ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مخاطب پر حق کا اثر ہوتا ہی ہے حتی کہ اگر غصہ بھی حق پر ہو اور بالکل حق پر تو مخاطب کو اس
میں ندامت ہوتی ہے ۔ اگر اس کے خلاف ہو تو گو کلیہ نہیں مگر احتمال غالب یہ ہوتا ہے کہ اس غصہ میں ضرور کچھ آمیزش ہے باطل کی ۔ میں نے اس کا تجربہ کیا ہے ۔ مثلا کسی کو نمازی نماز کی نصیحت کرے تو اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ محض اللہ کے واسطے تبلیغ کی اور
اور اس کی ہمدردی اور خیر خواہی مقصود ہے تو اس کا اثر تو اور ہو گا اور ایک یہ کہ اس کی تحقیر مقصود ہے اور اپنی بڑائی اور اپنے کو نمازی
سمجھ کر اس سے افضل سمجھ رہا ہے اس وقت کا کچھ اور اثر ہو گا ۔
یکم شوال المکرم 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح نماز عید الفطر یوم سہ شنبہ
