روپیہ ہے ان کو واپس کریں اور یہ لکھ دیں کہ میں نے اس کو ستایا اور یہ برتاؤ کیا ، اس کو اس سے تکلیف پہنچی کسی سے بے اصول کچھ رقم وصول کی تھی پھر خواجہ صاحب سے فرمایا کہ ان سے پوچھئے کہ یہ لکھیں گے دریافت کرنے پر عرض کیا کہ لکھوں گا ۔ فرمایا پوچھئے کہ یہاں سے لکھیں گے یا سہارنپور و دیوبند سے جہاں پڑھتے ہیں ۔ عرض کیا کہ کل لکھ دوں گا ، فرمایا کہ یہ میری بات کا جواب ہو گیا ، عرض کیا کہ تھانہ بھون سے لکھ دوں گا ۔
فرمایا کہ تھانہ بھون کہیں اور ہے میرے تو سوال میں بھی تھانہ بھون سے کا لفظ نہیں یہاں سے کا لفظ ہے عرض کیا کہ یہاں سے فرمایا کہ وہ خط میری ڈاک میں جائے گا ۔ یہ منظور ہے عرض کیا کہ منظور ہے ، فرمایا کہ خط لکھ کر مجھ کو دیدیں گے ، عرض کیا کہ جی فرمایا کہ ان سے یہ کہہ دو کہ کارڈ خراب نہ کریں پہلے مسودہ بنا لینا اور وہ مجھ کو دکھلا دینا تب کارڈ پر لکھنا ، فرمایا کہ اب ان سے پوچھئے گا کہ سب باتیں سمجھ گئے یا نہیں ، کبھی پھر کوئی گڑبڑ کریں ، عرض کیا کہ سمجھ گیا اور کوئی گڑبڑ نہ ہو گی ، فرمایا کہہ دیجئے جائیں ۔