ملفوظ 141: اہل کمال کا استغناء اور سر سید کے دو واقعے

ہل کمال کا استغناء اور سر سید کے دو واقعے ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ بڑا شخص دین کا ہو یا دنیا کا ـ اس میں استغنا ضرور ہوتا ہے ـ مراد یہاں پر اہل کمال ہیں اہل مال نہیں اہل کمال کا حوصلہ بھی بڑا ہوتا ہے سر سید کا ایک واقعہ عجیب و غریب ہے ایک شخص انگریزی تعلیم یافتہ ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے پریشان تھے کیا سوجھی کہ ایک بہت بڑے افیسر انگریز کے پاس پہنچے اور کہا کہ میں سر سید کا داماد ہوں مجھ کو ملازمت کی ضرورت ہے ـ وہ انگریز بہت ہی خاطر سے پیش آیا اور کہا کہ آپ ٹھہریں ان کو ٹھہرا کر ان کی لا علمی میں ایک تار سر سید کو دیا کہ فلاں شخص اس نام کا ہمارے پاس ملازمت کے خیال سے آیا ہے اور اپنے کو آپ کا داماد کہتا ہے کیا یہ واقعہ صحیح ہے جواب میں سر سید نے اس انگریز کو لکھا کہ بالکل صحیح ہے ضرور آپ ملازمت کی کوشش فرماویں ـ میں ممنون ہوں گا اس شخص کو ملازمت مل گئی ـ ایک روز اتفاقا اس انگریز نے اس شخص سے یہ واقعہ بیان کر دیا یہ بہت ہی شرمندہ ہوا ـ اور کچھ عرصہ کے بعد یہ شخص علی گڑھ آیا اور سر سید سے مل کر معافی کی درخواست کی ـ اور کہا کہ میں وہی شخص ہوں جس نے اپنے کو آپ کا داماد بتلا کر ملازمت لی ہے یہ گستاخی ہوئی ـ گو یہ گستاخی بضرورت تھی سر سید نے جواب میں کہا کہ گو یہ بات اس وقت غلط تھی مگر اب صحیح ہو جائے گی ـ داماد کہتے ہیں بیٹی کے شوہر کو ـ اس کی ایک صورت تو یہ تھی کہ میری بیٹی آپ کی بیوی ہوتی سو یہ تو ہو

نہیں سکتا ـ مگر دوسری صورت ممکن ہے کہ آپ کی بیوی کو میں اپنی بیٹی بنا لوں ـ سو میں آپ کی بیوی کو اپنی بیٹی بناتا ہوں وہ میری بیٹی اور میں اس کا باپ ـ پھر یہ توجیہ وقتی ہی نہ تھی ـ بلکہ تا زندگی باپ بیٹی اور داماد ہی کا سا برتاؤ رکھا بلانا لینا دینا سب اسی طرح رکھا تو یہ حوصلہ بڑے ہونے کے سبب تھا ـ گو وہ بڑائی دنیوی ہی تھی ـ یہ حکایت سن کر ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نے یہ حکایت سنی ہے یا لکھی دیکھی ہے فرمایا سننا اور لکھی ہوئی دیکھنا اس میں فرق ہی کیا ہوا اس لئے کہ وہ لکھی ہوئی بھی تو کوئی سن کر ہی لکھتا ـ دوسری ایک حکایت انہیں کی یاد آئی کہ ایک مرتبہ علی گڑھ کے اسٹیشن پر ریل میں سر سید سوار ہوئے اسی ڈبہ میں ایک اور صاحب پہلے سے سوار تھے انہوں نے ان سے دریافت کیا کہ یہ کونسا شہر ہے سر سید بولے کہ علی گڑھ یہ سن کر وہ صاحب کیا کہتے ہیں کہ وہی علی گڑھ جہاں سر سید ( ایسا تیسا ) رہتا ہے سر سید کہتے ہیں کہ جی ہاں ! وہی علی گڑھ وہ صاحب کہتے ہیں کہ وہ تو بڑا ہی ایسا ہے ویسا ہے خوب برا بھلا کہا اس نے بڑا ہی دین کو نقصان پہنچایا سر سید نے کہا جی ہاں وہ ایسا ہے ـ یہ صاحب اور زیادہ کھلے اور کئی اسٹیشن تک تبرا کرتے چلے گئے ـ سر سید کو ذرہ برابر تغیر نہیں ہوا ـ تصدیق کرتے رہے ـ آخر ایک اسٹیشن پر ان تبرا کرنے والے صاحب نے کھانا کھانے کے لئے نکالا جب کھانے بیٹھے تو ان کی بھی تواضع کی ـ سر سید نے جواب دیا کہ آپ کھائیں انہوں نے کہا کہ مصنوعی تواضع نہیں ـ آ جائیے ! سر سید نے پھر ٹالا انہوں نے پھر اصرار کیا کہ میری دل شکنی ہو گی ـ سر سید نے کہا کہ مجھ کو کچھ عذر ہے انکا اس پر بھی اصرار ہوا سر سید نے پھر کہا واقعی مجھ کو عذر ہے انہوں نے کہا وہ عذر کیا ہے ـ بتلائیے ! سر سید نے کہا کہ بتلانے کا نہیں ہے انہوں نے کہا کہ بتلانا ہوگا سر سید نے کہا کہ اگر بتلا دوں تو اس وقت تو آپ کھانا کھلانے پر مصر ہیں اور معلوم ہو جانے کے بعد تو شاید میری صورت دیکھنا بھی گوارا نہ کریں گے ـ انہوں نے کہا کہ توبہ توبہ ایسی کیا بات ہے اور آپ کیوں ایسا فرماتے ہیں ـ تب سر سید نے کہا کہ میں ہی ہوں وہ شخص جس پر آپ کئی اسٹیشنوں سے تبرا بھیجتے چلے آ رہے ہیں ـ یہ سن کر وہ

صاحب کٹ ہی تو گئے بے حد ندامت اور شرمندگی سوار ہوئی ـ معافی چاہی نتیجہ یہ ہوا کہ معتقد ہو گئے ـ باوجود اس کے کہ سر سید ایک دنیا دار شخص تھے مگر استغناء اور حوصلہ تھا ـ مگر آجکل اہل کمال تقریبا مفقود نظر آتے ہیں نہ دنیا داروں میں نہ دینداروں میں ـ الاماشاء اللہ عالم بھی ہیں ، شیخ بھی ہیں ، صوفی بھی ہیں ، عارف بھی ہیں ، زہد و تقوی کا بھی دعوی ہے یہ تو سب کچھ ہے مگر استغناء اور حوصلہ نہیں ہے ـ