( ملفوظ 364 ) بیوی کو اپنے خاوند کیلئے تعویذ کرانے میں تفصیل

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فقہاء نے لکھا ہے کہ بیوی اگر خاوند کے لیے محبت کا تعویذ کروا لے تو حرام ہے یہ ایک جزئی ہے جو ظاہرا مطلق ہے مگر واقع میں یہ تفصیل کی محتاج ہے ۔ وہ تفصیل یہ ہے کہ جو حقوق خاوند کے ذمہ واجب ہیں ان کے لیے تو حب کا تعویذ وغیرہ جائز ہے اور جو حقوق شرعا اس پر واجب نہیں محض تبرع ہیں اس میں ایسی تدبیرات سے اس کی رائے اور آزادی کو سلب کرنا یہ حرام ہے کیونکہ تبرع میں جبر حرام ہے اور واجب میں جائز ہے اسی طرح جس چیز پر حسا جبر جائز ہے وہاں جبری سفارش بھی جائز ہے اور جہاں حسا جبر جائز نہیں وہاں پر زور سفارش بھی جائز نہیں ۔ حاصل یہ ہے کہ حقوق غیر واجبہ میں رائے کی آزادی سلب نہ ہونا چاہیے مضطر نہ کرنا چاہیے ۔ امیر آدمیوں کو اکثر لوگ ان تعویذات وغیرہ سے مسخر کرتے ہیں سو اگر ایسا مسخر ہو جائے کہ مضطر و مغلوب ہو جائے یہ قطعا حرام ہے ، عوام کے نزدیک یہ چیزیں آج کل کمالات میں شمار ہوتی ہیں حالانکہ اس کی ایک فرد یعنی جس میں دوسرا مغلوب ہو جائے معصیت بھی ہے ۔