ایک سلسلہ میں فرمایا کہ مرید ایسے شخص کو کرے کہ پیر کم از کم اس کو نالائق گدھا احمق تو کہہ سکے اور ان امراء و سلاطین کو مرید کر کے ایسا نہیں کر سکتے اس لئے مرید کر کے ان کی اصلاح کرنا بھی دشوار ہے بلکہ ان امراء کا تو پیر بننا بھی خطرہ سے خالی نہیں سلطان عبدالحمید خان مرحوم کے پیر کا واقعہ سنا ہے کہ کسی مخبر نے سلطان کو ایک پرچہ سے جس کو اسوقت کمرہ خاص کے لیٹربکس میں ڈالا جاتا تھا خبر دی کے پیر صاحب اسوقت سفیر روس کے پاس بیٹھے ہیں اور یہ وہ وقت تھا کہ پیر صاحب سلطان کے پاس موجود تھے اس لئے واقعہ کا جھوٹ ہونا ثابت ہو گیا اور بچ گئے ورنہ بیچاروں کی خیر نہ تھی البتہ بعض امراء باطنا فقیر ہوتے ہیں وہ اس سے مستثنی ہیں جیسے نواب ٹونک کا واقعہ ہے یہ سیدھا صاحب سے بیعت تھے حضرت سید صاحب کی بیوی آئیں نواب صاحب نے ایک منزل پر پہنچ کر پیرانی صاحبہ کا استقبال کیا اور ایک طرف سے کہا کو پالکی میں سے ہٹا کر خود پالکی کو کندھا دے کر لائے ان یہ نواب صاحب نے سفارش قبول کرنے سے کچھ عزر کیا انہوں نے نواب صاحب کے ایک دھول بھی اڑ گئی مگر کچھ نہیں بولے جب دربار ختم ہو چکا تو تنہائی میں پیر بھائی سے یہ بات کہی کہ ویسے تو اگر سر بازار میرے جوتے بھی لگا دو تو تم کو حق ہے مگر دربار میں ایسا کرنا مناسب نہیں اس لئے کہ خدمت خلق میرے سپرد ہے اور اس کے لئے ھیبت کی ضرورت ہے اور ایسی بات ہیبت میں مضر ہوگی کیا ٹھکانا ہے اس کسر نفسی کا سوا ایسے لوگ امراء کب ہیں یہ کامل مکمل فقراء ہیں میں ایک مرتبہ بھوپال گیا ہوا تھا بیگم صاحبہ سے ملاقات کرانے کی بعض احباب نے کوشش کرنا چاہا مجھ کو پسند نہ مگر انکار موھم کبر تھا بس میں نے صرف ایک شرط لگائی وہ یہ کہ بیگم صاحبہ کو خود بولنے کی اجازت نہ ہوگی اپنے بیٹے کے ذریعے سے گفتگو کریں یہ شرط ملاقات کے لئے ایسی تھی جیسے حتی یلج الجمل فی سم الخیاط ان کی نظر میں تو یہ شرط اچھی خاصی بد تہزیبی کی دلیل تھی مگر ان امراء کی نظر میں مردود ہی رہنا چاہیئے اسی میں خیر ہے ـ
12 ذی الحج 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم پنجشنبہ
