( ملفوظ 124 )نری تحقیقات بیکار ہیں

فرمایا کہ بعض لوگوں کو تحقیقات کا بہت شوق ہوتا ہے ، وقت بیکار کھوتے ہیں کام میں لگنا چاہیے ، محض تحقیقات سے کیا ہوتا ہے ، زیادہ سے زیادہ تحقیقات سے فن کی تدوین ہو جائے گی مگر نتیجہ کچھ نہ ہو گا ۔ اگر آدمی کام کرے تو تحقیق بھی خود ہو جاتی ہے بلکہ ایک خاص بات یہ مشاہد ہے کہ جو شخص کام نہ کرے وہ سوال بھی نہیں کر سکتا ۔ سوال بھی کام کرنے والا ہی کر سکتا ہے تو وہ تحقیقات ہی کرے گا ۔ دوسری بات یہ ہے کہ کام کرنے والے کے سوال پر جو جواب ہو گا پھر اس کو اس پر شکوک وارد ہوں گے پھر ان شکوک کے جواب کی ضرورت ہو گی ۔ بس وہ اسی کام کا ہو رہے گا اور کام کرنے والے کو جواب ملے گا اس میں شبہ اس واسطے نہیں ہو سکتا کہ اس کو حالت مشاہد ہو گی وہ تکذیب کر نہیں سکتا بخلاف کام نہ کرنے والے کے صرف قال ہی قال ہے حال نہیں اس لیے اس کو شکوک پیش آئیں گے غرض بغیر کام کیے ہوئے تحقیق سے اور خلجان بڑھتا ہے ۔