خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت جن صاحب کو حکیم صاحب کے سپرد کیا گیا تھا انہوں نے حکیم صاحب سے رجوع کر لیا ہے وہ یہاں پر آئے ہوئے ہیں ، آج وہ وطن واپس جا رہے ہیں ۔ حضرت سے معلوم یہ کرنا ہے کہ جن لوگوں کو مکاتبت مخاطبت کی اجازت نہیں وہ جانے کے وقت حضرت سے مصافحہ کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ فرمایا کہ علت تو اذیت ہے مصافحہ میں کون سی اذیت ہے ہاتھ ملایا چل دیئے مکاتبت مخاطبت میں گڑبڑ کرتے ہیں اس سے تکلیف ہوتی ہے میرے یہاں الحمد للہ ہر چیز حد پر ہے ۔
میں تو کہا کرتا ہوں کہ جو لوگ مجھ کو سختی میں بدنام کرتے ہیں وہ خدا کو تو کیا پہچانیں گے جب بندوں ہی کو نہیں پہچانتے ان کو یہی خبر نہیں سختی کیا چیز ہے فرمایا کہ قدسی صاحب میرے پاس بیٹھے تھے وہ اس وقت مریض تھے میں ایک شخص کو ان کے سامنے ڈانٹ رہا تھا ، فورا ان کی حالت کی طرف ذہن منتقل ہوا ، میں نے ان سے پوچھا کہ اس سے آپ کو تو کوئی تکلیف نہیں ہوئی ، کہا کہ مرعوب ہو رہا ہوں ، میں نے کہا آپ تو مرغوب ہیں مرغوب کو مرعوب نہ ہونا چاہیے بس خوش ہو گئے ، میں نے کہا کہ آئندہ انشاء اللہ آپ کے سامنے کبھی کسی کو کچھ نہ کہوں گا ۔
