( ملفوظ 91 )نماز اور خطبہ میں لوگوں کی راحت کا خیال رکھنا

ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت خطبہ نہایت اختصار سے پڑھا گیا ہے اور دنوں میں جمعہ کا جیسا خطبہ پڑھا جاتا ہے آج بھی اس قدر پڑھا گیا ، زیادہ وقت صرف نہیں ہوا ۔ فرمایا کہ میں نے جو مجموعہ خطب لکھا ہے اس میں کوئی خطبہ سورہ مرسلت سے بڑا نہیں اور سنت بھی یہی ہے کہ نماز لمبی ہو اور خطبہ میں اختصار ہو مگر آج کل کےامام کہیں اس کو نہ سن لیں کہ نماز لمبی ہو جیسے ایک شخص نے امام بن کر روڑکی میں جمعہ کی نماز پڑھائی تھی ، گرمی کا زمانہ تھا ، لوئیں چل رہی تھیں ، فرش تپ رہا تھا اور امام صاحب نے لمبی سورتیں شروع کر دیں ، بعد نماز لوگوں نے کہا کہ میاں یہ کیا کیا لوگ تو بہت پریشان ہوئے ، فرماتے ہیں کہ ذرا سی گرمی میں گھبرا گئے اور وہاں دوزخ میں کس طرح رہو گے ، کم بخت سب کو دوزخ ہی میں بھیجنے کو پھرتا تھا ، اللہ بچائے جہل سے جہل کی بھی کوئی حدود نہیں ۔ فرمایا ایسا ہی واقعہ کانپور کا ہے ، ایک صاحب آ گئے اور یہ کہا کہ آج جمعہ کی نماز میں پڑھاؤں گا ، غرض نماز پڑھائی ، لمبا خطبہ ، لمبی نماز ، لوگ گرمی کی وجہ سے پریشان ہو گئے حتی کہ ایک شخص کو گرمی سے قے ہو گئی ، ایک اور لطیفہ ہوا بلکہ کثیفہ کہنا چاہیے ایک
شخص نے اسی روز نماز شروع کی تھی اور اول جمعہ ہی کی نماز پڑھنے آیا تھا ، نیت توڑ کر چل دیا اور یہ کہتا ہوا کہ اسی واسطے تو میں نماز نہیں پڑھا کرتا ۔ اس جمعہ کو تو تمام شہر میں کھلبلی پڑ گئی تھی اور جن حضرت نے پڑھائی تھی صاحب سلسلہ کے بزرگ تھے ، بزرگی اور
چیز ہے فہم اور چیز ہے لمبے خطبے پڑھنے کا سبب یہ ہے کہ ذرا لوگ سمجھیں کہ بڑے کوئی عالم ہیں ۔ یہ ایک مرض ہے جس کو وہ حب جاہ کہتے ہیں ۔ فرمایا کہ نماز تو حضرت مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ پڑھاتے تھے ، ایسی ہلکی پھلکی کہ ذرہ برابر مقتدیوں پر گرانی نہ ہو حضرت تو صبح کی نماز میں ” اذالشمس ” “اذا السماء انفطرت ” سورہ بروج پڑھا کرتے تھے ، ضرورت ہے اس کی کہ لوگوں کی راحت کا خیال رکھا جائے ۔