( ملفوظ 52 )سختی اور مضبوطی میں فرق

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ لوگ مجھ کو سخت بھی بتلاتے ہیں حالانکہ سختی اور مضبوطی میں بہت بڑا فرق ہے ـ میں سخت نہیں ہوں بحمد للہ اصول صحیحہ میں مضبوط ہوں ـ
جیسے ریشم کا رسا کہ نرم تو اس قدر کہ جس طرح چاہو موڑ لو اور مضبوط اس قدر کہ اگر اس سے ہاتھی کو بھی باندھو تو وہ بھی کچھ نہیں بنا سکتا ـ مضبوطی کو لوگ سختی سے تعبیر کرتے ہیں اگر اصول صحیحہ پر عمل کرے یا کہ کرواے تو اسمیں سختی کی کیا بات ہے ـ خیر یہ تو لطیفے ہیں ـ اصل یہ ہے کہ بدون قواعد اور ضوابط کے کام نہیں ہو سکتا ـ خصوص اس زمانہ میں جبکہ بدفہم دنیا میں بھرے پڑے ہیں اور ان لوگوں کو تو ہر دلعزیز ہی خوش رکھ سکتا ہے خوشی کا انجام وہ ہو گا جیسے ایک حکایت ہے ـ کہ ایک شخص ہر دلعزیز تھے کسی دریا کے کنارے پہنچ گئے دیکھا کہ ایک شخص اس کنارے بیٹھا رو رہا ہے ـ وہ دوسرے کنارہ
پر جانا چاہتا ہے اور ایک اس کنارے رو رہا ہے ـ وہ اس کنارے آنا چاہتا ہے ـ ان کے دل میں آیا کہ دونوں کو پار کروں اپنے قریب والے کو لیکر چلا جب نصف دریا میں پہنچا تو دل میں خیال ہوا کہ وہ بھی رو رہا ہے ـ اب اتنا ہی اس کا کام کروں ـ یعنی اس کو یہیں چھوڑ کر اتنی ہی دور اس کو لانا چاہیئے
تاکہ اس کی بھی آزادی نہ ہو ـ پس اس کو بیچ دریا میں چھوڑا اس کو لینے گیا یہ یہاں پر ڈوبنے لگا
جب اس کو لے کر اس طرف چلا اس کو ڈوبتے دیکھ کر اس کو چھوڑ کر اس کی طرف چلا اس کے پاس نہ پہنچا تھاکہ یہ ڈوب کر مر گیا ـ اب اس طرف لوٹا تو وہاں تک نہ پہنچا تھا کہ وہ بھی ختم ہواـ سو ہر دلعزیزی کا یہ نتیجہ ہے مجھ سے ایسی ہر دلعزیزی کی کوئی امید نہ رکھے میں ہرگز اصول صحیحہ کو نہیں چھوڑ سکتا ـ
لوگ تو یہ چاہتے ہیں کہ ہماری غلامی کیجائے مگر جب میں خود ہی دوسروں سے غلامی نہیں چاہتا
پھر ہی ان کی کیوں غلامی کروں ـ البتہ اصول صحیحہ کے تم بھی غلام بنو اور میں بھی ـ ان ہی اصول میں سے میرا ایک یہ معمول بھی ہے کہ ایک خط میں صرف ایک مضمون ہو البتہ اگر اس ایک ہی کے چند اجزاء ہوں تو دوسری بات ہے ورنہ اگر سب مستقل مضمون ہوں تو میں واپس کر دیتا ہوں کہ ایک خط میں ایک ہی سوال آنا چاہیئے ـ