( ملفوظ 125 ) حاکم کی عقلمندی اور لطیف تدابیر

فرمایا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے حکم فرمایا تھا کہ بازار میں تجارت کے لیے وہ بیٹھے جو فقیہ ہو ، مطلب یہ تھا کہ جتنے آ کر اس سے خریدیں گے چونکہ ان سب کو خرید و فروخت کے معاملات ایسے لوگوں سے پڑیں گے تو وہ سب کے سب بھی فقیہ ہو جائیں گے ۔ اس تدبیر سے سارے ملک کو درسگاہ اور خانقاہ بنا دیا تھا ۔ بڑی لطیف تدبیر تھی حکومت سے سب کام سہولت سے بن سکتے ہیں اس کی تائید میں حکایت بیان فرمائی کہ عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ نے طلباء کو پریشان دیکھ کر قصد کیا کہ ان کا کہیں ٹھکانا کریں اور بیت المال پر بار نہ ہو ۔ ایک روز بیٹھے ہوئے حوض پر وضو کر رہے تھے ایک رئیس بھی وہاں پر موجود تھے ان سے امتحانا ایک مسئلہ دریافت کیا ، وہ بیچارے مسئلہ کیا بتلا سکتے وہ کیا جانیں کہ مسئلہ کیا چیز ہے نہ بتا سکے ۔ عالمگیر بہت خفا ہوئے کہ شہر میں اس قدر اہل علم اور طلباء موجود ہیں تم سے یہ نہیں ہوتا کہ ان سے مسائل پوچھ پوچھ کر یاد کر لیا کرو ۔ اسی روز تمام امراء میں کھلبلی مچ گئی ۔ اہل علم اور طلباء کی قدر ہو گئی ، ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایک ایک کو اپنے یہاں رکھ لیا ، حکومت کا یہ اثر ہوتا ہے ۔ اسی سلسلہ میں فرمایا یہ جو مشہور ہے کہ وزیر عاقل ہونا چاہیے گو بادشاہ بے وقوف ہو ۔ محض غلط ہے ، بادشاہ ہی کا عاقل ہونا ضروری ہے ورنہ بادشاہ کو وزیر کا تابع ہو کر رہنا پڑے گا تو اس صورت میں وزیر بادشاہ اور بادشاہ وزیر ہو گا ۔ فرمایا کہ بادشاہ کے بیوقوف اور وزیر کے عاقل ہونے پر مولانا فخرالحسن صاحب گنگوہی کا لطیفہ یاد آیا ۔ ایک مرتبہ کہا کہ اگر مجھ کو سلطنت مل جائے تو حضرت مولانا محمد قاسم صاحب کو وزیر بناؤں اور حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب کی نسبت کہا کہ ان کو جرنیل بناؤں غرضیکہ سب کے عہدے تجویز کرنے کے بعد کہا کہ میں بادشاہ بنوں ۔ ایک صاحب نے کہا کہ یہ کیا کہ حضرت مولانا کو تو وزیر اور خود کو بادشاہ تجویز کیا ، کہا کہ میاں بادشاہ تو بیوقوف ہوتا ہے اور وزیر عاقل اس لیے بادشاہ ہونا میں اپنے لیے پسند کرتا ہوں اور مولانا کو وزیر تجویز کیا ہے ۔