ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب فرمایا کرتے تھے کہ جوتا روشن دماغ ہے اس سے بڑی جلدی فیصلہ ہو جاتا ہے ۔ جوتے پر ایک حکایت یاد آ گئی مولانا شیخ محمد صاحب کے ایک خلیفہ تھے ۔ مولوی رحم الہی صاحب منگلوی پڑوسی ان کو ستایا کرتے تھے ۔ چنانچہ ان کے مکان کے سامنے ایک چوک ہے مشترک اس میں چند مفسدین نے جمع ہو کر ناچ کی تجویز کی اور شامیانہ وغیرہ سب سامان مہیا کیا ۔ ایک طوائف نے آ کر ناچنا شروع کیا ، مولوی صاحب کا راستہ مسجد جانے کا وہی تھا ، نماز کو جاتے ہوئے تو مولوی صاحب نے بمشکل ضبط کر لیا مگر واپسی میں جب تحمل نہ ہو سکا جوتا ہاتھ میں لے کر اور تمام مجمع کے اندر گھس کر اس عورت کے سر پر بجانا شروع کیا مگر کوئی کچھ بولا نہیں اس لیے کہ بزرگوں کی ہیبت خدا داد ہوتی ہے مگر ظاہر ہے کہ اس مارنے کی کوئی وجہ قانونی تو تھی ہی نہیں ۔ نیز فقہاء نے بھی لکھا ہے کہ علماء کا کام زبان سے روکنے کا ہے اور حکام کا کام ہاتھ سے روکنے کا تو اس بناء پر مفسدین بے حد برہم ہوئے اور اس عورت کو بہت زیادہ اشتعال دیا کہ تو دعوی کر ہم سب شہادت دیں گے ہم روپیہ صرف کریں گے ۔
اس عورت نے کہا کہ روپیہ تو خود میرے پاس بہت ہے اور تم شہادت کو تیار ہو مگر مجھ کو ایک خیال دعوی سے مانع ہے وہ یہ کہ میں سوچتی ہوں کہ اس شخص کے اندر اگر دنیا کا ذرا بھی نام و نشان ہوتا تو مجھ پر اس کا ہاتھ ہر گرز نہ اٹھتا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ اللہ والا ہے سو اس کا مقابلہ حق تعالی کا مقابلہ ہے میری اتنی ہمت نہیں ۔ دیکھئے یہ ایک بازاری عورت کا بیان ہے پھر یہاں تک یہ اثر بڑھا کہ وہ عورت مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میں تائب ہوتی ہوں کسی بھلے آدمی سے میرا نکاح کر دیا جائے ۔ واقعی ان حضرات کی تو جوتیوں میں بھی برکت ہے ۔ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب کا فرمانا کہ جوتا روشن دماغ ہوتا ہے بالکل صحیح ہے غیر محصن زانی کے متعلق حکم ہے کہ سو درے لگاؤ اس سے دماغ درست ہو جاتا ہے اور اسی حکم کے ساتھ یہ بھی ارشاد ہے کہ خدا کے معاملہ میں رحم نہ ہونا چاہیے ، مؤمنین کو اور اس عدم ترحم کو شرط ایمان فرمایا :
ان کنتم تؤمنون باللہ و الیوم الاخر
حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب تو طلباء کو پیٹتے وقت بڑی ہی ظرافت سے کام لیا کرتے تھے ، پٹنے والا کہتا کہ حضرت اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے واسطے معاف کر دو ، فرماتے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہی نے حکم دیا ہے کہ ایسے شریروں کی خوب ڈنڈوں سے خبر لو ، میں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہی کے واسطے مارتا ہوں اور حضرت مولانا نے ایک بار فرمایا کہ یہ بھی سنت اللہ ہی ہے کہ ایک کرے سب کو پیٹو ۔ چنانچہ قحط وباء عام ہوتا ہے اور واقع میں کرنے والے بھی سب ہی ہوتے ہیں ۔ مثلا قدرت ہوتے ہوئے نہ روکنا و مثل ذلک مگر ظاہر کے اعتبار سے یہ فرما دیا کہ ایک کرے اور سب کو سزا ہو پھر اس کی ظاہری تائید میں مولانا نے ایک حکایت فرمائی کہ عالمگیر کے زمانہ میں روزانہ بازار والوں میں اور فوج والوں میں لڑائی ہوا کرتی ، مقدمہ ہوتا ، زیادہ تر فوج والوں ہی کو سزا ہوتی ، جیل خانہ پر ہو گیا ، بادشاہ کو اطلاع ملی کہ یہ صورت ہے اور روزانہ ایسا ہونے لگا ہے ، حکم دیا کہ اب کے جو ایسا معاملہ پیش آئے ہمارے پاس بھیج دو ، چنانچہ اگلے ہی روز ایک معاملہ پیش آیا ، عالمگیر کے یہاں بھیج دیا گیا ، عالمگیر نے فوجیوں کے ساتھ آس پاس جو بازار والے تھے ان کو بھی سزا دی ، بس پھر کوئی مقدمہ نہ آیا اس کی وجہ عالمگیر نے یہ فرمائی کہ پہلے بازار والے تماشا دیکھتے تھے نہ چھوڑاتے تھے نہ منع کرتے تھے ایک مشغلہ بنا لیا تھا ۔ اب جہاں باہم تیزی سے گفتگو ہوئی تمام بازار والے منع کرنے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ ایسا مت کرو ہم سب پھنسیں گے ۔ بس سمجھا دیتے ہیں لڑائی نہیں ہونے پاتی اور یہ تو معمولی جزئی انتظامات ہیں باقی مکمل اور کلی انتظام خلفاء اور فقہاء نے کر کے دکھلا دیا جس کو مخالفین بھی مانتے ہیں ۔ چنانچہ ایک انگریز نے لکھا ہے کہ حنفی فقہ میں ایک خاص امتیازی شان ہے کہ اگر بڑی سے بڑی سلطنت کا انتظام اس کے موافق کیا جائے تو کہیں اس کا کوئی کام نہیں رک سکتا بلکہ بہت اچھی طرح سلطنت چل سکتی ہے ۔ ایک حاکم انگریز نے اپنے مسلمان سرشتہ دار سے کہا کہ ہماری ایک بڑی جماعت منتظمین کی ڈیڑھ سو برس میں وہ انتظام نہیں کر سکی جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے تیرہ چودہ برس میں کر دیا ۔ اس پر اس سرشتہ دار نے کہا کہ اب تو مانو گے کہ ان کے ساتھ تائید غیبی تھی اس نے کہا تائید غیبی کیا ہوتی ہے ان کو عقل بہت بڑی دی گئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ عقل کے اسی درجہ کا نام تائید غیبی ہے ۔ دیکھئے یہ شہادت ہے مخالفین کی اور یہ با وقعت اس لیے ہے کہ جاننے والے کی شہادت ہے اور جاننا وہ چیز ہے کہ ساحر ان موا سے معجزہ دیکھ کر ایمان لے آئے اور فرعون ایمان نہیں لایا اس لیے کہ وہ سمجھتے تھے کہ سحر کی حقیقت کیا ہے اور اس سے آگے قوت بشریہ کام نہیں دے سکتی ۔ اسی طرح اہل تمدن کا قول حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نسبت معتبر ہے اور لطف یہ ہے کہ ان حضرات کو کبھی ایسے امور کا تجربہ بھی نہ ہوا تھا ۔ چنانچہ خلافت سے پہلے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ بزازہ کا کام کرتے تھے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بکریاں چرایا کرتے تھے ان میں سلطنت کی اہلیت پیدا کب ہو گئی جن کے مقابلہ میں ہرقل اور کسری سب ماند تھے ۔ یہ سب سردار کونین جناب رسول مقبول صلی اللہ علیہ و سلم کی برکت تھی جس نے ایک دم کایا پلٹ کر دی
