ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگ مجھ پر اکثر عنایت فرماتے رہے ہیں ( یعنی اعتراض )
کہتے ہیں کہ یہ جو بعض دفعہ ہدایا وغیرہ لینے سے انکار کر دیتے ہیں یہ بھی ایک تدبر ہے کہ بہت سا آئے یا
نہ لینے کی حکمت بیان کی ٖخیر یہ تو خواہ حکمت ہو یا نہ ہو مگر اس سے ایک مسئلہ نکل آیا کہ ایک ضد کبھی دوسری ضد کا سبب بن جاتی ہے جیسے صورۃ نہ لینا اور حقیقتا زیادہ لینا اسی طرح تکبر کبھی بصورت
تواضع ظاہر ہوتا ہے اور ریاء کبھی بصورت خلوص ظاہر ہوتی ہے اب اس کو سنکر بعض لوگ دوسرے وہم میں
مبتلا ہوجاتے ہیں کہ ان کو اپنے تمام افعال میں ان کی ضد کا شبہ اور وسوسہ ہو جاتا ہے یعنی اخلاص میں وسوسہ ہوتا ہے کہ شاید اس میں مخفی ریاء ہو سو اس کے متعلق میں یہ کہتا ہوں کہ ان اوہام کی طرف التفات نہ کرو یہ وساوس ہیں اگر آویں آنے دو انکی فکر ہی میں نہ پڑوس ان کا قصد نہ کرو اور ان کے اقتضاء پر عمل
نہ کرو ان کی فکر میں پڑنا یہ بھی شیطان اور نفس ک شرارت ہے کہ اس میں مشغول کر کے اللہ کی مشغولی سے باز رکھنا چاہتے ہیں بس کام میں لگو انشاءاللہ تعالی کشتی پار لگ جائے گا ـ
16 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم شنبہ
