(ملفوظ 96 )نماز استسقاء سے متعلق دو واقعے

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس راہ میں محض باتیں بناتے اور تحقیقات علمی سے کچھ کام نہیں چلتا ،
یہاں پر تو کام کرنے سے کام چلتا ہے اور حضرت حق تو بدون کیے ہوئے بہت سی رحمتیں فرماتے رہتے ہیں پس جبکہ باوجود ہماری کوتاہیوں
کہ یہ رحمت ہے تو اگر ہم پوری طرح سے اس طرف اپنی قوت اور وسعت کے موافق متوجہ ہو جائیں اور اپنی اصلاح کی فکر میں لگ جائیں ۔ گزشتہ گناہوں سے رجوع اور آئندہ کے لیے عزم اعمال صالحہ کا کر لیں تو پھر کیسے رحمت نہ ہو گی ۔ خوب فرماتے ہیں :

عاشق کہ شد کہ یار بحالش نظر نہ کرد اے خواجہ درد نیست دگرنہ طبیب ہست

سندیلہ لکھنؤ کے قریب ایک قصبہ ہے وہاں پر ایک مرتبہ بارش نہ ہوئی ۔ اس کی وجہ سے مخلوق سخت پریشان تھی ، کئی روز تک لوگوں نے
جنگل میں جا جا کر نماز استسقاء کی پڑھی مگر بارش ہی نہ ہوئی اب اس نماز میں آپ خیال کر سکتے ہیں کہ بڑے بڑے نمازی اور ملا سب ہی شریک ہوتے تھے مگر کچھ بھی نہ ہوا ۔ بالآخر وہاں کی بازاری عورتیں وہاں کے رؤسا کے پاس آئیں اور یہ کہا کہ یہ سب کچھ ہماری بد اعمالیوں اور سیہ کاریوں کا نتیجہ ہے ۔ ہماری نحوست کی بدولت اور سب بھی پریشان ہیں ، اگر ہمارے لیے آپ ایک خاص انتظام کر دیں تو ہم بھی جنگل میں جمع ہو کر اپنے افعال بد سے توبہ کریں وہ انتظام یہ کہ وہاں کوئی مرد نہ جانے پائے تا کہ بدنظری کا موقع نہ ملے ورنہ بجائے رحمت کے کہیں قہر خداوندی نازل نہ ہو ۔ غرض وہاں کے رؤسا نے اس کا معقول انتظام کر دیا وہ بازاری عورتیں سب ایک جگہ جنگل میں جمع ہو کر سجدے میں گر گئیں اور رونا شروع کیا اور عرض کیا کہ اے اللہ ! اے رحیم اے کریم ہماری بد اعمالیوں سے درگزر فرما ہم گنہگار ہیں روسیاہ ہیں ہماری نحوست کی وجہ سے آپ کی بہت سی مخلوق پریشان ہے اور جو کچھ اس حال میں حق تعالی کی جناب میں عرض کر سکیں خوب عرض کیا ، حق تعالی کے دربار میں عاجزی سے بڑھ کر کوئی چیز پسندیدہ
نہیں جنہوں نے اس واقعہ کو مجھ سے روایت کیا ، وہ یہ کہتے تھے کہ ان عورتوں نے ابھی سر نہ اٹھایا تھا کہ موسلا دھار پانی پڑنا شروع ہو گیا ، بڑے زور سے بارش ہوئی ، ایسی کہ کوئی حد نہ رہی تمام جنگل و تالاب پر ہو گئے ۔ اسی کو مولانا فرماتے ہیں :

مابروں راننگریم و قال را مادرون رابنگریم و حال را

یعنی ہم ظاہر کو اور الفاظ کو نہیں دیکھتے اس کو دیکھتے ہیں جس میں خشوع اور خضوع ہو محض چکنے چپڑے اور لمبے چوڑے الفاظ کی وہاں قدر نہیں ۔ دوسرا واقعہ موضع لوہاری میں ہوا بوجہ امساک باراں ( بارش کا رک جانا ) مسلمانوں نے نماز استسقاء کی تیاری کی ۔ وہاں کے ہندو کہنے لگے کہ فضول مسلمان اس امید میں کہ بارش ہو گی ، کوشش کر رہے ہیں امسال تو بارش ہے ہی نہیں ، مسلمانوں نے نماز استسقاء ادا
کی اور یہ دعا کہ اے اللہ ! ہم کو ان کفار کے سامنے ذلیل و خوار نہ کیجئے ، آپ کو بڑی قوت اور قدرت ہے ، آپ بڑے غفور و رحیم ہیں ،
ابھی مسلمان دعا کو ختم بھی نہ کر پائے تھے کہ باران رحمت کا نزول ہو گیا ۔ اب سنئے وہی ہندو کہتے ہیں کہ یہ مسلے ( مسلمان ) ہیں پر میشور کو بڑی ہی جلدی راجی ( راضی ) کر لیتے ہیں ۔ دیکھئے باوجود ہماری اس حالت کے کہ ہمارا کوئی کام بھی ڈھنگ کا نہیں اور ہم سراسر خطاؤں اور لغزشوں سے بھرے ہوئے ہیں مگر اس پر بھی تھوڑی سی توجہ کر لینے پر ان کی رحمت اور فضل شامل حال ہو جاتا ہے تو اعمال کی اصلاح پر کیسے رحمت سے ناامیدی اور مایوسی ہو سکتی ہے ۔ حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے
ہیں :

کلکم خطاؤن و خیر الخطائین التوابون

( تم سب خطاوار ہو اور تم میں بہتر خطاوار توبہ کرنے والے ہیں )