ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ فلاں صاحب مرید ہونے کو کہتے ہیں اور یہ کہتے
تھے کہ ارادہ تو بہت دنوں سے ہے مگر حضرت مولانا کے جلال کی وجہ سے پورا نہیں ہوا تھا اب یہ
ارادہ کر لیا ہے کہ چاہے ماریں یا پیٹیں اب تو ضرور ہی کہوں گا ـ فرمایا کہ خدا معلوم لوگ کیا سمجھتے
ہیں ـ میں بلاوجہ تھوڑا ہی کچھ کہتا ہوں تبسم فرما کر بطور مزاح فرمایا کہ لوگ تو مجھے حلال ( ذبح )
کرتے ہیں میں جلال بھی نہ کر لوں میرے جلال کو دیکھتے ہیں اپنے جمال کو نہیں دیکھتے معلوم نہیں
یہاں کون سا سامان جلال وہیبت کا ہے بعض لوگ قلیل الکلام ہوتے ہیں اس سے بھی رعب ہوتا ہے اور
میں اس قدر بکی ہوں کہ ہر وقت بولتا رہتا ہوں مگر پھر بھی نہ معلوم لوگ کیوں اس قدر مجھ کو ہوا بنائے ہیں ـ
28 شعبان 1350 ھ بروز جمعہ مجلس خاص بوقت صبح
