ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میرا ایک یہ بھی معمول ہے کہ اگر کوئی طالب علم کوئی بات پوچھتا ہے تر لکھ دیتا ہوں کہ اپنے استاتزہ سے پوچھو مگر طالب علموں کا طبقہ بڑا ہوشیار ہوتا ہے ـ
جواب میں لکھتے ہیں کہ پوچھا تھا مگر تسلی نہیں ہوئی ـ میں لکھتا ہوں کہ اپنا شبہ اور ان کا جواب نقل کرو
اور تسلی نہ ہونے کی وجہ لکھو بس اس کے بعد ان کا سوال ختم ہوجاتا ہے
