فرمایا کہ آج نماز عید میں بدتمیزی کا طوفان نہ تھا ، صرف موج تھی کیونکہ تھوڑی سی فوج تھی ۔ 27 رمضان المبارک یعنی آخری جمعہ کے روز تو لوگوں نے نہایت ہی گنوار پن سے کام لیا ۔ بھلا اگر میرے مزاج میں سختی ہوتی تو آج میں نے سختی کا کیوں نہ برتاؤ کیا ۔ خدانخواستہ کوئی مجھ کو جنون تھوڑا ہی ہے کہ ویسے ہی لوگوں کے سر ہوتا پھروں ، جب کوئی بے اصولی اور بے ڈھنگا پن اختیار کرتا ہے ایسا برتاؤ کرتا ہے مجھ کو بھی تغیر ہو جاتا ہے اس پر معترضین اہل الرائے میرے کہنے سننے کو تو دیکھتے ہیں مگر لوگوں کی حرکات کو نہیں دیکھتے
کہ آخر انہوں نے بھی کچھ کیا ہے یا نہیں ؟ ان کی نالائق حرکتوں کو نظر انداز کر کے اور میری دارو گیر کو پیش نظر رکھ کر مجھ پر سختی کا فتوی دیتے ہیں یہ انصاف ہے اور یہ ہیں فیصلہ کرنے والے مگر خیر خوب فتوی دیں اور مجھ کو بدنام کریں مجھ پر بحمد اللہ ان باتوں کا کوئی اثر نہیں اور نہ میں اصول صحیحہ کو کسی کی وجہ سے چھوڑ سکتا ہوں میں تو اس سے بھی خوش ہوں کہ ان بدفہموں کو تنبیہ سے تکلیف پہنچی ، انہیں معلوم تو ہو کہ کسی بے خطا آدمی کو ستانے پر یہ گت بنا کرتی ہے ۔
