فرمایا کہ لوگوں کی تو عادت نہیں صفائی اور انتظام کی الجھی ہوئی طبیعتیں ہیں میرا تو گھر میں بھی یہی معمول ہے جو چیز جہاں سے اپنے ہاتھ سے لیتا ہوں وہیں رکھتا ہوں ، مثلا قلمدان ، دیا سلائی گھر میں جہاں سے اٹھاتا ہوں وہیں خود رکھتا ہوں دوسرے پر اس کام کو نہیں چھوڑتا ۔ جی یہ چاہتا ہے کہ اصول صحیحہ کا میں بھی تابع ہوں اور دوسرے کو بھی ان ہی کا تابع بناؤں ، بس اتنی سی بات ہے جو لوگوں پر گراں ہے نہ میں خادم بننا چاہتا ہوں نہ مخدوم نہ تابع نہ متبوع میں جس کام کا ہوں اگر کوئی سلیقہ سے مجھ سے وہ خدمت لینا چاہے جان و دل سے حاضر ہوں اور گڑبڑ کی حالت میں خدمت سے معذور ہوں میں کیا کروں اصول صحیحہ اللہ تعالی نے میری فطرت میں
رکھ دیئے ہیں ۔ اگر لوگ ان کے اختیار کرنے سے معذور ہیں تو میں ان کے عکس سے معذور ہوں ۔
