ملفوظ 174: ایک مولوی صاحب کی مفصل حالت اور حضرتؒ کی تشخیص

ایک مولوی صاحب کی مفصل حالت اور حضرتؒ کی تشخیص ایک مولوی صاحب نے اپنی حالت بیان کی جس کے چار اجزاء تھے ـ نمبر 1: یہ کہ نماز میں اب یہاں رہ کر حضرت کی برکت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ذات بحت بے کیف کے سامنے موجود ہوں اور نہایت عاجزی سے قصور کی معافی کی خواستگاری کر رہا ہوں مگر یہ کیفیت مستقر نہیں ہوتی جاتی رہتی ہے اور بعض ارکان میں بالکل خطرات مستولی ہو جاتے ہیں ـ بعض ارکان میں کسی خاص خیال محمود پر دل لگاتا ہوں بعض دفعہ ارکانی ادعیہ ( نماز کے ارکان میں جو دعائیں پڑھی جاتی ہیں ) کے معنی کی طرف خیال ہوتا ہے بعض دفعہ نہ معلوم کہاں چلا جاتا ہوں یہ بھی خبر نہیں ہوتی کہ نماز میں ہوں یا نہیں ایک حالت پر استقرار کیسے ہو ـ حضرت والا نے جواب میں فرمایا یہ تقلبات سفر (مختلف حالات ) ہیں اور تثبت منزل (ایک حالت پر اقرار ہو جانا ) ہے منزل پر رسائی سفر ہی سے ہوتی ہے اور کوئی طریق نہیں یوں ہی چلنے دیجئے انشاء اللہ تعالی ایک روز تثبت بھی عطا ہو جائے گا جس کی کوئی مدت متعین نہیں ہو سکتی جب تک حاصل نہ ہو اس کی طلب و قصد بھی قرب و قبول میں بجائے حصول ہی کے ہے ـ نمبر 2: یہ پختہ عہد کر لیا ہے کہ خدا چاہے کوئی گناہ نہ کرونگا اور اگر ہوا تو نفس کو خوب سزا دینی چاہئے مگر وہ سزا سمجھ میں نہیں آتی ـ جس سے یہ امارہ مطمئنہ ہو جائے ـ ( جواب ) میں فرمایا ہر ایک نفس کی سزا جدا ہے جیسے حضرات فقہاء نے شریف کی تعزیر اور لکھی ہے مثلا محکمہ قضاء میں بلا کر قدرے ملامت کر دینا بس آپ کے نفس کیلئے یہ ہی سزا کافی ہے مگر نفس غیر شریف کے لئے دوسری ہے ـ نمبر 3: فکر یہ ہے جب یہاں سے جا کر دوسرے کاموں میں مشغول ہو جاؤں گا تو یہ یاد داشت کیسے رہے گی ـ اس کی کیا تدبیر ہے ـ ( جواب ) میں فرمایا میرے معروضات زبانی یا مکاتبت کو ضبط کر کے پاس رکھنا اور گاہ گاہ مطالعہ کر لینا انشاء اللہ ایک بڑی حد تک کافی ہو گا ـ نمبر 4: دو تین روز سے تقریبا ہر وقت یہ حالت رہتی ہے کہ قلب جیسے غمگین وحزین ہو بلکہ جیسے کسی غم میں برداشت کرنے کے بعد حالت ہوتی ہے زیادہ توضیح سے اس کو بیان نہیں کر سکتا البتہ عجب تاثر کی سی کیفیت ہے مجھ کو یہ بھی امتیاز نہیں کہ یہ تکلیف دہ ہے یا لذت بخش ـ یہ حالت کسی وقت زائد ہوتی ہے کسی وقت کم ـ کچھ یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ شاید یہ حالت جزوی واقعات سے ہو جیسے لڑکے کا بیمار ہو جانا وغیرہ واللہ اعلم بالصواب ـ ( جواب ) میں فرمایا اس باب کی تشخیص وہاں ضروری ہے جہاں مضرت ہوتا کہ سبب کو مرتفع کیا جائے اور اس سے کوئی مضرت نہیں اس لئے تشخیص اسباب بھی ضروری نہیں ایسے حالات سب کو پیش آتے ہیں اور خود بخود مضمحل ہو جاتے ہیں بالکل بے فکر رہئے ـ