ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہمارے اکابر اہل بدعت کی مذمت میں بھی غلو نہیں فرماتے کیونکہ یہ اہل بدعت اگر اپنے علماء کے کہنے سے غلطی اور دھوکہ میں ہیں تو معذور ہیں ۔ اللہ تعالی معاف فرما دیں گے اور اگر قصدا ایسا کرتے ہیں تو مواخذہ فرمائیں گے ہم کیوں اپنی زبان گندی کریں اس لیے اپنے بزرگوں کو کچھ زیادہ کہتے ہوئے یا لکھتے ہوئے نہیں دیکھا ، پھر فرمایا کہ میں تو کہا کرتا ہوں اگر میرے پاس دس ہزار روپیہ ہو سب کی تنخواہ کر دوں پھر دیکھو خود ہی سب وہابی بن جاویں ۔ اہل باطن کے پاس روپیہ وافر ہے اس کے لالچ میں ان کی خواہشوں کی موافقت کرتے ہیں ۔ اہل حق بیچاروں کے پاس روپیہ کہاں مگر اس پر بھی ان کو شب و روز ” ان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا ” کا مشاہد ہوتا ہے ۔
