ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ طریق اصلاح بہت ہی نازک چیز ہے ہر شخص کی سمجھ میں نہیں آ سکتا جیسے طبیب جسمانی کا علاج ہر شخص کی سمجھ میں نہیں آ سکتا ۔ اس وقت کتابوں کے مطالعہ کر لینے کو لوگ بڑا کمال اور انتہائی معراج سمجھتے ہیں اگر ایسا ہی ہے تو
طب کے اندر بھی تو کتابیں مدون ہیں ان کو دیکھ کر امراض جسمانی کا علاج کیوں نہیں کر لیتے ۔ سو جیسے وہاں خود علاج نہیں کر سکتے یہاں بھی نہیں کر سکتے جیسے وہاں طبیب جسمانی کی ضرورت ہے ایسے ہی یہاں طبیب روحانی کی ضرورت ہے ۔ آخر دونوں میں فرق کیا ہے ذرا میں بھی سننے کا مشاق ہوں ۔ میں اس وقت ان لوگوں کے متعلق بیاں کر رہا ہوں جو اس راہ میں قدم رکھنا چاہتے ہیں وہ ذرا کان کھول کر سن لیں میں بقسم عرض کرتا ہوں کہ کمال کبھی بدون ماہر سے حاصل کیے نہیں پیدا ہو سکتا خود بخود اس راہ کو طے کرنا چاہتے ہیں سخت دھوکہ میں ہیں ، سخت غلطی میں ہیں اور اس غلطی کی بدولت ہزاروں اپنی جانیں دے بیٹھے ۔ اس راہ میں راہبر کی ضرورت ہے اور راہبر بھی کامل راہبر خاص ریاست رام پور کا ایک قصہ ایک میرے ہم سبق مولوی مظہر نے حضرت استاذی مولانا محمد یعقوب صاحب کے حضور میں بیان کیا کہ وہاں ایک درویش پر ایک حال طاری ہوا ۔ بے چارے فن سے ناواقف تھے اس لیے وارد کی حقیقت نہ معلوم کر سکے ۔ فلاں مولوی صاحب جو شیخ بھی مشہور تھے اس وقت زندہ تھے یہ درویش اس کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے ۔ مولوی صاحب اس وقت درس میں تھے اور طلباء مثنوی شریف کا سبق پڑھ رہے تھے ۔ یہ درویش اس وقت ایسی حالت میں تھا کہ جس میں انسان اپنے کو زندیق اور ملحد بلکہ کتے اور سور سے بھی برا سمجھتا ہے ۔ مولوی صاحب نے اس سے پوچھا کہ بھائی تم کون ہو اور کیسے آئے ، عرض کیا کہ میں شیطان ہوں ، مولوی صاحب نے کہا کہ اگر شیطان ہو تو ” لا حول و لا قوۃ الا باللہ ”
وہ شخص وہاں سے اٹھ کر چلا آیا اور اپنی قیام گاہ پر پہنچ گیا اور یہ سمجھا کہ جب واقف راہ شخص نے بھی مجھ کو ایسا ہی سمجھا تو میں واقع میں ایسا ہی ہوں جب یہ ہے تو ایسے مردود سے دنیا کا پاک ہو جانا ہی بہتر ہے ۔ اپنے ایک مرید سے کہا کہ میں اپنا گلا کاٹوں گا ، اگر کچھ کھال باقی رہ جائے تو جدا کر دینا ، اس نے وعدہ کر لیا اس شخص نے حجرہ میں پہنچ کر چاقو سے اپنی گردن جدا کر دی ، مرید نے حجرہ کھول کر دیکھا تو پیر کا کام تمام ہو چکا تھا کچھ کھال الجھی ہوئی تھی اس کو حسب وصیت اس نے جدا کر دیا ۔ اس حالت میں مرید کو پولیس نے گرفتار کر لیا چونکہ معاملہ سنگین تھا اس لیے خاص نواب صاحب کے دربار میں مقدمہ پیش ہوا ، مرید کے بیان ہوئے ان مولوی صاحب کو بھی اطلاع ہوئی انہوں نے بھی اپنی معلومات کے موافق شہادت دی کہ واقعی یہ شخص درس کے وقت میرے پاس آیا تھا اور یہ یہ کہا تھا قرائن سے مرید کے بیان کا صحیح ہونا معلوم ہو گیا ، تب بے چارہ مرید کی جان بچی اور واقعہ کی حقیقت کا انکشاف ہوا حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے سن کر فرمایا کہ ان مولوی صاحب نے کچھ غور نہ فرمایا اس کا جواب یہ ہونا چاہیے تھا کہ اگر تو شیطان بھی ہو تو کیا ہوا شیطان بھی تو انہیں کا ہے نسبت تو پھر بھی باقی ہے ۔ اس سے اس شخص کی تسلی ہو جاتی اور یہ جواب علمی تو نہ تھا کیونکہ ایسی نسبت مطلوب تھوڑا ہی ہے لیکن یہ جواب حالی تھا یعنی خاص اس کی حالت کے مناسب تھا جیسے طبیب بعض اوقات خلاف قواعد کسی خاص مزاج کے اعتبار سے کچھ علاج کرتا ہے اسی لیے میں کہا کرتا ہوں کہ اس راہ میں ایسے شخص کی ضرورت ہے جو جامع بین الاضداد ہو جو سب کی رعایت کر سکے اور وہ اضداد محض صورتا ہوتے ہیں حقیقتا نہیں ہوتے اور ایسا جمع سخت نازک کام ہے ۔
علماء ظاہر کے لیے تو یہ آسانی ہے کہ وہ ظاہر پر اور قاعدہ پر فتوی دے کر الگ ہو جاتے ہیں اور غیر عالم کو یہ آسانی ہے کہ اس کو حدود پر نظر ہی نہیں اپنے ذوق پر حکم لگایا ، مشکل غریب جامع ظاہر و باطن کی ہے کہ اس کو دونوں متضاد کو جمع کر کے فتوی دینا پڑتا ہے ۔ خلاصہ یہ کہ ہے بدون رہبر کامل کے اس طریق میں قدم نہ رکھنا چاہیے اور اگر اس پر کسی کو شبہ ہو کہ ہم نے تو اس قسم کی بہت حکایت سنی ہیں کہ بہت لوگ بدون رہبر کے اس راہ کو طے کر گئے اور منزل مقصود پر پہنچ گئے تو صاحبو ! ایسا اول تو نادر ہے اور نادر قابل اعتبار نہیں پھر وہ نادر بھی کسی راہبر کی عنایت اور توجہ ہی کا ثمرہ ہوتا ہے اس لیے کہ وہ غیبت میں مخلوق کے لیے دعا کیا کرتے ہیں جس کی اس شخص کو خبر بھی نہیں تو اب بتلائیے اہل اللہ کی عنایت سے کوئی مستغنی کب ہوا اور میں تو اس باب میں ایسے محقق مسلم شخص کا فیصلہ آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جس کے سن لینے کے بعد آپ کو کوئی شبہ ہی نہیں رہ سکتا ۔ مولانا رومی فرماتے ہیں :
بے عنایات حق و خاصان حق گر ملک باشد سیہ ہستش ورق
اور تنہا راہ کو طے کرنے کے متعلق بھی انہیں کا فیصلہ پیش کرتا ہوں ۔ فرماتے ہیں :
یار باید راہ را تنہا مرو بے قلاؤز اندریں صحرا مرو
کہ اس بیابان میں بدون رہبر کامل کے قدم نہ رکھو جس طرح بھی ممکن ہو ضرور کسی کو ساتھ لے لو اس لیے کہ وہ تم کو اس راہ پر خطرے اور دشوار گھاٹی سے حفاظت کے ساتھ نکال دے گا اور یہ سب ہائیکورٹ کے نظائر ہیں جس کے بعد کوئی شبہ ہی نہیں رہ سکتا ۔ فرماتے ہیں :
ہر کہ تنہا نادر ایں راہ را برید ہم بعون ہمت مرداں رسید
اور ایک دوسرے اہل تجربہ حضرت شیخ فرید شکر گنج فرماتے ہیں :
بے رفیقے ہر کہ شد در راہ عشق عمر بگذاشت و نشد آگاہ عشق
گر ہوائے ایں سفر داری ولا دامن رہبر بگیر وپس بیا
درارادت باش صادق اے فرید تابیابی گنج عرفاں را کلید
خلاصہ یہ ہے کہ نہ بدون کام کیے کچھ ہوتا ہے اور نہ بدون رہبر کے یہ راہ طے ہوتی ہے اور اس کا دامن پکڑ کر بھی کام جب بنے گا کہ جب اس کے سامنے اپنے کو اور اپنی رائے کو فنا کر دو ، مٹا دو اور اس راہ میں قدم رکھنے کے ساتھ ہی اس کی ضرورت ہے اور پہلی منزل اور شرط اعظم ہے ۔ اسی کو مولانا فرماتے ہیں :
قال رابگذار مرد حال شو پیش مرد کاملے پامال شو
