( ملفوظ 95 ) ایک عرب بدو کا حیرت انگیز واقعہ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک حکایت مجھ سے مولوی مجتبی حسن صاحب نے جو مولانا مرتضی حسن صاحب کے بڑے بھائی تھے ، بیان کی تھی کہ ان سے مولوی عبدالحق صاحب شیخ الدلائل نے بیان کی تھی کہ ایک بوڑھے بدوی نے مدینہ منورہ میں جو کہ
مدینہ منورہ میں روضہ شریف پر بیٹھا رہتا اور روضہ شریف کا تکا کرتا ، میں بھی اس کے پاس محبت سے جا بیٹھتا ، ایک دن مجھ سے کہا کہ تمہاری دعوت ہے ، رمضان المبارک کا مہینہ تھا ، میں نے دو عذر کیے ، ایک یہ کہ میں چاول نہ کھا سکتا تھا ، پیٹ میں پھوڑا تھا اور بدوی اکثر چاول ہی کھاتے ہیں ، دوسرے یہ کہ نہ معلوم بدوی کا کتنی دور مکان ہو تو بعد نماز مغرب کھانا کھانے جائیں گے پھر مسجد نبوی میں نماز عشاء نہ ملے گی اور قرآن شریف کی ترتیب بھی فوت ہو جائے گی اس لیے میں نے عذر کر دیا اور بدوی نے بے حد اصرار کیا ، بدوی کے اصرار پر مجبور ہوئے اور دعوت قبول کر لی ۔ بعد نماز مغرب ان کو لے چلے اور چلتے چلتے شہر سے باہر ہو گئے ، اب جنگل میں چل رہے ہیں اور غصہ میں بھرے ہوئے ہیں کہ آج عشاء کی نماز مسجد نبوی میں کسی طرح بھی نہیں مل سکتی ۔ غرض بہت دور جا کر کچھ جھونپڑیاں نمودار ہوئیں ، ان کے قریب پہنچ کر آواز دی یا ولد یا ولد شیخ کے واسطے کھچڑی پکاؤ ، ان کو بہت ناگوار ہوا کہ ابھی تو کھچڑی پکے گی پھر کھائیں گے اس کے بعد پھر اتنی دور کا سفر ہو گا مگر مجبور ہو کر بیٹھ گئے ، کھچڑی تیار ہوئی ، کھائی اس خیال سے کہ نماز تو جماعت سے عشاء کی ملے ہی گی
نہیں بہت ناگواری ہوئی ، پھر واپسی ہوئی ، بدوی پہنچانے کے لیے ساتھ ہوئے مگر بوڑھے ہونے کی وجہ سے تیز نہیں چل سکتے ، مجھ کو اور زیادہ ناگوار ہوا مگر تھوڑی دور چلنے کے بعد بدوی کو ایک اور مہمان مل گیا ، وہ عذر کر کے واپس ہو گئے میں نے غنیمت سمجھا اور جلدی جلدی کر کے مسجد نبوی میں پہنچے کہ جماعت تو کیا ملتی مگر شاید دروازہ بند نہ ہوا ہو تو مسجد کی فضیلت تو نصیب ہو جائے گی ، غرض شہر میں داخل ہو کر سیدھے مسجد نبوی پر آئے ، اندر جا کر دیکھا کہ ایک شخص مسجد نبوی میں ایک طرف بیٹھا ہوا کچھ کھا رہا ہے ۔ انہوں
نے جا کر اس شخص سے سوال کیا کہ عشاء کی نماز ہو چکی ہے تو کہتا ہے کہ ” انت مجنون ” ابھی تو مغرب پڑھی ہے افطاری کھا رہا ہوں ، ان کو حیرت ہوئی ، غور کر کے دیکھا تو واقعی مغرب کا وقت ہے اب ان کو یقین ہوا اور اس واقعہ کو ان بدوی کی کرامت سمجھے پھر رات کو
جس طرح بھی گزری گزاری اور بعد نماز فجر ان کو تلاش کیا مگر کہیں ان بدوی کا پتہ نہ چلا ۔ اب بتلائیے کہ کسی کو کیا کوئی حقیر اور ذلیل سمجھے ، خیر اسی میں ہے کہ اپنے کو ذلیل و خوار اور دوسروں کو اپنے سےافضل تصور کرتا رہے ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت وہ
بدوی ابدال ہوں گے ، فرمایا کہ جی ہاں دال کھلائی تھی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابدال ہوں گے اسی سلسلہ میں فرمایا کہ مولوی محمد قلندر صاحب جلال آبادی صاحب حضوری تھے ، روزانہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت مبارک سے مشرف ہوا کرتے ۔
حضرت حاجی صاحب کے ابتدائی کتابوں کے استاد بھی ہیں ، سفر مدینہ میں ان کے جمال سے جو کہ ایک لڑکا تھا غلطی ہو گئی انہوں نے اس کے ایک تھپڑ مار دیا بس حضوری بند ہو گئی ، پریشان ہو گئے ، مدینہ پہنچ کر مشائخ سے ذکر کیا ، انہوں نے کہا کہ ایک عورت ہے مجذوب اس سے امید ہے کہ گرہ کھلے گی اس مجذوب عورت کو تلاش کیا ، معلوم ہوا کہ وہ روضہ مبارک پر حاضر ہوا کرتی ہے ۔ انہوں نے ان کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ان کو جوش آیا اور روضہ شریف کی طرف اشارہ کر کے کہا ” شف ” یعنی دیکھ انہوں نے جو دیکھا تو بیداری میں زیارت ہوئی ایسے ہی ان بدوی کا واقعہ ہے ، کسی کو ظاہری حالت سے حقیر نہ سمجھے کسی نے خوب کہا ہے:

خاکساران جہاں را بحقارت منگر تو چہ دانی کہ دریں گرد سوارے باشد

اور ایسے ہی حالات کے متعلق مولانا فرماتے ہیں :

مابروں راننگریم و قال را مادرون رابنگریم و حال را