ملفوظ 198: تمام مجاہدات و اشغال کا مقصود

ملفوظ 198: تمام مجاہدات و اشغال کا مقصود ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ تمام کہ تمام مجاہدات و ریاضات و مراقبات و اشغال سے مقصود یہ ہے کہ توجہ الی اللہ میں قوت ہو جائے اور اس کیلئے جو کچھ شغل وغیرہ شیخ تعلیم کرتا ہے یہ سب طریق طبی کی طرح ہے جو محض تدابیر کا درجہ رکھتا ہے مقصود کوئی چیز نہیں ـ اس طرح قلب کا جاری ہو جانا جو مشہور ہے وہ بھی کوئی چیز نہیں بلکہ تجربہ نے اس سے بھی منع کیا ہے کہ محض قلب سے ذکر کا خیال رکھا جائے اس میں دھوکہ ہو جاتا ہے ـ وہ فرماتے ہیں کہ ذکر زبان سے جاری رکھو خواہ قلب بھی حاضر نہ ہو کیونکہ قلب سے ذکر کا خیال رکھنا اس کا دوام مشکل ہے اور دیر پا بھی نہ ہو گا ـ زبان سے ذکر کرنے میں یہ حکمت ہے کہ کوئی وقت بھی ذکر سے خالی نہ جائیگا اور قلب چونکہ ایک وقت میں دو طرف متوجہ نہیں ہو سکتا اس لئے اس میں ذہول ہونا بعید نہیں پس زبان سے بھی ذکر جاری رکھنا احوط و اسلم ہے ـ