( ملفوظ 361 )حد سے تجاوز تقوی میں بھی برا ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حد سے تجاوز کرنا کسی چیز میں بھی پسندیدہ نہیں حتی کہ تقوی میں بھی اسی واسطے ایک مولوی صاحب جو نہایت متقی تھے وہ کہتے تھے کہ میں ڈرتا ہوں کہیں اس پر مواخذہ نہ ہو کہ تو اتنا متقی کیوں تھا ان کی مراد یہی غلو ہے ۔ حقیقت میں صوفیاء اور فقہاء حکماء امت ہیں ۔ یہ تو ایک صوفی کا قول تھا باقی فقہاء نے لکھا ہے کہ زہد بارد قابل تعزیر ہے اس کی مثال لکھی ہے کہ کوئی شخص گیہوں کا ایک دانہ اٹھا کر دکھاتا پھرے کہ اس کا کون مالک ہے تو اس کو مستحق تعزیر فرمایا ہے کیونکہ شریعت نے اس کو متقوم نہیں فرمایا اور یہ اس کو لقطہ بنا کر متقوم میں داخل کرتا ہے اس کو زہد خشک اور زاہد بارد کہتے ہیں اور درحقیقت اس میں اظہار ہے اپنے ورع اور تدین کا ۔
17 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم شنبہ