ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بعض لوگ قادیانی شیعوں کی کتاب بھیج دیتے ہیں کہ اس کا جواب لکھ دو انکی تو ایک سطر ہوگئی ـ یہاں ایک پہاڑ لد گیا چونکہ میرے یہاں اصول ہیں میں لکھ دیتا ہو کہ کتاب خود دیکھ کر ایک ایک شبہ کا جواب لیتے رہو خواہ کتنی ہی مدت لگے مگر اتنا کام کون کرے ـ اس جواب سے ان کا وضو شکست ہو جاتا ہے ـ مگر مدرسہ والے
ایسا ضابطہ کا برتاؤ نہیں کر سکتے اس لئے کہ کہیں لوگوں کو بد دلی نہ ہو جائے اور ان کو ضرورت ہے ـ خوش دلی کی تاکہ مدرسہ کی اعانت میں خلل نہ ہو اور اہل مدارس مو اکثر امور میں ایسی رعایتوں کی ضرورت ہوتی ہے ـ
چناچہ چندہ لیکر شکریہ ادا کرنا یہ بھی اسی کی رعایت کی ایک فرد ہے ـ میں نے اس شکریہ کے متعلق ایک مضمون بیان کیا تھا ـ میرٹھ میں مؤتمر الانصار کا جلسہ تھا ـ وہاں چندہ کی بھی تحریک کی گئی ـ میں نے اس تحریک کے ساتھ اپنے بیان میں یہ بھی کہہ دیا کہ ہم چندہ والوں کا شکریہ ادا نہکریں تے خواہ دو یا نہ دو اس لئے کہ شکریہ وہ ادا کرے جو خود منتفع ہو ـ جب یہ نہیں تو کیسا شکریہ ـ
لوگ سمجھتے تھےکہیہمضمون چندہ کے لئے مضر ہوگا ، مگر بہت مفید ہوا خوب روپیہ برسا ـ
