ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت بالشویک نے ایک انجمن قائم کی ہے اس کا نام رکھا ہے عدواللہ اس میں پچیس ہزار کے قریب مخلتف اطراف کے لوگ شریک ہیں جو اس انجمن کے مقاصد کو ملک میں پھیلا نے کی کوشش و سعی میں مصروف ہیں منجملہ اور مقاصد کے ایک یہ امر بھی انجمن کے مقاصد سے ہے کہ عورتوں کو پردہ نہ کرنے دینا چاہئے اور لڑکیوں کو مثل لڑکوں کے بنایا جا رہا ہے رفتار گفتار لباس طرز انداز سب لڑکوں کے سے ہوں اور ان کو فوج میں بھرتی کیا جا رہا ہے اور چھوٹے چھوٹے بچوں سے پوچھتے ہیں کہ تم کو کھانے کو کون دیتا ہے وہ جواب میں کہتے ہیں
کہ خدا دیتا ہے اس پر کہتے ہیں کہ یوں کہوں کہ حکومت دیتی ہے اگر اس پر بچے پھر بھی یہ نہ کہیں تو ان کو قتل کر دیا جاتا ہے اورخصوصیت کے ساتھ ایسے بچے مسلمانوں ہی کے ہوتے ہیں کہ وہ یہ ہی کہتے رہتے ہیں کہ خدا دیتا ہے ـ یہ واقعہ سن کر حضرت والا پر ایک خاص اثر ہوا اور بے حد رنج اور صدمہ و افسوس کا اظہار فرماتے ہوئے فرمایا کہ کیا ٹھکانا ہے ، مردودوں کا ، فرعوں سے بھی بدتر ہو گئے خدا غارت کرے ـ صاحبو ! لوگ سوراج سوراج لئے پھرتے ہیں اگر خدا نخواستہ مل گیا تو انجام ( ہندوستان میں اس کا مشاہدہ ہو رہا ہے ) یہی ہو گا جو بالشویک کی حالت ظلم اور سر کشی کی سننے میں آرہی ہے اور یہاں پر جو یہ جماعت ہے جو کانگریس کے نام سے مشہور ہے یہ بھی سب ہی بالشویک خیال کی پارٹی ہے اور یہ سب اسلام کے مقابلہ پر سازش ہے انگریزوں پر بہت دانت تیز کئے جاتے اور ہندوستان میں بالشویکوں کے آنے کی تمنا ظاہر کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہندوستان کا بھی یہی حشر ہو افسوس تو بعض علماء پر ہے کہ وہ بھی ان باتوں کو نہیں سمجھتے مجھ کو تو بحمداللہ ان ابواب میں کھلی آنکھوں حق وباطل نظر آ رہا ہے ـ
