ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت بجلی کے وزن کا اندازہ ایک خاص قسم کی گھڑی سے ہو جاتا ہے کہ اس قدر مہینہ بھر میں جلی فرمایا کہ آخرت میں اعمال کے وزن پر لوگ شبہ کرتے ہیں یہاں بجلی کا وزن ہوتا ہے تھرمامیٹر سے وزن حرارت کا ہوتا ہے اس پر شبہ نہیں کرتے اور یہ جواب تو ان کی خاطر سے دے دیا ہے ورنہ وہاں تو اعمال کا وزن ہونا منصوص ہے ترازو ہو گی ڈنڈی ہو گی پلڑے ہوں گے وہ جھکیں گے اعمال کا وزن ہو گا ان لوگوں کے سمجھانے کے واسطے میں نے یہ جواب دیا ہے ورنہ نصوص کے ہوتے ہوئے اس جواب کی ضرورت نہ تھی افسوس ہم کو ایسے لوگوں سے سابقہ پڑا ہے جو محض جاہل ہیں اس لئے ایسے جوابات کی نوبت آئی البتہ اعمال کے وزن ہونے میں تو شبہ اس وقت ہو سکتا تھا جبکہ وہ جواہر نہ ہوں ہم تو کہتے ہیں کہ وہاں وہ جواہر ہوں گے اور جب جواہر ہوں گے تو ان کا وزن ہو جائے گا حقیقت تو یہ ہے کہ ایسے جاہلوں کا جواب اصل وہی ہے جو میں نے ایک صاحب کو علی گڑھ میں دیا تھا انہوں نے مجھ سے سوال کیا تھا یہ جو آیا ہے کہ زنا سے طاعون ہوتا ہے فعل اور جزا میں ربط کیا ہے میں نے کہا کہ اگر ربط معلوم نہ ہو تو ضرر کیا ہے بس یہ جواب کافی ہے ۔ جاہلوں کے لئے اگر جہل نہ ہو تو یہ سوال ہی پیدا نہ ہوتا ، ضبیع ایک شخص تھا شام میں وہ متشابہات قرآنیہ میں گفتگو کہا کرتا تھا اس کی اطلاع حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ہوئی آپ نے حکم فرمایا کہ گرفتار کر کے ہمارے پاس بھیج دو گرفتار کر کے بھیج دیا گیا ، آپ نے ستون سے بندھوا کر حکم دیا کہ اس کے دماغ پر درے لگاؤ ، لگنا تھا کہ چیخ اٹھا کہ حضرت میں توبہ کرتا ہوں کبھی قرآن کے ساتھ ایسا معاملہ نہ کروں گا تمام شیاطین دماغ سے نکل گئے ۔ یہ ساری برکت نعل دار جوتے کی ہے ، حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے نعل دار جوتہ کا نام روشن دماغ رکھا تھا واقعی روشن دماغ ہی ہے اسی واسطے حکومت کی ضرورت ہے بریلی کے ایک شخص یہاں پر رہتے تھے ذکر و شغل کرتے تھے اور کبھی کبھی وساوس کی شکایت بھی کرتے تھے میں ان کی تسلی کر دیتا تھا بس ایک روز جوش میں بھرے ہوئے آئے اور کہنے لگے کہ اب تو جی میں آتا ہے کہ میں عیسائی ہو جاؤں میں نے ایک دھول رسید کیا اور کہا نالائق اسی وقت عیسائی ہو جا ۔ اسلام کو ایسے ننگ اسلام کی ضرورت نہیں اسلام بے نیاز ہے ، ایسے نالائقوں اور بدفہموں سے اس کے بعد ان کو کبھی قسم کا وسوسہ پیدا نہیں ہوا یہ دھول کی برکت تھی کہ سب دھول جھڑ گئی یہاں ایک اور ذاکر تھے ان کو ذکر کرتے وقت جوش اٹھتا تھا اس میں اٹھ کر بھاگتے بہت ہی قوی آدمی تھے لوگوں کو خوف ہوتا کہ کہیں کسی پر حملہ نہ کریں لوگوں نے مجھ سے کہا کہ آج رات کو میں یہیں رہوں گا غرض اس روز میں خانقاہ میں رہا اور ان سے کہا کہ میرے ساتھ کھڑے ہو کر تہجد پڑھو اور ذکر شروع کرو ، تہجد پڑھ کر ذکر شروع کیا تو جوش اٹھا اور ایک طرف کو بھاگے میں نے زور سے ایک دھول رسید کی کہ کہاں جاتا ہے فورا بیٹھ گئے ، پھر کبھی ذکر میں ان کو جوش نہیں اٹھا ، بہت عرصہ کے بعد کلکتہ میں ملے تھے کہتے تھے کہ پھر کبھی مجھ کو ذکر میں جوش نہیں اٹھا ، پھر اٹھ کر بھاگنے کے متعلق فرمایا وجد و جوش حقیقت میں مذموم نہیں مگر کمال بھی نہیں ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ اور مشائخ کے یہاں تو ذکر کر کے جوش کو اچھا سمجھتے ہیں ، فرمایا کہ آپ بھی عجیب عقلمند ہیں کیا میری تقریر آپ نے سنی نہیں میں تو پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ مذموم نہیں پھر اس کہنے کی کون سی ضرورت باقی رہی کہ اور مشائخ اچھا سمجھتے ہیں ، میں نے ہی برا کب بتلایا ہے ، یہ کہا ہے کہ کمال بھی نہیں اگر آدمی کو بولنا نہ آئے تو کیوں بولے خاموش رہے خواہ مخواہ پریشان کیا ، اچھے برے ہونے پر گفتگو نہیں ہے گفتگو اس میں ہے کہ کمال بھی ہے یا نہیں سو کمال نہیں بلکہ یہ ضعف قلب کی دلیل ہے کہ آدمی بے اختیار ہو جائے سو اس قدر مغلوب ہو جانا یہ ضعف قلب سے پیدا ہوتا ہے اگر یہ کمال ہوتا تو انبیاء علیہم السلام کو سب سے زیادہ مغلوب ہو جانا چاہیے تھا مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ از جا رفتہ ہو گئے ہوں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حالت کمال کے خلاف ہے ہاں گریہ جاری ہو جانا یہ نقص نہیں ۔ گریہ کے مضمون پر ایک صاحب نے شیعوں کی مجالس کا ذکر کیا کہ وہ رونے ہی کو ذریعہ نجات سمجھتے ہیں اور اس کے لئے سامان مہیا کرتے ہیں فرمایا کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ وہ رنج ہی کیا ہوا جو اتنے سامان کے بعد رونا آئے ۔
