( ملفوظ 112 )حاکم نہ ڈھیلا ہو نہ ڈھیلا

ایک مولوی صاحب کے جواب میں فرمایا کہ میں کب کہتا ہوں کہ بادشاہ کو ڈھیلا یعنی حد سے زیادہ نرم ہونا چاہیے ، میں تو یہ کہتا ہوں کہ ڈھیلا بمعنی کلوخ یعنی زیادہ سخت نہ ہونا چاہیے ، بادشاہ کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسا بن کر رہنا چاہیے ۔ حق تعالی سے ہیبت کرنے میں خاص اثر ہوتا ہے کہ اس کی ہیبت دوسروں کے قلب میں ہوتی ہے ۔ مولانا فرماتے ہیں:

ہر کہ تر سید از حق و تقوی گزید ترسد ازوے جن و انسان ہر کہ دید
اور فرماتے ہیں :

ہیبت حق است ایں از خلق نیست ہیبت آں مرد صاحب دلق نیست

( جس نے تقوی اختیار کیا اور اللہ سے ڈرتا رہا اس کی ہیبت جن انسان بلکہ جو اس کو دیکھتا ہے سب پر ہوتی ہے ، یہ ہیبت حقیقت میں حق تعالی کی ہوتی ہے اس مخلوق کی یا اس گدڑی والے کی نہیں ہوتی ۔ 12 )