ملفوظ 127: سادگی اور تصنع

فرمایا ! کہ سادگی بھی عجیب برکت کی چیز ہے ایسے شخص کو بہت سی کلفتوں سے نجات ہو جاتی ہے تصنع کا اہتمام ہزاروں کلفتوں کو خریدتا ہے ـ ایک حکایت یاد آئی ایک بزرگ تھے کہ نہایت سادہ ان کا خط نہایت درجہ خراب تھا ـ اتفاق سے بازار سے گزر رہے تھے کہ کسی کی دکان پر ان سے بھی زیادہ برے خط کی ایک کتاب نظر سے گزری بڑی قیمت دیکر اس کو خریدا اس لئے کہ

لوگ دیکھیں گے کہ دنیا میں مجھ سے بھی زیادہ خراب لکھنے والے لوگ موجود ہیں ـ گھر پر لے جا کر مطالعہ کے بعد معلوم ہوا کہ یہ بھی مری ہی لکھی ہوئی ہے ابتدائے عمر کی ـ فرمایا کہ کیسی سادگی کی بات ہے کہ اس کو بھی ظاہر کر دیا ۤـ اگر ظاہر نہ فرماتے تو کسی کو کیا خبر ہوتی تصنع تو بڑوں میں ہوتا ہی نہیں ـ متصنع یہی سمجھتے ہیں کہ کچھ بھی ہو ہم بڑے ہی ہیں ـ اور واقع میں ان کی کسی طرح بھی اہانت و سبکی نہیں ہوتی ـ بلکہ اور کمال پر محمول کیا جاتا ہے چھوٹا بے چارہ سمجھتا ہے لے دے کر ایک دو چیز پاس ہے اگر اس میں بھی نقص نکل آیا تو رہی سہی بھی جائے گی.