ملفوظ 109: دارالعلوم دیوبند کے قرن اول کا حال

فرمایا ! کہ جس زمانہ میں میں مدرسہ دیوبند میں پڑھا کرتا تھا اس وقت کے حالات و واقعات یاد آ آ کر عجیب قلب کی کیفیت ہوتی ہے اس وقت یہ معلوم ہوتا تھا کہ ہمیشہ ایسا ہی زمانہ رہے گا ـ اس وقت بڑے بڑے اہل کمال کا اجتماع تھا اور قریب قریب سب اپنے کو مٹائے ہوئے اور فنا کئے ہوئے تھے ـ جب کبھی اتفاق سے ان حضرات کا اجتماع ہو جاتا تھا یہ معلوم ہوتا تھا کہ ہر بزرگ دوسرے کو اپنے سے بڑا سمجھتا ہے بڑی ہی خیر کا مجمع تھا ـ یہی حالت آپس میں طلباء کی تھی اور اساتذہ کے سامنے تو بولنے کی بھی ہمت نہ ہوتی تھی اور ایک یہ زمانہ ہے کہ اس وقت سے کوئی منابست ہی نہیں ؎ چہ نسبت خاک رابعالم پاک اس وقت کھلم کھلا نظر آتا تھا کہ مدرسہ پر انوار کی بارش ہو رہی ہے اور یہ سب ان حضرات کی مقبولیت کی علامت تھی اور ان حضرات کے تقوی و طہارت کے ثمرات تھے اور مدرسہ کی مقبولیت کا اس قدر جو اثر ساری دنیا پر ہوا یہ بھی ان ہی حضرات کی برکت تھی مقبولیت پر یاد آیا حضرت مولانا محمد یعقوب صاحبؒ نے خواب میں دیکھا کہ جنت ہے اور اس میں ایک طرج چھپر کے مکان بنے ہوئے ہیں ـ فرماتے ہیں کہ میں نے دل میں کہا کہ اے اللہ ! یہ کیسی جنت ہے جس میں چھپر ہیں جس وقت صبح کو مدرسہ آیا ـ مدرسہ کے چھپر نظر پڑے تو ویسے ہی چھپر تھے یہ زمانہ بالکل مدرسہ کا ابتدائی زمانہ تھا تب تعبیر سمجھ میں آئی کہ یہ مدرسہ کی مقبولیت دکھلائی گئی ہے ـ اس زمانہ میں نہ یہ لمبی چوڑی تعمیر تھی نہ اساتذہ ترک اور شان سے رہتے تھے نہ طلباء کا کوئی فیشن تھا پھٹے ہوئےکپڑے ٹوٹی ہوئی جوتیاں یہ ان کا ظاہری حال تھا نہ اس جدید قسم کے قواعد اور قانون تھے نہ اتنے ممبر اور محراب تھے کام جو کچھ ہوا سب کو معلوم ہے کہ کیسے کیسے با کمال لوگ فارغ ہو کر نکلے اور اب اس وقت سب کچھ ہے اور اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں وہ جو ایک چیز تھی جس کو روح کہتے ہیں وہ نہیں رہی باقی علم اور جگہ سے اب بھی بہت تھا مگر زمانہ تحریک سے وہ بھی آیا گیا ہوا اس لئے کہ طلباء کو تقریروں تحریروں اور کمیٹی جلسوں ہی سے فرصت نہیں ـ سخت افسوس ہے بعضوں کی تو یہاں تک نوبت آ گئی کہ علم دین میں مشغول ہونے کو فضول اور بیکار بتاتے ہیں ـ نہ معلوم یہ سبق کہاں سے حاصل کیا ہے ـ یورپ میں تو یہ طریقہ نہیں وہاں بھی بعض اوقات اس قسم کی تحریکات ہوتی ہیں مگر جو جماعت علم کی تحصیل میں مشغول ہے اس کو ان تحریکات میں شرکت کی اجازت نہیں دی جاتی یہیں پر دیکھ لیجئے ـ ہماری ہمسایہ قوم کس ہوشیاری اور چالاکی سے کام کر رہی ہے یہ ساری بے اصولیاں اور بد انتظامیاں مسلمانوں ہی کے حصے میں آ گئی ہیں بھیڑا چال ہے جس طرف کو ایک چلا اسی طرف کو سب چلدیتے ہیں یہ بھی کوئی کام کرنے کا طریقہ ہے کہ سب ایک ہی کام میں لگ جائیں ـ اس پر دعوی ہے سیاست دانی کا میں کام کرنے کو منع نہیٰں کرتا مگر جو کچھ بھی ہو ـ اصول کے ماتحت ہو اور حدود و احکام اسلام سے تجاوز نہ ہو ـ اور طلباء کو اس قسم کی کمیٹیوں اور جلسوں میں شرکت کی اجازت ہر گز ہر گز نہ دینا چاہیے سخت مضر ہے پرائے شگون کیلئے اپنی ناک کیوں کٹائے دیتے ہو ـ ہوش سے کام کرنے کی ضرورت ہے جوش سے اول تو کام نہیں ہوتا اور اگر ہوتا بھی ہے تو اس کی عمر بہت تھوڑی ہوتی ہے ـ کیا ان کاموں کیلئے طلباء ہی رہ گئے ہیں اور مسلمان کچھ کم ہیں ان سے کام لو اگر کرنا ہی ہے مگر سنتا کون ہے جو دماغوں میں سما گئی ہے اس کے سامنے کسی خیر خواہ کا کہنا اور نفع اور ضرر کسی کی کچھ خبر نہیں کہ آخر اس کا انجام ہے کیا بے حد دل دکھتا ہے مگر سوائے دعا کے اور کیا چارہ ہے ـ حق  رمضان المبارک 1350ھ مجلس خاص بوقت صبح سہ شنبہ