ایک استفتاء آیا تھا اس کے جواب کے سلسلہ میں فرمایا کہ یہ بات قابل لحاظ ہے کہ جواب میں گو ضرورت وقت کی رعایت سہی مگر اس کے ساتھ ہی ایسا ہو کہ جس سے احکام نہ بدلیں ، آج کل اس کی رعایت نہیں کی جاتی میں الحمد للہ تعالی ہمیشہ ہر جواب میں اس کی رعایت رکھتا ہوں فتوی کا کام بھی بڑا ہی نازک ہے اس سے میرا دل بہت ڈرتا ہے اور میں اکثر لوگوں کو اس ہی میں زیادہ بے باک دیکھتا ہوں ۔
