خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت گھر میں عورتیں بھی آتی ہوں گی ان پر بھی بے اصول باتوں پر ڈانٹ ڈپٹ ہوتی ہو گی ، فرمایا کہ پرسوں ہی کا واقعہ ہے کہ چند عورتیں گاؤں کی آئی تھیں ، وہ کچھ کپڑا ساتھ
لائی تھیں ، انہوں نے گھر میں دینا چاہا گھر میں سے کہا کہ بدون ان کی اجازت کے میں نہیں لے سکتی ، ایک ان میں سے بولی کہ مولوی جی
تھوڑا ہی گٹھری کو کھول کر دیکھیں گے انہوں نے ڈانٹا اور کہا کہ کیا واہیات ہے میں بغیر ان کی اجازت کے ایسا کب کر سکتی ہوں ۔ خبردار ! جو ایسی بیہودہ فرمائش کی سو ان کو بھی ضرورت پڑی ڈانٹنے کی وہ سب عورتوں کی بڑی سفارش کیا کرتی تھیں ، جب اپنے پر پڑی تو وہی کیا جو میں کرتا ہوں اور میرا معاملہ تو گھر والوں کے ساتھ بھی ان باتوں میں وہی ہے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر
والوں کو فرمایا تھا کہ پہلے تم عمر کے اقارب تھے اور اب امیرالمؤمنین کے اقارب ہو ، لوگوں کی نظر تمہارے افعال پر ہو گی ، اگر تم نے
کچھ فروگذاشت کی تو تم کو اوروں سے دگنی سزا دوں گا ۔
