ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حیدر آباد دکن گیا تھا ، بعض مخلص احباب نے مجھ سے اجازت لی کہ ہم نواب صاحب سے ملاقات کرانے کی کوشش کریں مگر میں نے یہ سمجھ کر کہ چونکہ سلاطین میں سے ہیں اس لیے تو ان کو تو نفع نہ ہو گا اور جو ہم کو ان سے نفع ہو سکتا ہے وہ بقدر ضرورت اللہ نے ہم کو بھی دے رکھا ہے اس ملاقات کو پسند نہیں کیا اس لیے میں احتیاط کرتا ہوں کہ بڑے دنیاداروں کو میں مرید نہیں کرتا ۔ ایک ہندی مقولہ مشہور ہے کہ حاکم کی اگاڑی اور گھوڑے کی پچھاڑی سے الگ ہی رہنا بہتر ہے ۔ گھوڑا پیچھے سے لات مارتا ہے بادشاہ آگے سے ہاتھ مارتا ہے ۔
