ایک خط کے سلسلہ میں فرمایا کہ بعض آدمیوں میں فہم کا قحط ہوتا ہے ان کی تقریر اور تحریر
سے دوسروں کو کلفت ہوتی ہے اگرچہ وہ اپنے نزدیک ادب ہی کا قصد کرتے ہیں بات یہ ہے کہ
آجکل ادب نام رہ گیا ہے تعظیم کا ـ حالانکہ اصل ادب ہے راحت کا اہتمام اور جس چیز سے دوسرے کو تکلیف پہنچے اس کا نام ادب نہیں یہ سب رسموں کی خرابیاں ہیں ہمارے حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب ؒ سختی سے منع فرمایا کرتے تھے کہ اپنی جگہ سے بیٹھے ہوئے میری تعظیم
کیلئے مت اٹھا کرو اس حالت میں یہ ہی ادب تھا کہ نہ اٹھا جائےپھر اسی سلسلہ میں مہمانی کے
آداب کا تذکرہ ہونے لگا اس کے ذیل میں فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عام
د ستر خوان پر ایک بدوی بیٹھا ہوا کھانا کھا رہا تھا دیہاتیوں کی طرح بڑے بڑے لقمے بنا کر کھا رہا تھا ـ
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بوجہ خیر خواہی کے فرمایا کہ اے شخص اپنی جان پر رحم کر اور
چھوٹا لقمہ بنا کر کھا کہیں گلے میں نہ اٹک جائے یہ کہنا تھا کہ فورا د ستر خوان سے وہ بدوی اٹھ گیا اور
چل دیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کو روکا اس نے کہا زیبا نہیں کہ کوئی شریف آدمی آپ کے
د ستر خوان پر کھانا کھائے آپ مہمانوں کے لقمے تکتے ہیں کہ کون بڑا لیتا ہے اور کون چھوٹا ـ آپ کو
اس سے کیا تعلق کہ کوئی کس طرح کھاتا ہے آپ کو د ستر خوان پر مہمانوں کو بٹھلا کر اس طرف نگاہ
اٹھا کر بھی نہ دیکھنا چاہئے البتہ کھانے کی کفایت کی نگرانی ضروری ہے یہ کہہ کر چلتا ہوا ـ
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بے حد اس کی کوشش کی کہ کھانا کھا کر جائے مگر وہ نہیں مانا فرمایا کہ آداب میزبانی کے خلاف ہے مہمان کو کھاتے ہوئے تکنا اس سے اس پر شرم دامن گیر
ہوتی ہے اور پیٹ بھر کر کھانا کھا نہیں سکتا ـ کیا ٹھکانہ ہے اس وقت کے بدوی ایسے ہوتے تھے آج
کل یہ باتیں مد عیان تمدن بھی نہیں معمولی لوگ بے چارے تو کس شمار میں ہیں ـ
