ملفوظ 196: قوت ایمانی کے کرشمے

ملفوظ 196: قوت ایمانی کے کرشمے ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت دین کے اندر بھی ہمت اور قوت کی ضرورت ہے ؟ فرمایا بڑی ضرورت ہے مگر چند ہی روز تعب ہوتا ہے پھر سہولت ہو جاتی ہے اور سہولت کے بعد بھی اجر اس ہی مشقت کی حالت کا ملتا رہتا ہے پھر قوت کی بھی قسمیں ہیں اس تقسیم قوت پر یاد آیا کہ ـ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر جو فضیلت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو ہے اس فضیلت کے اسباب میں سے ایک سبب قوت بھی ہے چنانچہ وہ قوت اس طرح ظاہر ہوئی کہ باوجود اس کے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شان قوت دینیہ کی ظاہر ہے مگر جس وقت مانعین زکوۃ نے زکوۃ دینے سے انکار کیا اور نصوص وجوب زکوۃ میں تاویل کی تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان ( مانعین زکوۃ ) سے جہاد کی تیاری کی یہ ایسا وقت تھا کہ ادھر تو حضورؐ کی وفات کو زیادہ زمانہ نہ گزرا تھا ادھر تمام لشکر اسلامی دوسرے مقامات پر جہاد کیلئے گئے ہوئے تھے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اس ارادہ سے تمام صحابہ میں ہلچل پڑ گئی اور حضرت عمر رضی اللہ کی رائے بھی اس کے خلاف تھی کہ یہ وقت ان لوگوں سے جہاد کا نہیں مگر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر مدینہ سب خالی ہو جائے اور کوئی بھی میرا ساتھ نہ دے تب بھی میں اکیلا جہاد کروں گا ـ اور زکوۃ بدوں وصول کئے نہیں رہ سکتا ـ جو چیز حضور کے زمانہ میں جاری تھی اس کو بند نہیں کرنے دوں گا ـ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بھی رائے بدل گئی یہاں پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی قوت قلبی کا اندازہ ہو سکتا ہے مصالح کی بھی پرواہ نہیں کی اور زکوۃ وصول کی ـ سب ڈھیلے پڑ گئے اور اس ہمت سے تمام عرب پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا رعب اور ہیبت چھا گئی کہ ایک دم سے سب کام شروع کر دیئے اور لشکروں کو چاروں طرف منتشر کر دیا معلوم ہوتا ہے ان کے پاس مقامی فوجی قوت بہت زیادہ ہے ورنہ کوئی بے وقوف سے بیوقوف بھی اپنی قوت کو منتشر نہیں کر سکتا تو اس سے رعب چھا گیا ـ

قوت کی ایک اور حکایت سنئیے ! اعلاء بن حضرمی ایک صحابی ہیں جس وقت اسلامی لشکر لے کر بحرین کو روانہ ہوئے ہیں درمیان میں سمندر حائل تھا کنارے پر پہنچ کر سب نے رائے دی کہ کشیوں کا انتظام کیا جائے انہوں نے فرمایا کہ خلیفہ رسول اللہ ؐ نے تاکید فرمائی تھی کہ کہیں ٹھہرنا نہیں میں ٹھہر نہیں سکتا ابھی جاؤں گا اور حق تعالی سے دعا کی کہ اے اللہ ! آپ نے موسیؑ کو سمندر میں راستہ دیا تھا ہم نبی محمد رسول اللہ ؐ کے غلام ہیں ہم کو بھی سمندر میں راستہ دیدیجئے یہ کہہ کر سمندر میں گھوڑا ڈال دیا پھر تو سب ساتھ ہو لئے اور صاف سمندر سے پار ہو گئے دیکھنے کے قابل بات یہ ہے کہ اس پر اطمینان کس قدر تھا خطرہ تک اس کے خلاف کا قلب پر نہیں گزرا ـ کیا ٹھکانہ ہے قوت ایمانیہ کا کون ان حضرات کی ریس کر سکتا ہے ـ آجکل باتیں بگھارتے پھرتے ہیں ـ پہلے ان جیسا ایمان تو اپنے اندر پیدا کر لیں نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ ہیبت چھا گئی تمام بحرین پر کہ یہ آدمی ہیں یا فرشتے ـ قوت وہ چیز ہے ـ