( ملفوظ 100 ) بندہ کی ہمت اور حق تعالی کا جذب

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بفضلہ تعالی کام سب کچھ ہو سکتا ہے ہمت کی ضرورت ہے بندہ کا فرض کام شروع کر دینا ہے اس میں لگ جانا ہے اور وہ صرف اسی کا مکلف ہے پھر چند روز میں انشاء اللہ تعالی سب کچھ ہو رہے گا ، ہمت تو وہ چیز ہے کہ پہاڑوں کو ہلا دیتی ہے اہل تواریخ نے حضرت سیدنا یوسف علیہ السلام کی ہمت کی ایک حکایت لکھی ہے جس وقت زلیخا نے مکان میں حضرت سیدنا یوسف علیہ السلام کو بلایا ہے تو اس مکان کے یکے بعد دیگرے سات درجے تھے اور ساتوں مقفل کر دیئے گئے تھے اور قفل بھی نہایت مضبوط تھے مکان کو اس قدر محفوظ کر کے تب زلیخا نے اپنی خواہش کا اظہار کیا مگر قوت کے سامنے ایک بھی زلیخا کی نہ چلی حقیقت تو یہ ہے کہ یہ قوت نبوت ہی تھی جو سیدنا یوسف علیہ السلام کا اتنا قوی توکل رہا ورنہ دوسرا تو سر کے بل آ کر گر جاتا ۔ غرض مکان سب مقفل اس میں سے نکل جانے کے لیے کوئی راستہ بظاہر نظر نہیں آتا تھا مگر اللہ رے ہمت اور بھروسہ اس وقت آپ پر
یہ حال غالب ہوا کہ مجھ کو اپنا کام کرنا چاہیے ، آگے ان کا کام ہے ضرور مدد فرمائیں گے ۔ غرض یہ کہ سیدنا یوسف علیہ السلام وہاں سے توکل پر بھاگے اور زلیخا پیچھے دوڑیں جس دروازہ پر آپ علیہ السلام پہنچتے تھے پہنچنے سے قبل اس کا قفل ٹوٹ کر کواڑ کھل جاتے تھے ، ساتوں دروازوں کو اسی طرح طے کر گئے اور عفت اور عصمت کے ساتھ باہر نکل آئے ۔ اسی کو مولانا فرماتے ہیں :

گرچہ رخنہ نیست عالم راپدید خیرہ یوسف دارمے باید دوید

اور مشکل کام ہم کو ہی مشکل معلوم ہوتا ہے باقی ان کے نزدیک تو سب آسان ہے البتہ وہ طلب کو دیکھتے ہیں پھر تو سب کچھ ادھر ہی سے ہو جاتا ہے ۔ اسی کو مولانا فرماتے ہیں :

تو مگو مارا بداں شہ بار نیست باکریماں کارہا دشوار نیست

اور جو لوگ بیٹھے ہوئے نری آرزو اور تمنائیں پکاتے رہتے ہیں وہ اکثر محروم رہتے ہیں ۔ غرض ان کی طرف سے کچھ بھی کمی نہیں مگر آپ
بھی تو کچھ کیجئے ذرا حرکت کر کے دیکھئے پھر دیکھئے برکت ہوتی ہے یا نہیں ، بندہ ذرا بھی حرکت کرتا ہے تو ادھر سے جذب ہوتا ہے رحمت اور فضل متوجہ ہو جاتے ہیں اور اگر یہ بات نہ ہوتی تو کوئی بڑے سے بڑا بھی واصل نہ ہو سکتا کیونکہ بدون اس طرف سے جذب ہوئے یہ مسافت طے ہونا محال ہے ۔ اسی کو فرماتے ہیں :

نہ گرد و قطع ہر گز جاوہ عشق از دویدن ہا کہ می بالدبہ ایں خود ایں راہ چوں تاک از بریدن ہا

پھر اگر اب بھی کوئی محروم رہے تو بجز اس کے کیا کہیں گے کہ اس شخص نے اپنے ہاتھوں اپنی استعداد خراب کر لی جس کی وجہ سے یہ محروم ہے اور خسران اس کی گلو گیر ہے ۔ خوب فرماتے ہیں :

اس کے الطاف تو ہیں عام شہیدی سب پر ( یعنی اختیار منہ )

تجھ سے کیا ضد تھی اگر تو کسی قابل ہوتا ( یعنی اختیار امنک )