خواب اور تعبیر فرمایا ! کہ مجھ کو تعبیر خواب سے بالکل مناسبت نہیں نیز اس لئے دل چسپی بھی نہیں کہ خواب واقعات کا اثر ہے نہ یہ کہ واقعات خواب کا اثر ہوں ـ خواب حقیقت میں ایک قسم کی حکایت ہے جو محکی عنہ کو چاہتی ہے خواب کی مثال مجاذیب کی پیشین گویاں ہیں کہ واقعات کی خبر ہوتی ہے واقعات ان کا اثر نہیں ہوتے ـ البتہ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحبؒ کو بہت مناسبت تھی لیکن اگر اول وہلہ میں ذہن منتقل نہ ہوا تو تکلف نہ فرماتے تھے اور یہی معمول درسیات میں بھی تھا ـ خود فرمایا کرتے تھے کہ کتاب کا مقام اگر اول وہلہ میں سمجھ میں آ جائے تو آ جائے ورنہ میں مایوس ہو جاتا ہوں اور ایسے موقع پر بہت مرتبہ اثناء درس فرما دیتے تھے کہ بھائی اس مقام میں شرح صدر نہیں ہوا ـ بعض مرتبہ تو ماتحت مدرسین سے ان کے حلقہ درس میں تشریف لے جا کر دریافت فرما لیا کرتے تھے کہ یہ مقام سمجھ میں نہیں آٰیا ـ اس کی قتریر کر دیجئے جو مطلب وہ مدرس بتاتے اس کو آ کر نقل فرما دیتے تھے کہ فلاں صاحب نے اس کا یہ مطلب بیان فرمایا ہے ـ اللہ اکبر کیا ٹھکانہ ہے اس بے نفسی کا ـ آج تو کوئی کر کے دکھلائے بڑے بڑے دعویدار موجود ہیں ـ اسی طرح حضرت مولانا کو باوجود یکہ فن تعبیر سے بہت مناسبت تھی لیکن اس پر بھی بعض مرتبہ صاف عذر فرما دیتے تھے کہ سمجھ میں نہیں آیا ـ گزشتہ علماء میں تعبیر سے حضرت شاہ عبدالعزیز صاحبؒ کو بہت زیادہ مناسبت تھی اور حضرت ابن سیرین تابعی ہیں وہ اس میں بہت زیادہ کمال رکھتے تھے ـ بعض کو فن تعبیر فطری مناسبت ہوتی ہے اس میں بزرگی شرط نہیں حتی کہ اسلام بھی شرط نہیں ـ چنانچہ علماء نے ابو جہل کو بھی معبرین کی فہرست میں شمار کیا ہے ـ فرمایا کہ ایک شخص نے حضرت شاہ عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ سے اپنا خواب بیان کیا کہ میں نے دیکھا ہے کہ میں جبریل عم کی زبان پر نماز پڑھ رہا ہوں فورا فرمایا کہ تمہاری جا نماز کے نیچے معلوم ہوتا ہے قرآن شریف کی کوئی آیت پڑی ہوئی ہے ـ قرآن شریف لسان جبریل ہے ـ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحبؒ سے ایک شخص نے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میری گود میں ایک بہت وزنی لڑکی ہے اور میں ثقل کی وجہ سے اس کو کہیں رکھنا چاہتا ہوں ایک کتیا نظر آئی اس کا پیٹ چاک کرکے اس لڑکی کو اس میں رکھ دیا ـ وہ کتیا میرے ساتھ ہو لی چونکہ میری لڑکی اس کے پاس ہے میں بار بار اس کو مڑ مڑ کر دیکھتا ہوں ـ اور یہ اندیشہ ہے کہ یہ کہیں چل نہ دے تھوڑی ہی دور چلا تھا وہ کتیا غائب ہو گئی ـ مولانا نے فرمایا کہ میری سمجھ میں تعبیر نہیں آتی ـ پھر دوسرے وقت آنا اگر سمجھ آ گئی بیان کر دوں گا ـ وہ شخص دوسرے وقت آیا کہ نماز میں قلب پر تعبیر وارد ہوئی کہ تم کو شہوت کا تقاضہ ہوا ہے تم نے کسی بازاری عورت سے منہ کالا کیا اس کو لڑکی کا حمل ٹھہرا لڑکی پیدا ہونے سے تم کو اس سے تعلق زائد ہوا پھر اس نے بے وفائی کی ـ سبحان اللہ ! ان حضرات کے کیسے علوم تھے اب سن کر تو تعبیر کی مناسبت سمجھ میں آتی ہے لیکن ابتداء تو شاید ہی ہے کہ ذہن کی رسائی وہاں تک ہوتی ـ
