( ملفوظ 377 )ادب تعظیم کا نہیں حفظ حدود کا نام نہیں

ایک نو عمر شخص نے آ کر تعویذ مانگا اور یہ نہیں بتلایا کہ کس چیز کا تعویذ اس پر حضرت والا نے اس کو تبنیہ فرمائی ۔ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یہ بے خبری کا نتیجہ ہے ، فرمایا کہ یہ بے خبری کا نتیجہ نہیں آپ کو تجربہ نہیں یہ خبر کا نتیجہ ہے جو فطری چیزیں ہیں ۔ ان میں ضرورت نہیں ، تعلیم کی خلاف فطرت میں ضرورت ہے تعلم کی جس وقت گھر سے چلا ہو گا یہ تو ضرور معلوم ہو گا کہ کس چیز کا تعویذ لاؤں گا وہی آ کر ظاہر کر دیتا مگر اس کو خلاف پر تعلیم کی گئی ہو گی کہ جا کر چپ بیٹھ جانا جب تک وہ خود نہ پوچھیں تو خود کچھ مت بولنا اور اس کو ادب قرار دیا گیا ہو گا ۔ اگر آپ کو شبہ ہے تو میں ابھی معلوم کرائے دیتا ہوں تا کہ آپ کو بھی تجربہ ہو جائے ۔ حضرت والا نے اس شخص کی طرف مخاطب ہو کر دریافت فرمایا کہ اس نے اقرار کیا کہ یہ ہی مجھ سے کہا گیا تھا ، فرمایا کہ مجھ کو تو شب و روز ایسے لوگوں سے سابقہ پڑتا رہتا ہے اس کے بعد فرمایا کہ جاؤ ایک گھنٹہ کے بعد آ کر پوری بات کہنا تب تعویذ ملے گا ۔ وہ شخص چلا گیا ، فرمایا کہ اب کبھی انشاء اللہ ادھوری بات نہ کہے گا ۔ یہ طریق ہے اصلاح کا تا کہ ہمیشہ یاد رہے اب اس ہی واقعہ میں بتلائیے کہ میری کونسی مصلحت ہے اس کی ہی مصلحت ہے میں نے ایسا کیا اس پر مجھ کو بندم کیا جاتا ہے کہ بدخلق ہے آنے والوں کے اخلاق کو کوئی نہیں دیکھتا کہ وہ کیا برتاؤ کرتے ہیں ۔ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ اس کو ادب سمجھتے ہیں کہ خاموش آ کر بیٹھ جائے کچھ بولے نہیں میرے نزدیک ادب تعظیم کا نام نہیں بلکہ ادب کا ایسا مفہوم ہے کہ جو چھوٹوں بڑوں میں سب میں مشترک ہے وہ یہ کہ ادب کے معنی ہیں حفظ حدود اور اس کے لیے لازم ہے کہ کسی کو ایذاء نہ پہنچنی چاہے بڑا ہو یا چھوٹا ، کافر ہو یا مسلمان ہو سو یہ سب کے لیے مساوی ہے ۔