ملفوظ 128: ایک بزعم خود عالم شخص کا حال

ایک مولوی صاحب نے عرض کیا مجھ میں کوئی بھی قابلیت نہ تھی دوسروں سے مضمون لکھوایا کرتا تھا کسی علم میں بھی اس کو مہارت نہ تھی نہ فارسی میں نہ عربی میں ـ اس پر عربی دانی کا دعوی کرتا تھا اس کی کتابیں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کے بے سروپا باتیں ہانکتا ہے ـ اس پر حضرت والا نے فرمایا کہ اس کی عربی دانی کی حقیقت اس سے زیادہ نہیں جیسے دو بی بی انیہٹہ سے حج کو گئیں تھیں ـ اتفاق سے ان میں سے ایک کا بچہ گم ہو گیا وہ بدوی سے کہتی تھی کہ بچہ گم ہو گیا اس کو ڈھونڈو ـ بدوی اردو سمجھتا نہ تھا یہ اپنی زبان میں کہتی تھیں وہ سمجھتا نہ تھا اس پر آپس میں لڑائی ہونے لگی تو دوسری بی بی بولیں کہ تو ہٹ ! میں سمجھاؤں گی تجھے عربی بولنی نہیں آتی ـ یہ بی بی بدوی سے کہتی ہیں “” شیخ ھذا بی بی کا پوت نہیں آیا ،، یہ ہی حالت اس شخص کی عربی دانی کی تھی ـ نہایت بد فہم اور کم عقل تھا ـ اس کی وجہ سے بڑی ہی گمراہی کا باب مفتوح ہوا خود تو گمراہ ہوا ہی تھا اوروں کو بھی پھانس گیا لوگوں کی حالت بھی عجیب ہے کہ کوئی کیسا ہی ہو لبیک کہہ کر ساتھ ہو لیتے ہیں ـ پیشین گوئیاں کثرت سے جھوٹی ہوئیں فلاں مولوی صاحب سے شکست کھائی مگر بے حیائی کا کیا علاج ایسی موٹی موٹی باتوں کے بعد بھی لوگ معتقد ہیں