ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کی روک ٹوک کی برکت سے طالب کو بے حد نفع ہوتا ہے یہاں سے جو لوگ ناکارہ اور نا اہل سمجھ عدم مناسبت کی بنا پر نکال دیئے جاتے ہیں وہ دوسری جگہ کے اچھوں سے بھی اچھے ہوتے ہیں ـ حضرت والا نے فرمایا کہ آپ نے تو اس روک ٹوک اور محاسبہ کی قدر فرمائی اور ایک شخص نے اس روک ٹوک ہی کی بنا پر وطن پہنچ کر لکھا تھا کہ تم نے میری بڑی اہانت کی میں نے علم کا ادب کیا ورنہ انتقام لیتا ـ پھر کچھ دنوں کے بعد اس ہی شخص کا خط آیا کہ مجھ سے بڑی گستاخی ہوئی میں نے اس قسم کا مضمون لکھا تھا جس وقت سے وہ مضمون حضرت والا کو لکھا ہے اس وقت سے برابر میری بینائی میں کمی ہوتی جا رہی ہے اور اب قریب اندھا ہونے کو ہو گیا ہوں اور میں اس کو اسی تحریر کو وبال سمجھتا ہوں ـ میں نے جواب میں لکھا کہ یہ تم کو وہم ہو گیا ہے مگر تمہارے خیال کی بناء پر میں دل سے معاف کرتا ہوں اللہ تعالی بھی معاف فرمائیں ـ حضرت کسی کو بلاوجہ ستانا اور یا دل دکھانا نہایت خطرناک بات ہے فرماتے ہیں ؎ ہیچ قومے راخدا رسوا نہ کرد ٭ تا دل صاحب دلے نامد بدرد چوں خدا خواہد کہ پردہ کس درد ٭ میلش اندر طعنہ پا کاں برد ( کسی قوم کو خدا نے اس وقت تک رسوا نہیں کیا جب تک کسی صاحب دل کا دل نہیں دکھا ـ جب حق تعالی کسی کی پردہ دری فرماتے ہیں تو اس کا میلان پاک لوگوں کوطعن و تشنیع کرنیکی طرف ہو جاتا ہے ) ـ 2رمضان المبارک 1350ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم دو شنبہ
